Advertisement
  • نظم : برف باری
  • شاعر: رسا جاودانی

تعارف ِ شاعر

رسا جاودانی 1901ء میں کشمیر میں پیدا ہوئے اور 1979ء میں وفات پاگئے۔ رساجاودانی صرف کشمیری اور اُردو کے قدآور شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک سیکولر اورنیک شخصیت کے مالک بھی تھے۔ رساجاودانی کو رسول میر کے بعدکشمیری زبان کا سب سے عظیم شاعرتسلیم کیا جاتا ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں زندگی کے حقائق کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پیار و محبت ،بھائی چارے ،قومی یکجہتی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کاپیغام دیا۔

تعارف ِ نظم

یہ نظم ہماری درسی کتاب سے ماخوذ ہے۔ یہ نظم رسا جاودانی نے لکھی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے برفباری کی منظر کشی کی ہے۔چونکہ شاعر کشمیر کے رہنے والے تھے اور کشمیر کو کئی بار برف باری کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے اور بحثیت مقامی شاعر رسا جاودانی نے برف باری کو اپنا موضوع بناکر کشمیر کی خوبصورتی میں اور اضافہ کیا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے برف باری کے ہر ایک منظر اور پہلو کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں شاعر نے برف کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے وہیں بچوں کی خوشی، کھیل برف باری کی وجہ سے مزدوروں کی مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے۔ نظم کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔‌

Advertisement

نظم کی تشریح

دو دن سے جاری ہے برف دو
یہ شان باری یہ کرد گاری
وادی ہماری چاند کی ساری
کن سر کے بن میں میرے وطن میں
ہے برف باری دو دن سے جاری

شاعر فرماتے ہیں کہ دو دنوں سے برف باری ہو رہی ہے اور برفباری کا ہونا اللہ کی شان ہے اور اُسی کی کارکردگی ہے ہماری وادی یعنی وادی کشمیر چاند کا منظر بیان کرتی ہے۔کن سر (کشمیر کے ضلع بھدروا میں ایک جگہ کا نام) کے جنگلوں میں بھی دو دن سے برف باری ہو رہی ہے۔

Advertisement
کوہ و بیاباں ہموار میدان
صحن گلستان بن اور پرستان
مستور یکسر محمور یکسر
ایک نوری یکسر کا فور یکسر
کوہ و بیابان ہموار میدان

شاعر فرماتے ہیں جنگلوں اور میدانوں میں خوب برف باری ہو رہی ہے۔ مکاں کے صحن، جنگل اور پرستان(پریوں کے رہنے کی جگہ)، سب برف سے چھپ گئے ہیں اور بر گئے ہیں۔ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے برف ہر طرف ایسے گری ہوئی ہے جیسے ہر طرف کافور بھچھپے ہوئے ہو۔پہاڑ جنگل اور میدان برفباری سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

Advertisement
شام و سحر گم شمس و قمر گم
سب خشک و تر گم دیوار و در گم
ہر ایک بشر گم سردی کے ڈر سے
نکلے نہ گھر سے دن رات بر سے
شام و سحر گم شمس و قمر گم

شاعر فرماتے ہیں کہ برفباری کی وجہ سے شام و سحر کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ کب سحر ہوئی اور کب شام۔ شاعر مزید فرماتے ہیں کہ برفباری کی وجہ سے سورج اور چاند کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا وہ بھی گم ہوگئے ہیں۔ خشک ہو یا تر ، دیوار ہو یا دروازے سب برف سے ڈھک کر جیسے گم ہو گئے ہیں۔ شاعر مزید فرماتے ہیں کہ سردی کی وجہ سے لوگ گھروں سے نکلنے کو ڈر رہے ہیں۔ برف دن رات پڑھ رہی ہے، سحر بھی گم ہے، شام بھی گم نہ سورج کا پتہ نہ چاند کا۔

مزدور بے کس ہے سخت بے بس
ہوتی نہیں بس بس ہو تو جائے
جاکر کمائے کھائے کھلائے
مزدور بے کس ہے سخت بے بس

شاعر فرماتے ہیں کہ برفباری کی وجہ سے مزدور بے بس اور بے کس ہو گئے ہیں اوربرفباری تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اگر برف باری رک جاتی تو بے چارے مزدور بھی کچھ کما کر لاتے اور اپنے بال بچوں کو کھلاتے۔

Advertisement
کمسن لڑکے اٹھتے ہیں تڑکے
لڑکے جھگڑ کے ہر ایک بولے
پھینکو رے گو لے

اس بند میں شاعر فرماتے ہیں کہ چھوٹے کمسن بچے صبح سویرے اٹھ کر برفباری میں لڑنے جھگڑنے اور کھیلنے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینکتے ہیں۔

جادو بیانی شیریں زبانی
میری روانی رکتی نہیں ہیں
تھمتے ہیں دریا چمکتا ہے پانی
میری روانی رکتی نہیں ہے

نظم کے آخری بند میں شاعر اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری جادو اور شیریں بیانی اور میری روانی رکتی نہیں اور تھمتی نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں دریا تھم جاتے ہیں اور پانی جم جاتا ہے مگر میری روانی رکتی نہیں ہے۔

Advertisement

سوالات

سوال: اس نظم کو لکھنے والا کون ہے؟

ج: اس نظم کو لکھنے والے رسا جاودانی ہیں۔

سوال: برف باری سے کیا ہوتا ہے؟

ج: برف باری سے کوہ و بیاباں،ہموار میدان ، گلستان اور پرستان غرض ہر شے برف سے ڈھک جاتی ہے اور پوری زمین ایک ہی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔

Advertisement

سوال: برف باری میں لوگ گھر سے کیوں نہیں نکلتے؟

ج: برف باری میں لوگ گھروں سے سردی کے ڈر سے نہیں نکلتے۔

سوال: برف باری میں مزدور کی کیا حالت ہو جاتی ہے؟

ج: برف باری میں مزدور کام نہ کرنے اور کمائی نہ ملنے کی وجہ سے بے کس و بے بس ہو جاتا ہے۔

Advertisement

سوال: کمسن لڑکے برف باری میں کیا کرتے ہیں؟

ج: کمسن لڑکے برف باری میں صبح سویرے اٹھ کر برفباری میں لڑتے جھگڑتے اور کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینکتے ہیں۔

اپنے جملوں میں استعمال کیجئے۔

برف باری برف باری میں لوگ گھروں سے سردی کے ڈر سے نہیں نکلتے۔
شمس و قمر شمس و قمر میں اللہ کا نور ہے۔
بے بس برف باری میں مزدور بے بس ہو جاتے ہے۔
کمسن کمسن بچے پھولوں کے مانند ہوتے ہیں۔
جادو بیانی شاعر کی جادو بیانی میں کافی اثر ہے۔
شیریں بیاں ان کا شیریں بیاں انداز لوگوں میں بہت مقبول ہے۔
روانی دریاؤں کی روانی میں اللہ کا جلوہ ہے۔
تھمنا برفباری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
Advertisement

Advertisement