Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

میر تقی میر آگرے میں پیدا ہوئے۔ آپ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ آپ کی غزلوں میں انسانی جذبات ، درد و غم ، خود داری ، توکل ، قناعت پایا جاتا ہے۔ آپ کے علمی سرمائے میں چھ دیوان ، اردو شعرا کا ایک تذکرہ ، متعدد مثنویاں ، مرثیے ، ایک سوانح حیات اور ایک فارسی دیوان شامل ہے۔ میر تقی میر کا سارا کلام کلیاتِ میر کی شکل میں موجود ہے۔

Advertisement
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ انسان دو مختلف معیارات پر زندگی گزارتا ہے۔ جب اسے شاہی مل جائے، بلندی و عروج مل جائے۔ اسے مال و ثروت میسر ہو تو وہ عموماً غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اس بہترین زندگی کا یوں عادی بن جاتا ہے کہ اس کے تصورات میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ یہ خوشی و شادمانی کا دور ہمیشگی کا ہے۔ وہ اس بات سے غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی کہ کون بندہ میرا شکر گزار ہے۔ پھر کوئی تبدیلی رونما ہو تی ہے جس سے وہ مال و ثروت انسان سے جاتا رہتا ہے۔ انسان کی صحت بھی پہلے جیسی اچھی نہیں رہتی اور وہ شاہانہ زندگی کا دور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس پر جو مفلسی حملہ آور ہوتی ہے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دنیا امتحان گاہ ہے انسان اسے اپنی منزل بنا لیتا ہے پھر اسے نقصان کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

Advertisement
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ یہ دنیا ایک خواب کی سی زندگی ہے۔ یہاں انسان امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔ انسان کو یہاں اپنے اگلے جہاں کی تیاری کرنےکا وقت دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ وہ یہاں مسافروں کی طرح زندگی گزارنے کے بجائے یہاں کا مکین بن جاتا ہے۔ وہ اپنا دل دنیا میں دنیا کےمال و زر میں لگا لیتا ہے۔ وہ یہاں مال جمع کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔ وہ یہاں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ پھر اسے اپنی آخرت سنوارنا یاد نہیں رہتا۔ مگر جب اس کو موت آتی ہے تو اسے تب یاد آتا ہے کہ وہ تو دھوکے کی زندگی سے اصل زندگی کی جانب چل پڑا ہے۔ اس کا سارا کا سارا مال اسی دنیا میں رہ جاتا ہے اور وہ دنیا کی خواہشات لے کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ اپنا سارا مال بادل ناخواستہ یہیں پر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے شکوہ کناں ہے کہ میں نے اپنی ساری وفائیں لا کر محبوب کے قدموں میں ڈھیر کر دیں مگر اسے میرا احساس نہیں۔ میرا محبوب میری وفا کے بدلے مجھے سے بےرخی برتتا ہے۔ محبوب عاشق کی وفاؤں کے بدلے اسے وفا نہیں دیتا۔ شاعر اپنی وفاؤں کے بدلے محبوب کے دو میٹھے بول سننے کو ترستا ہے مگر اس کے برعکس محبوب اسے جھڑکتا ہے۔ محبوب شاعر سے نارواں سلوک رکھتا ہے مگر شاعر پھر بھی اس کی بدنامی سے ڈرتا ہے۔ شاعر اپنی وفاؤں کو سامنے رکھ کر محبوب سے انصاف کا طلب گار ہے کہ ان وفاؤں کے بدلے جو سلوک وہ کر رہا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔ شاعر نے شکوہ کیا ہے کہ میری محبتوں کے نتیجہ میں مجھے اتنی بے رخی نہ برتی جائے میں اس کا قابل نہیں ہوں۔

Advertisement
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

تشریح :

اس شعر میں میر کہتے ہیں کہ جیسے شیشہ سازی بہت نازک اور باریک بینی کا کام ہے۔ اس میں ہمیں ہمہ وقت توجہ دینی پڑتی ہے ، احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ اس کی نوک پلک کرتے ہوئے ایک ایک زرے کو پرکھنا پڑتا ہے اگر بے احتیاطی کی جائے گی تو وہ شیشہ کرچی کرچی ہو جائے گا اور اس سے بننے والے تیز دھار ٹکڑے انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی انسان کو اس دنیا میں اپنے معاملات میں احتیاط برتنی چاہئے۔ جس کسی سے گویا ہو تو اپنے الفاظ پر دھیان دے، اپنے الفاظ سے کسی کی دل آزادی نہ کرے۔ میر تاکید کرتے ہیں کہ اس دنیا میں ہمیں سب سے اچھے سے پیش آنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بول چال کے انداز میں شیریں لہجہ اپنانا چاہئے تاکہ کسی کو لفظوں کی دھار سے کوئی تکلیف نہ ہو۔ جیسے شیشہ انسان کے جسم کو باہر سے کاٹتا ہے ویسے ہی انسان کے سخت الفاظ دوسروں کے دلوں کو کاٹتے ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی کی دل آزاری سے باز رہنا چاہئے اور اپنے الفاظ چناؤ پر کام کرنا چاہئے۔

ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر بناتے ہیں کہ ان کی زندگی میں رنج و ملال کے سوا کچھ بھی نہیں۔ انھوں نے بچپن سے ہی دکھوں اور تکالیفوں کا سامنا کیا ہے۔ کم سنی میں ان پر اتنے مصائب گر گئے کہ انھوں نے ساری زندگی رو رو کر گزار دی۔ اب وہ محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جب سے میرا محبوب مجھ سے بےرخی برت رہا ہے میرے احساسات کو بےدردی سے مجروح کررہا ہے، میں ہنسنا بھول گیا ہوں۔ میں نے خوشی کے دو پل نہیں گزارے اور میں نے تمام عمر رو رو کر ہی گزار دی۔وہ اب میرے حال پر اتنا رحم کھائے کہ میری حالت زار کو دیکھ لے۔ محبوب نے مجھے کتنی ہی بار اپنے در سے ٹھکرا دیا ہے۔ وہ اب ستم سہتے سہتے نڈھال ہو گئے ہیں۔ اب وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ میری خبرگیری کو آؤ کیا پتا اب میرا دل دکھ سہتے سہتے زخموں سے چور ہے۔ یہ نہ ہو کہ تم دیر کر دو اور پھر تمھیں یہ موقع نہ مل سکے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement