Advertisement
  • سبق : مولوی نذیر احمد دہلوی
  • مصنف : شاہد احمد دہلوی
  • ماخوذ : گنجینہ گوہر

تعارفِ سبق : سبق ”مولوی نذیر احمد دہلوی“ کے مصنف کا نام ”شاہد احمد دہلوی“ ہے۔ یہ سبق آپ کی کتاب ”گنجینہ گوہر“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف ہمیں نذیر احمد کی عادات و خصائل سے آگاہ کررہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مصنف نے مولوی نذیر احمد کو پہلے پہل اس وقت دیکھا جب وہ اپنے والد میاں بشیر الدین احمد کے ہمراہ حیدرآباد دکن سے دلی آۓ تو کھاری باؤلی والے مکان کے ایک کمرہ نما دالان میں انھیں پلنگ پر بیٹھے دیکھا۔ ان کی ڈاڑھی سفید تھی اور سر پر کنٹوپ پہن رکھا تھا۔

Advertisement

مصنف بتاتے ہیں کہ مولوی نذیر احمد کے لیے حیدر آباد دکن میں خطاب تجویز گیا تھا۔ ان کے لیے ”غیور جنگ“ کا خطاب تجویز ہوا تھا، جو انھوں نے قبول نہ کیا۔

Advertisement

وہ بتاتے ہیں کہ ریاست جاورہ کے نواب کے بھائی معجزاتی طور پر صحت یاب ہوگئے۔ دراصل انھوں نے مولوی نذیر احمد کو خواب میں دیکھا جو ان سے کہہ رہے تھے ، ہمارے قرآن کا ترجمہ چھپوالو، اچھے ہو جاؤ گے۔ ترجمہ ریاست جاورہ کے چھاپے خانہ سے نہایت اہتمام سے شائع کیا گیا۔ خدا کی شان کہ نواب صاحب کے بھائی بالکل تندرست ہو گئے۔

مصنف بتاتے ہیں کہ مولوی نذیر کی کہنیوں پر گٹے تھے۔ مولوی نذیر احمد جب بھنور سے آ کر پنجابی کٹڑے کی مسجد میں طالب علم بنے تو رات رات بھر مسجد کے فرش پر کہنیاں ٹکا کے پڑھا کرتے۔ پہلے ان کی کہنیوں میں زخم پڑے پھر گٹے پڑگئے۔

Advertisement

مصنف مولوی نذیر کے بچپن کے متلعق کہتے ہیں کہ ان کا بچپن نہایت عسرت اور مصیبت میں گزرا۔ جس مسجد میں تعلیم حاصل کی ، سردیوں میں وہیں رات کو ٹاٹ کی صف میں لپٹ کر سوتے، محلے کے گھروں سے روٹیاں مانگ کر لانا پڑتیں۔ حتی کہ جن کے ہاں سے روٹی مانگتے، ان کے گھر بعض اوقات اوپر کے کام بھی کرنا پڑتے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ایک ہندو محاسب نے علی گڑھ کالج میں لاکھوں کا غبن کیا تو نذیر احمد نے سرسید سے کہا : اگر روپے کی ضرورت ہو تو یہ روپیا اس وقت موجود ہے، لے لو اور بھی دوں گا اور اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔

Advertisement

سوال نمبر ۱- مختصر جواب دیجیے۔

الف۔ مصنف نے مولوی نذیر احمد کو پہلے پہل کب اور کن حالات میں دیکھا تھا؟

جواب : مصنف جب اپنے والد میاں بشیر الدین احمد کے ہمراہ حیدرآباد دکن سے دلی آۓ تو کھاری باؤلی والے مکان کے ایک کمرہ نما دالان میں انھیں پلنگ پر بیٹھے دیکھا۔ ان کی ڈاڑھی سفید تھی اور سر پر کنٹوپ پہن رکھا تھا۔

ب- مولوی نذیر احمد کے لیے حیدر آباد دکن میں کیا خطاب تجویز ہوا تھا؟

جواب : ان کے لیے ”غیور جنگ“ کا خطاب تجویز ہوا تھا، جو انھوں نے قبول نہ کیا۔

Advertisement

ج- ریاست جاورہ کے نواب کے بھائی کو معجزاتی طور پر کیسے صحت یاب ہوۓ؟

جواب : انھوں نے مولوی نذیر احمد کو خواب میں دیکھا جو ان سے کہہ رہے تھے ، ہمارے قرآن کا ترجمہ چھپوالو، اچھے ہو جاؤ گے۔ ترجمہ ریاست جاورہ کے چھاپے خانہ سے نہایت اہتمام سے شائع کیا گیا۔ خدا کی شان کہ نواب صاحب کے بھائی بالکل تندرست ہو گئے۔

د- مولوی نذیر احمد کی کہنیوں پر گٹے کیسے پڑے تھے؟

جواب : مولوی نذیر احمد جب بھنور سے آ کر پنجابی کٹڑے کی مسجد میں طالب علم بنے تو رات رات بھر مسجد کے فرش پر کہنیاں ٹکا کے پڑھا کرتے۔ پہلے ان کی کہنیوں میں زخم پڑے پھر گٹے پڑگئے۔

Advertisement

ہ- مولوی نذیر احمد کا بچپن کن حالات میں بسر ہوا؟

جواب : ان کا بچپن نہایت عسرت اور مصیبت میں گزرا۔ جس مسجد میں تعلیم حاصل کی ، سردیوں میں وہیں رات کو ٹاٹ کی صف میں لپٹ کر سوتے، محلے کے گھروں سے روٹیاں مانگ کر لانا پڑتیں۔ حتی کہ جن کے ہاں سے روٹی مانگتے، ان کے گھر بعض اوقات اوپر کے کام بھی کر نا پڑتے۔

و- جب ایک ہندو محاسب نے علی گڑھ کالج میں لاکھوں کا غبن کیا تو نذیر احمد نے سرسید سے کیا کہا؟

جواب : مولوی نذیر احمد نے کہا : اگر روپے کی ضرورت ہو تو یہ روپیا اس وقت موجود ہے، لے لو اور بھی دوں گا اور اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔

Advertisement

ز- موثر تقریر کرنے کے ضمن میں کن دو آدمیوں کا شہرہ تھا؟

جواب : ڈپٹی نذیر احمد اور بہادر یار جنگ کا۔

ح- مولوی نذیر احمد اپنا توشہ آخرت کسے گردانتے تھے؟

جواب : اپنے ترجمے ترجمة القرآن کو۔

Advertisement

سوال نمبر ۲ : درج ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے کہ ان کا مفہوم واضح ہو جاۓ۔

دل کی بھڑاس نکالنا : اس کا ناراض دوست مدت کے بعد اسے ایک تقریب میں ملا تو اس نے خوب دل کی بھڑاس نکالی۔
لات رسید کرنا : اس نے لڑائی کے دوران اپنے مخالف کو وہ لات رسید کی کہ وہ چیختا رہ گیا۔
ڈھارس بندھانا : شمالی علاقوں کے زلزلہ زدگان کی ڈھارس بندھانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
جادوکرنا : عطاءاللہ شاہ بخاری اپنی تقریر سے سامعین پر جادو کردیا کرتے تھے۔
پس و پیش کرنا : اس نے بہت پس و پیش کی لیکن بالآخر ہم اسے منانے میں کا میاب ہو گئے۔

سوال نمبر ۳ : درج ذیل الفاظ کا تلفظ اعراب کی مدد سے واضح کیے۔

غَيْور
تَأَسف
اَحسَنُ الـتفَـاْسِـيـر
خَـويـش

سوال نمبر ۴ : آپ ان دونوں علامتوں سے بیس بیں الفاظ بنائیے۔

ہم شکل
ہم جماعت
ہم کتب
ہم رکاب
ہم راز
ہم رنگ
ہم ذات
ہم زبان
ہم کلام
ہم تن

بااخلاق
باوقار
بارسوخ
بادنا
باجماعت
باادب
با کمال
با وصف
با وضو
باذوق
باعمل
با شاط
بااختیار
با نصيب

سوال نمبر ۵ : سبق کے متن کو پیش نظر رکھتے ہوۓ خالی جگہیں قوسین میں دیے ہوۓ موزوں لفظ سے پر کیجیے۔

  • الف۔ مولوی نذیر احمد کو زمانہ سازی بالکل نہیں آتی تھی۔
  • ( زمانہ سازی ، حیلے بازی ، ٹال مٹول )
  • ب- اس کے بعد اپنا وہ زمانہ یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے۔
  • ( خوش ، رنجیدہ ، آبدیدہ)
  • ج- مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے باب میں وہ سر سید احمد خاں کے حامی و مددگار تھے۔
  • ( مخالف ، حامی و مددگار ، مربی بسن)
  • د- مولوی صاحب کو اپنی تمام کتابوں میں ترجمۃ القرآن ہی پسند تھا۔
  • ( ترجمہ تیسیر ، ناول (مراۃ العروس) ترجمة القرآن)
Advertisement

Advertisement

Advertisement