• سبق : میبل اور میں
  • مصنف : پطرس بخاری
  • ماخوذ : مضامینِ پطرس

سوال ۴ : اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کیجیے؟

تعارفِ سبق

سبق ”میبل اور میں“ کے مصنف کا نام ”پطرس بخاری“ ہے۔ یہ سبق ناول ” مضامینِ پطرس “ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

تعارفِ مصنف

پطرس بخاری کا اصل نام پیر سید احمد شاہ تھا۔ آپ پشاور میں پیدا ہوئے ، لاہور سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان چلے گئے۔ پطرس بخاری کا شمار نامور مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔

سبق کا خلاصہ

پطرس بخاری کی ملاقات یونیورسٹی میں اپنی ایک ہم جماعت سے ہوتی ہے۔ جس کا نام میبل ہے۔اور ان دونوں میں دوستی ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ ان کی ذہنی ہم آہنگی تھی۔ دونوں کی دلچسپیاں ایک دوسرے سے میل کھاتی تھیں۔ دونوں مصوری اور موسیقی کے شیدائی تھے۔ اس کے علاوہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بھی عادی تھے۔

اس دوستی اور ہم آہنگی کے باوجود ان کی سوچ میں فرق تھا۔ مبیل خود کو عورت ہونے کے ناطے رعایت کا حقدار سمجھتی تھی جبکہ پطرس بخاری مرد ہونے کی بنا پر خود کو برتر منوانا چاہتے تھے اور ان کو مبیل کے گہرے مطالعہ کا بھی دکھ تھا۔

میبل اکثر ان کے حوالے چند کتابیں یہ کہہ کر کرتی تھی کے وہ مطالعہ کر چکی ہے۔ اب پطرس بھی مطالعہ کر لیں تاکہ وہ اس پر تبصرہ کرسکیں ۔ پطرس اور میبل کتابوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اس پر تبصرے کرنے کا شوق بھی رکھتے تھے۔

پطرس میبل سے کتب لے تو لیتے مگر کم وقت میں وہ کتب پڑھنا ان کے لیے مشکل ہوتا۔ اس لیے وہ بنا پڑھے ہی اس پر تبصرہ کر ڈالتے۔
ایک بار پطرس کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ بیمار نے ان کو حساس بنا دیا تب ان کو اپنی غلط بیانی پر شرمندگی ہونے لگی۔ اور جب میبل ان کی عیادت کرنے آئی تو انہوں نے اپنی چالاکی کا ذکر ان سے کیا اور معافی مانگ لی، جبکہ وہ حیران ہونے لگی کے پطرس بغیر کہانی پڑھے بھی تبصرہ تو بہت اچھا کرتے تھے۔

جب میبل واپس جانے لگی تو پطرس نے وہ کتابیں رکھ لیں، اس نیت سے کے اب ان کا حقیقت میں مطالعہ کریں گے۔ میبل کے جانے بعد جب انہوں نے مطالعہ کے لیے کتاب کھولی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کتاب کے صفحے تو کٹے ہی نا تھے۔ مطلب میبل نے بھی کبھی کتب کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اور اس سے مصنف کو پتا چلا کے عورت اور مرد برابر ہی ہیں۔

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال ۵ : مندرجہ ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

الفاظجملے
یکجہتی۱۴ اگست کے دن پورا پاکستان قومی یکجہتی کا ا ظہار کرتا ہے۔
ہم آہنگیپطرس بخاری اور میبل میں ذہنی ہم آہنگی بہت حد تک پائی جاتی تھی۔
خلشبیماری کے دنوں میں پطرس کے دل میں ایک خلش موجود تھی۔
تحکمہمیں اپنے سے چھوٹوں کے سامنے تحکم بھرا لہجہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
بتدریجملک کی مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔
لاابالیانہاس کی لاابالیانہ حرکتوں سے سب پریشان ہیں۔
مفقودآج کل معاشرے میں ایماندری مفقود ہے۔

سوال : پطرس بخاری کی مزاح نگاری کے متعلق اپنے تاثرات بیان کیجیے۔

جواب : پطرس بخاری کے مزاج میں ظرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آپ کے یہاں طنز و مزاح کا عمدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کے جملوں میں بےساختگی ہے اور وہ جملے ہمیں مسکرانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ پطرس بخاری روز مرہ کی عام باتوں کو مزاح کے سہارے اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری اسے پڑھ کر عش عش کر اٹھتا ہے۔

سوال : مندرجہ ذیل پر غور کیجیے :

اب آپ تینوں قسم کے تذکیر و تانیث میں سے ہر ایک کی پانچ پانچ مثالیں دیجیے۔

پہلی قسمدوسری قسم تیسری قسم
جاندار نر جاندار مادہخرگوشپینسل
لڑکا لڑکیبھیڑیامیز
چچا چچیمچھلیکرسی
مرد عورتکوئلکتاب
بھینس گائےمینڈکچپل
بلا بلی