• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر03: کہانی
  • مصنف کا نام:مرزا فرحت اللہ بیگ
  • سبق کا نام: پھول والوں کی سیر

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ہندوستان کے مشہور میلے پھول والوں کی سیر کا بیان ہے۔ہندوستان میں کئی طرح کے مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندوستان کے مذہبی تہوار ہولی، دیوالی،عید ، گرو برب اور کرسمس وغیرہ ہیں۔ مگر ہندوستانی تہذیب میں بھائی چارے کی مثال یہاں کا میلہ پھول والوں کی سیر ہے۔

پھول والوں کی سیر دہلی کا سب سے مشہور میلہ ہے۔ جس کی ابتدا قریباً ڈھائی سو سال پہلے اکبر شاہ ثانی کے دور میں ہوئی تھی۔ ا س میلے میں پورا شہر شرکت کرتا تھا۔انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے۔جلد ہی وہ ہندوستان میں قابض ہو گئے اور ہندوستان کے لوگوں میں پھوٹ ڈلوا کر انھیں کمزور کر ڈالا۔

Advertisement

مرزا جہانگیر کو انگریزوں نے قید کر لیا اکبر شاہ ثانی کے دور میں انھیں رہائی ملی تو ان کی والدہ نے بڑی دھوم دھام کے ساتھ جوگ مایا مندر اور خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر مہر ولی میں پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقعے پر وہاں ایک میلہ سا لگ گیا۔ بادشاہ کو یہ میلہ پسند آیا تو ہر سال۔وہاں بھادوں کے مہینے میں میلہ سجنے لگا۔

بادشاہ پھول والوں کی سیر میلے کا اعلان کرتا تھا۔ ان کی نگرانی میں مندر اور مزار پر پھولوں کے پنکھے چڑھائے جاتے تھے۔رتھ ،گھوڑے اور پالکیوں پر بیٹھ کر لوگ مہرولی جاتے تھے۔عورتیں شہر میں ہی رات مرد باہر جاتے تھے۔ پالکیوں اور گھوڑوں کی سجاوٹ قابل دید ہوتی تھی۔ غریب لوگ پیدل چلے جاتے۔ لوگ اس تہوار کے لیے نیا لباس بنواتے۔

اس میلے میں شرکت کے لیے شہر کا شہر خالی ہو جاتا۔ رئیس لوگ اپنے محلوں اور گھروں میں جبکہ دیگر لوگ باغات میں ڈیرا ڈالتے۔ اس وقت بازار میوؤں، کھلونوں اور مٹھائیوں سے بھر جاتا۔بادشاہ شہزادے کئی دن تک مہر ولی میں رہتے طرح طرح کے کھانے پکتے اور کشتیاں ہوتی لوگ تیتر لڑاتے اور شمسی تالاب کے کنارے سیر کی جاتی۔

مہینے کی چودھویں رات کو مغرب کے بعد پھولوں کا پنکھا جوگ مایا کے مندر پر چڑھایا جا تا تھا۔دوسرے دن پھولوں کا پنکھا خواجہ بختیار کاکی کی درگاہ پر چڑھایا جا تا تھا۔یہ پنکھا بہت بڑا ہوتا تھا اور پھولوں کی بہار کے ساتھ بانس کی لکڑیوں سے بندھا ہوتا تھا۔

آخری مغل بادشاہ کا نام بہادر شاہ ظفر کے دور میں اس میلے کی رونق اور بھی بڑھ گئی۔1857ء کی جنگ کے بعد دہلی اجڑ گیا۔چنانچہ یہ میلہ بھی بںد ہوگیا۔آزادی کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے پھول والوں کی سیر میلہ شروع کروایا۔آج کل یہ میلہ اکتوبر کے مہینے میں لگتا ہے۔پھول والوں کی سیر میلہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان باہمی امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملتا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

ہندوستان کے مذہبی تہوار کون کون سے ہیں؟

ہندوستان کے مذہبی تہوار ہولی، دیوالی،عید ، گرو برب اور کرسمس وغیرہ ہیں۔

پھول والوں کی سیر کی کیا خاصیت ہے؟

پھول والوں کی سیر دہلی کا سب سے مشہور میلہ ہے۔ جس کی ابتدا قریبا ڈھائی سو سال پہلے اکبر شاہ ثانی کے دور میں ہوئی تھی۔ ا س میلے میں پورا شہر شرکت کرتا تھا۔

انگریز ہندوستان میں کیوں آئے؟

انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے۔

پرانے زمانے میں کون کون سی سواریاں استعمال ہوتی تھیں؟

پرانے زمانے میں بیل گاڑی، پالکی، رتھ اور گھوڑے وغیرہ سواری کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

میلے کے اہتمام میں بادشاہ کیا کرتے تھے؟

بادشاہ پھول والوں کی سیر میلے کا اعلان کرتا تھا۔ ان کی نگرانی میں مندر اور مزار پر پھولوں کے پنکھے چڑھائے جاتے تھے۔

جوگ مایا کا مندراور خواجہ بختیار کا کی کی درگاہ کہاں واقع ہیں؟

جوگ مایا کا مندر اور خواجہ بختیار کاکی کی درگاہ مہر ولی میں واقع ہیں۔

آخری مغل بادشاہ کا نام کیا تھا؟

آخری مغل بادشاہ کا نام بہادر شاہ ظفر ہے۔

آزادی کے بعد پھول والوں کی سیر کس نے شروع کرائی ؟

آزدی کے بعد وزیراعظم جواہر لال نہرو نے پھول والوں کی سیر شروع کروائی۔

پھول والوں کی سیر کا میلہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟

پھول والوں کی سیر میلہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان باہمی امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملتا ہے۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • پھول والوں کی سیر بھی مذہب کے لوگ مناتے ہیں ۔ انگریزوں نے شہزادے کو قید کر دیا۔
  • خواجہ بختیار کاکی کا مزار مہرولی میں ہے۔
  • رتھ ،گھوڑے اور پالکیوں پر بیٹھ کر لوگ مہرولی جاتے تھے۔
  • پھول والوں کی سیر کا میلہ بھادوں کے موسم میں ہوتا تھا۔
  • پھول والوں کی سیر مہینے کی چودھویں رات کو منایا جا تا تھا۔
  • پہلے دن پھولوں کا پنکھا جوگ مایا کے مندر پر چڑھایا جا تا تھا۔
  • دوسرے دن پھولوں کا پنکھا خواجہ بختیار کاکی کی درگاہ پر چڑھایا جا تا تھا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

جوش وخروشیوم آزادی پر نوجوان نسل کا جوش وخروش دیدنی تھا۔
دخلہمیں کسی کے ذاتی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔
قیدانگریزوں نے شہزادے کو قید میں ڈال دیا۔
دارالسلطنتدہلی شہر دارالسلطنت ہندوستان میں واقع ہے۔
فروغہندوستان میں تعلیم بالغاں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
احترامبڑوں کا احترام کرنا چاہیے۔
غولپرندوں کا ایک غول ہمارے گھر کی منڈیر پر اترا۔
پرسادمیلے کی پرساد سب میں برابر تقسیم کی گئی۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے:

واحدجمع
علاقہعلاقوں
انگریزانگریزوں
گاڑیگاڑیوں
پنکھاپنکھوں
پالکیپالکیوں
مذہبمذاہب
حویلیحویلیاں
کڑھائیکڑھائیاں

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

بادشاہفقیر
قید رہائی/آزادی
بربادآباد
رونقبے رونقی
پسندناپسند

عملی کام:پھول والوں کی سیر اپنے لفظوں میں لکھیے۔

ملاحظہ کیجیے "سبق کا خلاصہ”

کسی میلے کا آنکھوں دیکھا حال اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔

پچھلے سال ہم نے رنگ پور میں میلہ دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ یہ میلہ ہر سال گیارہ مارچ کو ہوتا ہے۔ ہم سب پہلی بار میلہ دیکھنے جا رہے تھے۔ گیارہ مارچ کو صبح سویرے اٹھ کے وضو کیا، نماز ادا کی اور قرآن پاک کی تلاوت کی۔ناشتہ کیا اور تیار ہو کے روانہ ہوئے۔ راستے میں لوکل بسوں کا اتنا رش تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دےرہے تھے۔آخرکار ہم وہاں پہنچے گاڑی سے اترے اور میلہ دیکھنے لگے۔

وہاں پر جگہ جگہ جھولے تھے۔ ہر طرف دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ لوگوں کا ہجوم تھا۔ مٹھائی کی دکانوں پر مٹھائی کو خوبصورت انداز میں سجایا ھوا تھا۔ ہم نے مختلف جھولوں پر جھولے لئے اور بہت لطف آیا۔ ہم نے وہاں سے مٹھائی لی اور بہت سارے کھلونے لئے اور اپنے لیے چوڑیاں بھی خریدیں۔ ہر طرف شور تھا۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب خوش تھے اور جھولوں پر سوار ہو رہے تھے۔

پھر ہم نے کھانے کےلیے چیزیں خریدیں اور پارک میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ قریب ہی ہماری خالہ کا گھر تھا، ہم وہاں گئے. تھوڑی دیر خالہ زاد بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلے۔اس کے بعد وہ ہمیں چڑیا گھر لے گئے۔وہاں ہم ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئے۔وہاں بندر درختوں پر کھیل رہے تھے۔ ہم نے ان کی طرف کیلے پھینکے جنہیں وہ چھیل کر کھا گئے۔

اس کے بعد ہم نے بہت بڑا سانپ دیکھا اس کی عمر اسی سال تھی۔ پھر ہم نے مور دیکھا جو اپنے پر پھیلائے خوبصورت لگ رہا تھا۔ پھر ہم نے شیر دیکھا وہ پنجرے میں دھاڑ رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے طوطے، ہرن اور مرغیاں وغیرہ دیکھیں۔ پھر ہم نے موت کا کنواں دیکھا۔ وہاں بارہ سال کا لڑکا موٹرسائیکل چلا رہاتھا۔ ہم اس میلے میں بہت لطف اندوز ہوئے۔ اب ہم تھک چکے تھے تو پھر خالہ کے گھر گئے۔ وہاں آرام کیا اور شام کا کھانا کھایا اور رات گیے گھر پہنچے ۔اس میلے کی یاد آج بھی میرے دل میں تازہ ہے