Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے تیسری جماعت
  • سبق نمبر07: نظم
  • شاعر کا نام: اسماعیل میرٹھی
  • نظم کا نام: برسات

نظم برسات کی تشریح

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا

یہ شعر “اسماعیل میرٹھی” کی نظم “برسات” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ دیکھو آسمان پر کالی گھٹائیں اٹھی ہیں۔ جلد ہی یہ چاروں طرف آسمان پر چھا جائیں گی۔یوں ہر طرف کالی گھٹا کا سماں ہو گا۔

Advertisement
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آسمان پر چھانے والی یہ گھٹا خاموشی سے نہیں چھائی بلکہ اس کے آنے سے باقاعدہ ایک آہٹ ہوئی ہے اور اس آہٹ کی وجہ سے ہوا میں بھی ایک سنسناہٹ سی طاری ہوگئی۔

Advertisement
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹی میں جان آ گئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آسمان پر چھانے والی گھٹا بے سبب نہ تھی بلکہ یہ گھٹا چھا جانے کے بعد بارش برسانے کا سبب بنی۔ان گھٹاؤں کے سبب جو بارش برسی اس سے بے جان مٹی میں بھی جان پڑ گئی۔

زمیں سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گھٹاؤں کے بعد برسنے والی بارش سے یہاں کی زمین سبزے سے لہلہانے لگی۔ جبکہ کسانوں نے فصل بیچ کر اپنی زمین پر جو محنت کر رکھی تھی اس بارش کی وجہ سے ان کی اس محنت کو بھی ایک منزل نظر آنے لگی۔

Advertisement
جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل
عجب بیل پتے عجب پھول پھل

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بارش نے برس کر زمین کو اس قدر سیراب کر دیا کہ زمین میں سے عجب طرح کے پھول ،پھل،بیل،پتے ،جڑی بوٹیاں اور بیڑ پودے نکل آئے۔

ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بارش کے بعد سے یہاں موجود ہر پیڑ کا ایک نیا اور انوکھا انداز تھا۔ بارش کی وجہ سے سب کچھ اس قدر نکھر گیا کہ ہر ایک پھول کا بھی الگ اور نیا انداز دکھائی دے رہا تھا۔

Advertisement
ہزاروں پھدکنے لگے جانور
نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ہر جانب سبزے کی بہار آگئی تو اس سے یہ ہوا کہ ہر طرف ہزاروں قسم کے جانور نکل کر پھدکنے لگے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا مٹی کے بھی پر نکل آئے ہوں۔

جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
وہاں آج ہے گھاس کا بن پڑا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کل تک جو میدان خشک اور چٹیل،بنجر میدان کا منظر پیش کر رہے تھے آج وہاں گھاس کے ڈھیر اگے ہوئے ہیں اور ہر جانب ہریالی ہی ہریالی ہے۔

Advertisement
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ دو دن کے اندر اندر یہ کیا معاملہ ہو گیا ہے کہ پہلے جو سب کچھ سوکھا ہوا تھا دو دن کے اندر یہ سارے کا سارا جنگل ہرا بھرا ہو گیا ہے۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

گھٹا کا رنگ کیسا ہے؟

گھٹا کا رنگ کالا ہے۔

Advertisement

گھٹا کے آنے کا پتا کیسے چلتا ہے؟

گھٹا کے آنے کا پتا گھٹا کی آہٹ اور ہوا کی سنسناہٹ دیتی ہے۔

بے جان مٹی میں جان کس وجہ سے آئی ؟

بارش کے برسنے سے بے جان مٹی میں جان آگئی۔

Advertisement

برسات سے کسان کو کیا فائدہ ہوا؟

برسات سے کسان کی محنت کو منزل مل گئی اور اس کی فصل تیار ہونے لگی۔

ہراک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے” سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

ہر اک پیڑ کا نیا ڈھنگ ہے سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش سے آنے والی بہار نے ہر ایک پیڑ پودے پر اثر کیا اور اسے تروتازہ کر دیا۔

Advertisement

برسات کی وجہ سے جنگل کیا ہو گیا؟

برسات کی وجہ سے تمام جنگل ہرا بھرا ہو گیا۔

ان مصرعوں کو صحیح لفظ سے پورا کیجیے۔

  • گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
  • گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
  • ہزاروں پھدکنے لگے جانور
  • جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
  • کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں میں جو اسم ہیں ان کے گرد دائرہ بنائیے۔

  • گھٹا کالی⚫
  • پیڑ⚫ آنا
  • ہوا⚫ پتا⚫
  • ہرا برسا
  • جنگل⚫ مٹی⚫
  • جڑی نیا
  • نکل مینہ⚫
  • اٹھی چٹیل
  • عجب لہلہانے
  • کسان⚫ پھول⚫

نظم کے مطابق ہر شعر مکمل کیجیے:

زمیں سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی
ہر اک پیڑ کا یک نیا ڈھنگ ہے
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے
ہزاروں پھدکنے لگے جانور
نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر
جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
وہاں آج ہے گھاس کا بن پڑا
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

نظم میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کے گرد دائرہ بنائیے۔

کالی • گھٹا• رہٹ زمین•
کھیت کسان• محنت • عجب
آم سبزے• درخت پیڑ
جنگل• نیلا ہرا• سیب
جانور پر•

Advertisement

مثال کے مطابق نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کے صحیح جوڑ بنائیے۔

مثال: بیل ، پتے

جڑی+بوٹیاں =جڑی بوٹیاں
پھل+پھول= پھل پھول
مٹی + پانی =مٹی پانی
رنگ+ڈھنگ=رنگ ڈھنگ
جنگل+ منگل = جنگل منگل

اس نظم میں لفظ “بے جان” آیا ہے جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔اس کا مطلب ہے مردہ یا مرا ہوا۔ اسی طرح نیچے لکھے ہوئے لفظوں میں بے لگا کر لفظ بنائیے۔

مثال: بے + جان =بے جان
بے + نام =بے نام
بے + کار =بے کار
بے + سدھ =بے سدھ
بے + سہارا =بے سہارا
بے + صبر =بے صبر

خاکے میں دیے ہوئے لفظوں کو تلاش کرکے تصویریں کے نام لکھیے۔

  • مثال : مولی
  • گیند🏀
  • بطخ🦢
  • تتلی🦋
  • سورج مکھی🌻
  • مچھلی🦈

دائرے میں چار پھلوں کے نام بے ترتیب حروف کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ انھیں تلاش کیجئے اور لکھیے۔

انگور ، سیب ، امرود ، انار۔

Advertisement