Advertisement
  • نظم : میدان کربلا میں صبح کا منظر
  • شاعر : میر انیس

تعارفِ نظم

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”میدان کربلا میں صبح کا منظر“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام میر انیس ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

میر انیس کا نام میر ببر علی اور انیس تخلص تھا۔ آپ فیض آباد (ہندوستان) کے سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انیس نے ہزاروں نوحے اور بہت سے سلام تحریر کیے۔ آپ نے "واقعہ کربلا” کو اپنے اشعار میں نہایت کمال سے منظر نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری کی صورت میں پیش کیا ہے۔

Advertisement
ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک
شرماۓ جس سے اطلس زنگاریِ فلک
وہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک
ہر برگ گُل پہ قطرہ شبنم کی وہ چمک
ہیرے خجِل تھے، گوہر یکتا نِثار تھے
پتّے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کربلا کے دن اس سبزہ صحرا میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور اس ہوا کی لہک بہت اچھی محسوس ہورہی تھی۔ اس ہوا سے سبزہ ، آسمان اور اطلس بھی شرما رہے تھے۔ شاعر پھر ہماری توجہ ہوا کی وجہ سے جھومنے والے درختوں کی جانب مبذول کروا کر کہتے ہیں کہ اس وقت درخت بھی جھوم رہے تھے اور پھول بھی مہک رہے تھے۔ شاعر وہاں موجود پھولوں کی پتیوں پر پڑنے والے شبنم کا ذکر بھی کررہے ہیں اور شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن تو ہیرے بھی خجل ہوگئے تھے کیونکہ وہ گوہر اس دن میدانِ کربلا میں آنے والے تھے وہ بےمثال تھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن ہر درخت کے پتے بھی موتیوں کی طرح خوبصورت نظر آرہے تھے۔

Advertisement
وہ نور اور وہ دشت سہانا سا، وہ فضا
درّاج و کُبک و تیہو و طاؤس کی صدا
وہ جوشِ گُل، وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا
سردی جگر کو بخشتی تھی صبح کی ہوا
پھولوں کے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے
تھالے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر نور ، دشت اور فضا کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس دن تیتر ، چکور اور مور جیسے خوش الحان پرندوں کی صدائیں بھی ہر جانب سنائی دے رہی تھیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے گُل بھی حضرت حسین رض کے دیدار کے لیے پُرجوش ہیں اور خوبصورت آواز والے پرندے بھی ان کا انتظار کررہے ہیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن صبح کی ہوا میں سردی بھی موجود تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن ناجانے کیوں سبز پودے سرخ رنگ میں تبدیل ہوگئے تھے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ درخت کے ارد گرد بنائے گئے تھالے بھی اس دن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پھولوں سے بھرے ٹوکرے ہوں، یعنی درختوں سے پھول ٹوٹ ٹوٹ کر اس تھالے کو بھر چکے تھے۔

وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جابجاوہ گہر ہاۓ آبدار
اُٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار
بالاۓ نخل ایک جو بُلبُل تو گل ہزار
خواہاں تھے زیبِ گلشنِ زہرہ جو آب کے
شبنم نے بھر دۓ تھے کٹورے گلاب کے

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دن ہوا کے جھونکے اور وہاں موجود سبزہ زار الگ ہی منظر پیش کررہے تھے ، پھر شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن یوں محسوس ہوتا تھا کہ پھولوں پر جابجا موتی بکھرے پڑے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن شاخیں بھی خوشی سے جھوم اٹھتی تھیں کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ کچھ دیر میں نواسہ رسول کا دیدار کرنے والی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں اس دن ایک ایک درخت پر کثیر تعداد میں گُل اور بلبل موجود تھے۔ شاعر کہتے ہیں گلشن میں موجود ہر شے آج کسی خاص شخص کی منتظر تھی اور اس انتظار میں شبنم نے بھی آج گلاب کے کٹوروں کو مکمل طور پر بھر دیا تھا۔

Advertisement
وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم
کو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم
سبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم
جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم
کچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی مدح
ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی مدح

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دن چاروں طرف سے قمریوں کا ایک ہجوم بھی موجود تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ چاروں جانب سے سنائی دینے والی کو کو کی آواز حق سرہ کی دھوم معلوم ہورہی تھی یعنی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ تمام قمریاں یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کی واحدانیت کی گواہی دینے کے لیے موجود ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ وہ صدا عموماً سبحان رہنا کی ہی ہوتی تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ قمریاں اور تمام جاندار اپنی عبادات کی رسوم کے مطابق اپنی عبادت جارہی رکھے ہوئے تھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ صرف چند پھول اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا نہیں کررہے تھے بلکہ وہاں موجود ہر شے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ وہاں موجود خار کی زبان پر بھی اس وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا موجود تھی۔ غرض یہ کہ وہاں کا ماحول اس وقت بہت الگ منظر پیش کررہا تھا۔

چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار
یا حی یا قدیر کی تھی ہر طرف پکار
تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار
طائر ہوا میں محو ہرن سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر بتاتے ہیں کہ وہاں موجود چیونٹیاں بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر بار یہ کہتی تھیں کہ اے اللہ تو ہم سب کا رازق ہے ، ہم تجھ پر نثار جائیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس وقت وہاں ہر جانب یا حی یا قدیر کی پکار تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ طائر ہوا میں اور ہرن سبزہ زار میں موجود اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے یہاں تک کہ شیر بھی اپنے کچھار میں بیٹھے گونج رہے تھے یعنی وہ بھی اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے۔

Advertisement

سوال 1 : "میدان کربلا میں صبح کا منظر” پیشِ نظر رکھتے ہوئے نیچے دیئے گئے ہر درست جواب کے شروع میں (✓) کا نشان لگائیں۔

۱ : برگ گل پر کس کی جھلک تھی؟

  • ٭آفتاب کی کرن کی
  • ٭قطرہ شبنم کی (✓)
  • ٭مہتاب کی کرن کی
  • ٭انجم کی کرن کی

۲ : صبح کی ہوا کسے سردی بخشتی تھی؟

Advertisement
  • ٭روح کو
  • ٭جان کو
  • ٭دل کو
  • ٭جگر کو (✓)

۳ : "اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار” کس کی زبان پر تھا۔

  • ٭چیونٹی کی (✓)
  • ٭ہرن کی
  • ٭شیر کی
  • ٭قمری کی

سوال 2 : نظم "میدان کربلا میں صبح کا منظر” کا مرکزی خیال تحریر کریں جو تین جملوں سے زائد نہ ہو۔

جواب : نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔

Advertisement

سوال 3 : مختصر جواب لکھیں جو تین سطروں سے زائد نہ ہوں۔

۱ : پہلے بند کے پہلے دونوں اشعار کے قوافی کی نشان دہی کریں۔

جواب : پہلے بند کے پہلے دو اشعار کے قوافی ہیں :
لہک۔ فلک۔ مہک۔ جھلک۔

۲ : نظم کا کوئی ایسا شعر لکھیں جس میں ردیف موجود ہے۔

طائر ہوا میں مست ، ہرن سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں
درج بالا شعر میں ردیف لفظ "میں” ہے۔

Advertisement

۳ : نظم میں کن کن جانوروں اور پرندوں کے نام آئے ہیں؟

جواب : نظم میں ”شیر، ہرن، چیونٹی، قمری، کبک، بلبل“ کے نام آئے ہیں۔

سوال 4 : نظم "میدان کربلا میں صبح کا منظر” کے آخری بند کی تشریح کریں۔

چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار
یا حی یا قدیر کی تھی ہر طرف پکار
تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار
طائر ہوا میں محو ہرن سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

تشریح

نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ ہمارا ایمان بھی تر و تازہ ہوسکے۔ اس شعر میں شاعر بتاتے ہیں کہ وہاں موجود چیونٹیاں بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر بار یہ کہتی تھیں کہ اے اللہ تو ہم سب کا رازق ہے ، ہم تجھ پر نثار جائیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس وقت وہاں ہر جانب یا حی یا قدیر کی پکار تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ طائر ہوا میں اور ہرن سبزہ زار میں موجود اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے یہاں تک کہ شیر بھی اپنے کچھار میں بیٹھے گونج رہے تھے یعنی وہ بھی اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے۔

Advertisement

سوال 5 : نظم "میدان کربلا میں صبح کا منظر” کا خلاصہ لکھیں جو زیادہ سے زیادہ دس جملوں پر محیط ہو۔

جواب : نظم میدان کربلا میں صبح کا منظر میں شاعر نے کربلا کے دن کی صبح کی منظر کشی اس عمدہ طریقے سے کی ہے کہ شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو کربلا کے میدان میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کربلا کے دن سبزہ صحرا میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور اس ہوا کی لہک بہت اچھی محسوس ہورہی تھی۔ شاعر وہاں موجود پھولوں کی پتیوں پر پڑنے والے شبنم کا ذکر بھی کرتے ہیں اور شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن تو ہیرے بھی خجل ہوگئے تھے کیونکہ وہ گوہر اس دن میدانِ کربلا میں آنے والے تھے وہ بےمثال تھے۔ شاعر نور ، دشت اور فضا کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس دن تیتر ، چکور اور مور جیسے خوش الحان پرندوں کی صدائیں بھی ہر جانب سنائی دے رہی تھیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس دن یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے گُل بھی حضرت حسین رض کے دیدار کے لیے پُرجوش ہیں۔ شاعر کہتے ہیں اس دن ایک ایک درخت پر کثیر تعداد میں گُل اور بلبل موجود تھے۔ شاعر کہتے ہیں گلشن میں موجود ہر شے آج کسی خاص شخص کی منتظر تھی اور اس انتظار میں شبنم نے بھی آج گلاب کے کٹوروں کو مکمل طور پر بھر دیا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس دن چاروں طرف سے قمریوں کا ایک ہجوم بھی موجود تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ چاروں جانب سے سنائی دینے والی کو کو کی آواز حق سرہ کی دھوم معلوم ہورہی تھی یعنی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ تمام قمریاں یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کی واحدانیت کی گواہی دینے کے لیے موجود ہیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس وقت وہاں ہر جانب یا حی یا قدیر کی پکار تھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ طائر ہوا میں اور ہرن سبزہ زار میں موجود اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے یہاں تک کہ شیر بھی اپنے کچھار میں بیٹھے گونج رہے تھے یعنی وہ بھی اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول تھے۔

سوال 6 : ان الفاظ و تراکیب کا مطلب لکھیں۔

سبزہ صحرا :صحرا میں اگی ہوئی گھاس۔
جوشِ گل :پھول کا شباب یا کثرت۔
نالہ مرغان خوش نوا :خوش گلو پرندے کا چہچہانا۔
نالہ حق سرہ :خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا۔
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement