Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر04:نظم
  • شاعر کا نام: اسماعیل میرٹھی
  • نظم کا نام:گرمی کا موسم

نظم گرمی کا موسم کی تشریح

مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا

یہ شعر "اسماعیل میرٹھی” کی نظم ” گرمی کا موسم” سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعر گرمی کی آمد کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے ہی مئی کا مہینہ آیا اس کے ساتھ ہی گرمی کے موسم کی آمد ہو گئی۔ گرمی کی وجہ سے چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہنے لگا یعنی لوگ پوری طرح پسینے میں شرابور دکھائی دینے لگے۔

بجے بارہ تو سورج سر پہ آیا
ہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مئی کے مہینے کے ساتھ گرمی کی جو آمد ہوئی تو جیسے ہی دن کے بارہ بجتے کڑکتی دوپہر کا آغاز ہو جاتا اور سورج عین سر پر آ جاتا۔ سورج کے عین سر پر آ جانے کی وجہ سے انسان کے ساتھ ساتھ درختوں کا سایا بھی قدموں تلے دب جاتا تھا۔

Advertisement
7th Class Urdu Question Answer | Chapter 4 | نظم گرمی کا موسم کی تشریح 1
چلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپ
لپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے جیسے ہی دھوپ کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ایسے ہی ساتھ بہت زور دار لو بھی چلنے لگی۔ اس دھوپ اور لو کے چلنے سے یوں محسوس ہوتا گویا یہ دھوپ نہیں کوئی آگ کی لپیٹ ہو جس میں سب سب آ گئے ہیں۔

زمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے
کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے زمین بھی دہکنے لگی اور جلتے توے اور زمین میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ گرمی کے موسم میں لتی ہوئی ہوا یوں لگ رہی تھی کہ یہ ہوا نہیں بلکہ کوئی شعلہ یا انتہائی گرم ہوا ہو۔

در و دیوار ہیں گرمی سے تپتے
بنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی کی شدت سے گھر کے درودیوار بھی گرمی کی وجہ سے دہکنے لگے۔ اور انسان کی کیفیت یوں تھی کہ جیسے مچھلی بنا پانی کے تڑپتی ہے ایسے ہی انسان اس گرمی میں تڑپ رہے تھے۔

نہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کی
زمیں کا فرش ہے چھت آسماں کی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی کا یہ عالم تھا کہ ایسے موسم میں غریب لوگوں کے مکان کی حالت تو کوئی نہ پوچھے۔غریبوں کے پاس مکان ندارد تھے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا محض زمین اور آسمان ہی تھے۔ زمین ان کا فرش اور چھت ان کا آسمان تھا۔

نہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہ
ذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ غریب لوگوں کے مکان ایسے ہیں کہ ان کے پاس نہ تو کوئی پنکھا ہے۔ نہ بانس سے بنی کوئی آڑ اور نہ ہی کمرہ ہے۔ ان کا واحد سہارا محض ذرا سی جھونپڑی ہے اور وہی ان کی محنت کا پھل ہے۔

امیروں کو مبارک ہو حویلی
غریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ امیروں اور غریبوں میں جو فرق ہے ایسے میں امیروں کو ان کی حویلیاں مبارک ہوں جبکہ غریبوں کا تو اللہ ہی مالک ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

گرمی کا موسم کس مہینے سے شروع ہوتا ہے؟

گرمی کا موسم جون کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

دن کے کس حلقے میں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے؟

دن میں جب بارہ بجے کا وقت ہوتا ہے اس وقت گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تڑاقے کی دھوپ سے کیا مراد ہے؟

تڑاقے کی دھوپ سے مراد بہت زیادہ شدت کی دھوپ ہے۔

مچھلی سے تڑینے کا کیا مطلب ہے؟

مچھلی سے تڑینے سے مراد گرمی کی شدت کا ناقابلِ برداشت ہونا اور جان کا نکلتا ہوا محسوس ہونا۔

غریب لوگ گرمی میں کس طرح گذارا کرتے ہیں؟

غیب لوگوں کا گرمی میں گزرا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی جھونپڑی ہی ان کا کل سرمایہ ہوتی ہے۔

لو کیسی ہوا کو کہتے ہیں؟

لو دھوپ کی وجہ سے چلنے والی تیز اور گرم ہوا کو کہتے ہیں۔

پچھوا ہوا کو شعلہ کیوں کہا گیا ہے؟

یہ ہوا چونکہ پچھم کی طرف سے آتی ہے اور خوب گرم ہوتی ہے اس لیے اس کو شعلہ کہا گیا ہے۔

اشعار کو کمل کیجیے۔

بجے بارہ تو سورج سر پہ آیا
ہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا
زمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے
کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے
نہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کی
زمیں کا فرش ہے چھت آسماں کی
نہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہ
ذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ
امیروں کو مبارک ہو حویلی
غریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

لپٹآگ لگنے سے عمارت کے مکین آگ کی لپٹ میں آ گئے۔
ثمرہانسان کو اس کی محنت کا ثمرہ ضرور ملتا ہے۔
محنتمحنت میں عظمت ہے۔
مبارکمیری جانب سے سب کو عید مبارک ہو۔
توامجھے توا پلاؤ پسند ہے۔

ان لفظوں کے متضا دلکھیے۔

دھوپچھاؤں
غریبامیر
گرمیسردی
پوشیدهظاہر
شعلهچنگاری
فرشعرش
آسمانزمین

عملی کام:اس نظم کو یاد کیجیے اور اس کا مطلب اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے گرمی کی شدت کو بیان کیا ہے جس کا آغاز جون کے مہینے سے ہوتا ہے۔ دن کے بارہ بجے تڑاقے کی گرمی پڑتی ہے جب سایہ بھی قدموں تلے آ جاتا ہے۔ گرمی میں زمین جلتے ہوئے توے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

بہت زیادہ گرمی کی وجہ سے لو چلنے لگتی ہے۔گھروں کے درودیوار تپنے لگتے ہیں اور لوگ گرمی کی وجہ سے ایسے تڑپتے ہیں جیسے بنا پانی کے مچھلی۔ ایسے میں غریب لوگ جن کی کل کائنات ان کی جھونپڑی ہوتی ہے ان کا گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔ان کے پاس پنکھا تک نہیں ہوتا ہے۔ امیروں کو ان کی حویلیاں مبارک ہوں اور غریبوں کا اللہ مالک ہے۔