تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام خواجہ میر درد ہے۔

تعارفِ شاعر

خواجہ میر درد ؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ نا انصافی ہے۔ میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔

(غزل نمبر ۱)

دنیا میں کون کون نہ یک بار ہو گیا
پر منہ پھر اس طرف نہ کیا اس نے جو گیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا ایک فانی مقام ہے جہاں کوئی بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ جو آج یہاں موجود ہیں وہ کل یہاں موجود نہ ہوں گے۔ کئی لوگ اس فانی دنیا میں آئے اور چلے گئے، یہاں سے جانے کے بعد کسی نے یہاں مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ تو ایسی فانی دنیا میں صرف آخرت کی تیاری میں لگے رہو جو ہمیشہ کی زندگی ہے۔

پھرتی ہے میری خاک صبا دربدر لیے
اے چشم اشکبار یہ کیا تجھ کو ہو گیا

اس شعر میں شاعر نے اپنی دلی کیفیات بیان کی ہیں، کہ دنیا کے مصائب و آلام نے میری زندگی کو بے چین کر دیا ہے۔ اپنے محبوب سے دوری کا کرب مجھے دنیا میں درد بدر کررہا ہے اور وہ اپنی آنکھ سے شکوہ کناں ہیں کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، وہ بھی ان سے بے وفائی کر رہی اور محبوب کی یاد میں بہہ رہی ہے اور ان کو مزید اذیت دے رہی ہے۔

طوفان ِ نوح نے تو ڈبوئی زمیں فقط
میں ننگ ِ خلق، ساری خدائی ڈبو گیا

اس شعر میں شاعر نے طوفان ِ نوح کے واقعہ تلمیخ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے تو اپنے گناہوں کے بھار سے صرف ایک کشتی کو ڈبو دیا تھا۔ مگر میں اپنی غفلتوں ، گناہوں اور نادانیوں کے باعث سارے جہاں کو برباد کرنے میں لگا ہوا ہوں اور یہ میرے لیے ہی نہیں باقی لوگوں کے لیے باعث شرمندگی ہے۔

واعظ! کسے ڈراوے ہے یوم ِ حساب سے
گریہ میرا تو نامہ ِ اعمال دھو گیا

اس شعر میں درد نے اپنے گناہوں سے شرم ساری کا ذکر کیا ہے اور اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا کے واعظ مجھے یوم حساب سے خوفزدہ نہ کر میں اپنے رب کی رحمت سے واقف ہوں۔ بیشک وہ بڑا رحیم اور خطاہوں کو معاف کرنے والا ہے، میری یہ شرم ساری اور توبہ نے میری زندگی کے سب ہی گناہ مٹا دیئے ہیں۔

پھولے گی اس زباں میں بھی گلزار ِ معرفت
یاں میں زمین ِ شعر میں یہ تخم بو گیا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ان کا یہ صوفیانہ کلام ہر زبان پر ہوگا اور اس سے کئی چمن کھلیں گے۔ اور یہ جو بیج میں یہاں بو چلا ہوں یہ صدیوں تک اپنے پھل سے سب کو سیراب کرے گا، اور سب اس کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب میرے بعد پیدا ہونے والے شاعر بھی میرے اسلوب کو اپنائیں گے اور میرے بنائے گئے طرز پر اشعار کہیں گے۔

آیا نہ اعتدال پہ ہرگز مزاج دہر
میں گرچہ گرم و سرد زمانہ سمو گیا

اس شعر میں شاعر نے اپنے زمانے کے دن بہ دن بگڑتے حالات پر افسوس کیا ہے کہ لوگ اپنے مزاج کو بدلنے کو تیار ہی نہیں ہیں، وہ کوئی اچھا کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے، ہر وقت برہم رہتے ہیں۔ حالانکہ میں نے اس خود غرض اور مطلبی زمانے کو سمجھانے کی اور ان کو زمانے کی گرم و سرد سے آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے مگر ان کے مزاج پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

اے درد جس کی آنکھ کھلی اس جہان میں
شبنم کی طرح جان کو وہ اپنی رو گیا

اس شعر میں شاعر اس دنیا کی ظلمت کی جانب اشارہ کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دنیا میں آنے والا ہر شخص اسی طرح اپنے لیے روتا ہے جیسے ایک شبنم کا قطرہ ہو۔ یعنی جیسے آسمان سے صبح ہی صبح شبنم کے قطرے پھولوں پر پڑتے ہیں ویسے ہی ایک انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے لیکن جیسے شبنم کے قطرے سورج کے نکلتے ہی اس کی تاب نہ لاتے ہوئے غائب ہوجاتے ہیں ویسے ہی ایک انسان اس دنیا میں موجود غموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔

(غزل نمبر ٢)

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہاں میں کچھ ہے؟

اس شعر میں شعر اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کو بیان کررہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اے اللہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس دنیا میں تیرے سوا بھی کوئی مختار ہے تو اس کا گمان غلط ہے۔ اس دنیا میں تیرے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے۔ ہمیشہ سے تو ہی یہاں موجود تھا اور تو ہی یہاں موجود رہے گا۔ اس شعر کا کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ شاعر اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ میرے لیے اس جہاں میں تیرے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں ہے۔

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ میرا دل بھی اب میرا نہیں رہا بلکہ وہ بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھ رہا ہے۔ میرا دل اب وہی کہتا ہے جو تو چاہتا ہے اور میرا دل اب فقط تیرے پاس آنے کو بےتاب رہتا ہے۔

” لے خبر “ تیغِ یار کہتی ہے
”باقی اس نیم جان میں کچھ ہے“

اس شعر میں شاعر اپنی بےکسی کو بیان کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے یار کے ظلمات کی تلوار نے کہا کہ اے نیم جان اب تجھ میں کیا باقی بچا ہے؟ یعنی اب میرے محبوب کے ظلم بھی یہ سوچتے کہ اس نیم جان میں مزید ظلم سہنے کی سکت نہیں بچی ہے۔

ان دنوں کچھ عجب ہے میرا حال
دیکھتا کچھ ہوں، دھیان میں کچھ ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ان دنوں میرا حال بہت عجیب سے ہوگیا ہے، میں اپنے دھیان میں نہیں رہتا ہوں۔ اب می کسی اور شے کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہوں لیکن میرا دھیان کسی اور جانب ہوتا ہے اور یہ سب فقط میرے محبوب کی جدائی کا نتیجہ ہے۔

اور بھی چاہیے سو کہیے اگر
دلِ نا مہربان میں کچھ ہے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں اور وہ اسے طنز کے انداز میں کہتے ہیں کہ اگر تمھارے دل میں ہمیں مزید تڑپانے کی کوئی چاہ باقی رہ گئی ہے یا تم ہم سے مزید کچھ لینا چاہتے ہو تو ہمیں بتاؤ، ہماری زندگی کا مقصد ہی تمھاری لیے اپنی زندگی کو قربان کرنا ہے۔

درد تو جو کرے ہے جی کا زیاں
فائدہ اس زیان میں کچھ ہے؟

اس شعر میں شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے درد جو تم اپنے درد کا زیاں کرتے ہو یعنی ہر وقت اپنے غم کا اشتہار لگاتے ہو اس زیاں کا کوئی مقصد ہے بھی یا نہیں؟ کیا تمھارے محبوب کو اس درد سے کوئی فرق پڑتا ہے یا تم فقط اپنا تماشہ بنا رہے ہو۔

سوال ۱ : مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح کیجیے۔

پھرتی ہے میری خاک صبا دربدر لیے
اے چشم اشکبار یہ کیا تجھ کو ہو گیا

اس شعر میں شاعر نے اپنی دلی کیفیات بیان کی ہیں، کہ دنیا کے مصائب و آلام نے میری زندگی کو بے چین کر دیا ہے۔ اپنے محبوب سے دوری کا کرب مجھے دنیا میں درد بدر کررہا ہے اور وہ اپنی آنکھ سے شکوہ کناں ہیں کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، وہ بھی ان سے بے وفائی کر رہی اور محبوب کی یاد میں بہہ رہی ہے اور ان کو مزید اذیت دے رہی ہے۔

آیا نہ اعتدال پہ ہرگز مزاج دہر
میں گرچہ گرم و سرد زمانہ سمو گیا

اس شعر میں شاعر نے اپنے زمانے کے دن بہ دن بگڑتے حالات پر افسوس کیا ہے کہ لوگ اپنے مزاج کو بدلنے کو تیار ہی نہیں ہیں، وہ کوئی اچھا کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے، ہر وقت برہم رہتے ہیں۔ حالانکہ میں نے اس خود غرض اور مطلبی زمانے کو سمجھانے کی اور ان کو زمانے کی گرم و سرد سے آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے مگر ان کے مزاج پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہاں میں کچھ ہے؟

اس شعر میں شعر اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کو بیان کررہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اے اللہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس دنیا میں تیرے سوا بھی کوئی مختار ہے تو اس کا گمان غلط ہے۔ اس دنیا میں تیرے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے۔ ہمیشہ سے تو ہی یہاں موجود تھا اور تو ہی یہاں موجود رہے گا۔ اس شعر کا کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ شاعر اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ میرے لیے اس جہاں میں تیرے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں ہے۔

ان دنوں کچھ عجب ہے میرا حال
دیکھتا کچھ ہوں، دھیان میں کچھ ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ان دنوں میرا حال بہت عجیب سے ہوگیا ہے، میں اپنے دھیان میں نہیں رہتا ہوں۔ اب می کسی اور شے کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہوں لیکن میرا دھیان کسی اور جانب ہوتا ہے اور یہ سب فقط میرے محبوب کی جدائی کا نتیجہ ہے۔

سوال ۲ : مندرجہ ذیل کے مفہوم کی وضاحت کیجیے :

ساری خدائی ڈبو گیا سب کچھ ختم کردیا۔
نامہ اعمال دھو گیا گناہوں کو مٹا دیا۔
گلزار معرفت تصوف کا اثر۔
دل نا مہربان بے رحم دل۔
تیغ یار محبوب کی تلوار۔

سوال ۳ : خواجہ میر درد کی پہلی غزل کا مطلع اور دوسری غزل کا مقطع چن کر نکالیے اور پھر ان میں قافیہ و ردیف کی نشان دہی کیجیے :

مطلع

دنیا میں کون کون نہ یک بار ہو گیا
پر منہ پھر اس طرف نہ کیا اس نے جو گیا
قافیہ : ہو ، جو
ردیف : گیا

مقطع

درد تو جو کرے ہے جی کا زیاں
فائدہ اس زیان میں کچھ ہے؟

قافیہ : زیان
ردیف : میں کچھ ہے؟

سوال ۴ : خواجہ میر درد فرماتے ہیں۔ :
پھولے گا زبان میں گلزار معرفت
یاں میں زمین شعر میں یہ تخم بو لیا
آپ ان کی غزلیں غور سے پڑھیے اور پھر بتائیے کہ ان کا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے؟

جواب : خواجہ میر درد کی غزلیں پڑھنے سے ان کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے۔ صوفیانہ کلام کا جو بیچ انہوں نے بویا تھا اس کے چمن سے کئی لوگوں نے استفادہ حاصل کیا ہے۔ اور آج بھی ان کی لگائی یہ بیل چاروں اور پھیلی ہوئی ہے، بڑے بڑے شعراء نے اس پر طبع آزمائی کی ہے اور ان کے اسلوب کو ایک الگ مقام دیا ہے۔

سوال ۵ : اپنے ذوق شعری کو کام میں لاتے ہوئے ذیل کے اشعار کو ، قوسین میں دیے ہوئے الفاظ کی مدد سے مکمل کیجیے :

(چشمہ ، زیست شعور ، آباد)

بیٹھا تھا خضر آکے مرے پاس ایک دم
گھبرا کے اپنی (زیست) سے بیزار ہوگیا

بے خون جگر داغ تو مرجھا ہی چلتے تھے
ہوتا نہ اگر (چشمہ) مرے دیدہ تر کا

بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن
تجھ ہی سے تو (آباد) ہے گھر دیر و حرم کا

باہر نہ آسکی تو قید خؤدی سے اپنی
اے عقل بے حقیقت دیکھا (شعور) تیرا