Advertisement

تعارفِ سبق : سبق ” چور “ کے مصنف کا نام ”اشفاق احمد“ ہے۔ یہ سبق کے آپ کی کتاب ”سفر مینا“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

اشفاق احمد 22 اگست 1925 کو فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ اشفاق احمد نے اردو ادب کے لیے بہت سی خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے ریڈیو و ٹیلی ویژن کے لیے بھی کافی لکھا۔ اشفاق احمد کی کہانیاں معاشرے کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہیں، اور ان کہانیوں میں موجود ہر کردار ہمیں اپنے ارد گرد بسا نظر آتا ہے۔ اشفاق احمد 7 ستمبر 2004 کو اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

Advertisement

خلاصہ

اس سبق میں ایک چور ایک گھر میں چوری کرنے کو داخل ہوتا ہے۔ ادھر ادھر ٹٹول کر وہ ایک الماری تک پہچنتا ہے۔ اسے الماری میں دواؤں کی شیشیاں اور دیگر روزمرہ کی استعمال کی اشیاء ملتی ہیں۔ پھر اس کے ہاتھ ایک رجسٹری کا لفافہ لگتا ہے، جس میں اسے کچھ روپے اور ایک خط رکھا ملتا ہے۔ چور لفافہ لے کر باہر نکل آتا ہے۔ گھر جا کر پیسے گنتا ہے جو کہ ایک سو ستر روپے ہوتے ہیں اور پھر اس خط پر لکھی تحریر پڑھتا ہے۔ خط میں کوئی شکیلہ بیگم اپنے بھائی سے اپنے بیٹے کے علاج کی رقم نہ ادا کرنے پر شکوہ کناں ہے۔ اس نے ادھار لے کر بیٹے کو پنڈی علاج کی غرض سے لے جانے کی اطلاع دی ہے۔ چور نے تحریر پڑھی اور ضمیر نے اسے سخت ملامت کی، رات وہ سو نہ سکا اور ارادہ کیا کہ صبح ہوتے ہی وہ یہ روپے واپس کر آئے گا۔ مگر چوں کہ واردات ہوئی تھی تو سویرے کوتوال اس گھر کے باہر تفتیش کرنے میں مشغول تھے، یہ دیکھ کر چور واپس لوٹ آتا ہے۔ پھر اس نے روپوں والا لفافہ اندر پھینکنے کا ارادہ کیا مگر ہمت نہ جٹا سکا۔

Advertisement

اس نے پھر سے ارادہ کیا مگر دروازہ سے واپس لوٹ آیا، پیسے دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کا دل ہلکا نہ ہوا تو وہ قصور گیا، بابا بھلے شاہ کے مزار پر حاضری دی۔ ہفتہ بعد لاہور آیا ، شکیلہ بیگم کے گھر والی گلی میں گیا تو دیکھتا ہے اسی بچے کا جنازہ چار لوگوں کے کندھوں پر ہے۔ چور نے بڑھ کر میت کو کاندھا دیا۔ بہت سے لوگ آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے اور چور کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ اس نے رقم چرا کر بچے کی جان لے لی۔

چور کا ضمیر اس پر حاوی ہوا اور وہ سڑک پر گر گیا، لوگوں نے اسےسہارا دے کر اٹھایا۔ جنازہ میانی صاحب پہنچ گیا۔ تدفین ہوئی، لوگ گھر لوٹ گئے، مگر چور وہیں رہا۔ چور نے پھولوں کی ایک ٹوکری خریدی اور سقے کو پیسے دے کر ساری قبر پر چھڑکاؤ کروایا اور سارے پھول قبر پر ڈال دیے۔اس نیک کام کی بدولت اس کے ضمیر کا بوجھ بالکل ختم ہو گیا۔

Advertisement

سوال ۱ : شکیلہ نے اپنے خط میں اپنے بھائی کو کیا لکھا تھا اور اس سے ہماری اس دور کی اخلاقی قدروں کے متعلق کیا اندازہ ہوتا ہے؟

جواب : شکیلہ نے دراصل اپنے بیٹے کی بیماری کے علاج کے لیے اپنے بھائی سے رقم طلب کی تھی، مگر بروقت بھائی نے مدد فراہم نہ کی جس کے جواب میں شکیلہ بیگم نے بھائی کو خط لکھا۔ اس سے دور جاری کی ایک تلخ حیقیت ہمارے سامنے آتی ہے کہ مشکل میں سگا بھائی اپنی بہن کے کام نہ آیا اور امیر و غریب کا فرق واضع ہوا۔ امیر لوگ اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد نہیں کرتے اور یہ ہمارے معاشعرے کی اخلاقی پستی کی جانب اشارہ ہے۔

سوال ۲ : چور کو راستے میں جو جن نظر آیا وہ دراصل کیا تھا؟

جواب : چور کو راستے میں ایک جن نظر آیا، اس کا سر آسمان میں تھا اور ٹانگیں زمین پر۔ لیکن دراصل وہ چیز جن نہیں بلکہ وہ کھمبے تھے جس میں واپڈا کے ٹرانسفارمر لگے ہوئے تھے۔

Advertisement

سوال ۳ : شکیلہ کا خط پڑھنے کے بعد چور کی جو ذہنی کیفیت تھی اس سے کیا حقیقت سامنے آتی ہے؟

جواب : شکیلہ کا خط پڑھنے کے بعد چور کی جو ذہنی کیفیت تھی اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی بھی شخص برا نہیں ہوتا بلکہ حالات اسے برا بنا دیتے ہیں اور ہر شخص کا ضمیر وقتاً فوقتاً اسے اپنے گناہوں کا احساس دلاتا رہتا ہے۔

سوال ۴ : چور نے نوٹوں کا لفافہ اس کے مالک کو واپس کیوں نہیں کیا؟

جواب : چور تین بار شکیلہ بیگم کے گھر گیا مگر رقم واپس ادا نہ کر سکا جس کی وجہ یہ ہے کہ چور میں کم ہمتی اور بذدلی تھی۔ جس وجہ سے وہ تین بار جا کر بھی رقم شکیلہ بیگم کے حوالے نہ کر سکا۔

Advertisement

سوال ۵ : چور لاہور سے قصور کیوں گیا اور پھر وہاں سے واپس کیوں آگیا؟

جواب : چور لاہور سے قصور اپنا دھیان اس واقع سے ہٹانے اور سکون حاصل کرنے کے لیے گیا تھا، لیکن وہاں دربار پر حاضری دے کر بھی اس کے دل کو سکون میسر نہ ہوا تو وہ واپس لاہور چلا آیا۔

سوال ٦ : اس نے کب محسوس کیا کہ اس کے ضمیر کا بوجھ اتر گیا ہے؟

جواب : جب وہ قبرستان گیا، وہ تدفین کے بعد وہیں بیٹھا رہا۔ سب کے جانے کے بعد اس نے 12 روپے کی پھولوں کی ٹوکری اور 3 روپے کے پانی کے چھڑکاؤ کا خرچ کرکے اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا پایا۔ اس نے اپنی اس نیکی کو اس بدی پر ترجیح دی اور خود کو مطمئن کر لیا۔

Advertisement

سوال ۷ : اس افسانے کا مرکزی خیال کیا ہے؟

جواب : اس افسانے کا مرکزی خیال اشفاق احمد نے یہ بتایا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر مجرم نہیں پیدا ہوتا، اسے حالات و واقعات اس نہج پر لاتے ہیں۔ مگر سیاہ کاریوں کے درمیان بھی ایک ضمیر ہوتا ہے جو انسان کو ملامت کرتا ہے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم اس ضمیر کی آواز سنیں، اس سے لڑیں یا اس کی بات مان لیں۔ اس افسانے میں چور نے بھی ضمیر کو ہرا دیا اور اپنے اوپر سے ضمیر کا بوجھ اتار دیا۔

سوال ۸ : اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ بیان کیجیے جب آپ کو کوئی نیک کام کرکے بڑی خوشی ہوئی ہو۔

جواب : یوں تو ہم کوئی ایسے کام نہیں کرتے جو قابلِ ذکر ہوں ، لیکن انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں کو تو باآسانی بھول جاتا ہے جب کہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو یاد رکھتا ہے۔ ایسے ہی مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ راستے میں مجھے ایک بوڑھے انکل نظر آئے، جن کے پاس بہت زیادہ سامان تھا۔ میں نے ان کا وہ سامان ان سے لیا اور ان کے گھر تک پہنچا دیا۔ اللہ کے کسی بندے کی مدد کر کے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی۔

Advertisement

سوال ۹ : اب پانچ ایسے فعلِ لازم والے جملے لکھیے جن میں فعل بہ اعتبار جنس و عدد فاعل سے مطابقت رکھتا ہو۔

۱) وہاں سب موجود تھے۔
۲) وہاں وہ موجود تھا۔
۳) لڑکیاں چلی گئیں۔
۴) بچہ سو گیا۔
۵) اساتذہ قابلِ احترام ہوتے ہیں۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement