• کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر09:کہانی
  • مصنف کا نام: محمد مجیب
  • سبق کا نام: دنیا کی کہانی

تعارف مصنف:

محمد مجیب کی پیدائش 1902ء لکھنؤ میں ہوئی اور 1985ء دہلی میں انتقال ہوا۔آپ اردو کے ممتاز نثر نگاروں میں ہیں ۔ان کا اصل میدان تاریخ تھا لیکن اردو میں وہ ڈراما نویس کی حیثیت سے بہت معروف ہیں ۔ان کے دو ڈراموں” آزمائش اور خانہ جنگی کو غیر معمولی شہرت ملی۔

مجیب صاحب اردو کے علاوہ فرانسیسی ، جرمن اور روسی زبان وادب سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ مجیب صاحب نے ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر عابد حسین کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں اور جامعہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے چوٹیں سال تک اس سے وابستہ رہے۔ یہ اقتباس مجیب صاحب کی بہت مشہور کتاب "دنیا کی کہانی“ سے ماخوذ ہے۔اس میں انھوں نے دنیا کے اور ان کے بارے میں اوقات کا پس انداز میں بیان کیا ہے۔ انکا انداز دنیا کے آغاز اور مختلف مخلوقات کے بارے میں واقعات کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ان کا انداز بہت دلچسپ اور آسان ہے۔ اسے پڑھ کر دنیا کی ابتدا اور انسان کے سفر ارتقا کا حال معلوم ہوتا ہے۔

Advertisement

خلاصہ سبق:

سبق "دنیا کی کہانی” میں محمد مجیب نے دنیا کی ابتدائی شکل اور اس کے وجود میں آنے کی کہانی کو زیر بحث لایا ہے۔ ابتدا میں دنیا کی کہانی کو عجیب داستان کہا گیا ہے کہ یہ جس کی زبانی بیان ہو اسی کے مطلب کی ہو جاتی ہے اور کبھی بہت چھوٹی اور سیدھی سادھی اور کبھی الجھی ہوئی۔ یہ ہمیں ڈراتی،لبھاتی اور دلاسا دیتی ہے۔ ایسی کہانھ جسے بچے سونے سے پہلے سننا پسند کرتے ہیں۔ اس میں موجود سچی باتیں ہمیں کہانی معلوم ہوتی ہیں۔

کہانی کا سرا کہیں نہیں ملتا کہ دنیا کب وجود میں آئی۔ خدا نے اسے کب کیوں اور کیسے بنایا۔لیکن ہر زمانے میں عقل مند لوگ اپنی کم علمی کو چھپانے اور کم سمجھ رکھنے والوں کی تسکین کے لیے دلچسپ کہانی بنا کر سنا دیتے ہیں۔ یہ سنسار کے بھیدوں پر خوب صورت پردہ ڈالتے ہیں کہ ہم پوچھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے کچھ ہے بھی یا نہیں۔

آج کل کے عقل مندوں کے مطابق ہماری دنیا پہلے آگ کا گولا تھی۔وہ آگ نہیں جو کسی کو جلانے کے کام آتی ہے اور ہر وقت ہمارے دلوں کو گرم رکھتی ہے۔ ہماری زمین کے آتش فشاں پہاڑ جب چاہتے آگ اگل دیتے تھے۔وقت کے ساتھ دنیا سرد پڑی تو بھاپ اور دوسری گیسیں پانی ہوگئیں اور سخت حصہ چٹان بن گیا۔

عام آدمی کو سائنس کا حساب سمجھ نہیں آسکتا۔بعض لوگ دنیا کو قدرت کا کرشمہ مانتے ہیں اور سائنس کا ڈھکوسلہ نہیں مانتے ان کا ماننا ہے کہ سب کچھ خود ہی وجود میں آگیا۔ اسے کسی نے پیدا نہیں دنیا کے سرد پڑنے سے سمندر کی تہہ میں زندگی کس بیچ اترا۔ وہاں وہ پھٹا، پھولا اور پھلا۔ بھیس بدلتے بدلتے اس نے پودوں اور کیڑوں کی صورت میں خشکی کی جانب قدم بڑھایا۔پانی کے بغیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھنے والے اوپر کی طرف سر اٹھانے لگے۔

جوکیڑے تھے وہ مچھلی بن کر تیرنے لگے۔خشک زمین پر رینگنے، چوپائے بن کر اڑنے اور تیرنے لگے۔ابتدائی جانوروں کی شکلیں بہت بھیانک تھیں۔ چالیس پچاس فٹ لمبے مگرمچھ ، بیس بیس ہاتھ اونچے ہاتھی ۔گردن اتنی لمبی کے ہوا میں اڑتے پرندے کو پکڑ لیں۔خشکی پر پائے جانے والے بھیانک جانوروں کو برنٹو سورس ،اکھتیو سورس اور میگیلو سورس کے نام دیے گئے۔خشکی پر رہنے والے جانور پانی کے بغیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ بہت بھیانک شکل رکھتے تھے۔

اپنے بچوں کو شروع میں دودھ پلا کر پالتے۔ غولوں میں رہتے اور اپنے بچوں کی حفاظت کرتے۔ہزاروں برس بعد دنیا کی آب و ہوا بدلی تو وہ ایسی ٹھنڈی پڑی کہ اس کا بہت سا حصہ برفستان ہو گیا۔ برف کے کھسکتے پھسلتے پہاڑوں نے سب کچھ اپنے تلے روند دیا۔ پھر گرمی بڑھی،برف پگھل کر سمندر ہوئے اور زندگی ابھری۔اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ زمین کے کئی سو گز نیچے تک وقت گرمی اور سردی کے انہی پھیروں کی داستان سناتا ہے۔

سوالات:

دنیا کی کہانی کو عجیب داستان کیوں کہا گیا ہے؟

دنیا کی کہانی کو عجیب داستان کہا گیا ہے کہ یہ جس کی زبانی بیان ہو اسی کے مطلب کی ہو جاتی ہے اور کبھی بہت چھوٹی اور سیدھی سادھی اور کبھی الجھی ہوئی۔ یہ ہمیں ڈراتی،لبھاتی اور دلاسا دیتی ہے۔ ایسی کہانھ جسے بچے سونے سے پہلے سننا پسند کرتے ہیں۔ اس میں موجود سچی باتیں ہمیں کہانی معلوم ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عجیب داستان کہا گیا ہے۔

آج کل کے عقل مندوں کی دنیا کے بارے میں کیا رائے ہے؟

آج کل کے عقل مندوں کے مطابق ہماری دنیا پہلے آگ کا گولا تھی۔ ہماری زمین کے آتش فشاں پہاڑ جب چاہتے آگ اگل دیتے تھے۔وقت کے ساتھ دنیا سرد پڑی تو بھاپ اور دوسری گیسیں پانی ہوگئیں اور سخت حصہ چٹان بن گیا۔

عقل مند لوگ سنسار کے بھیدوں پر خوب صورت پردہ کیوں ڈال دیتے ہیں؟

عقل مند لوگ اپنی کم علمی کو چھپانے اور کم سمجھ رکھنے والوں کی تسکین کے لیے دلچسپ کہانی بنا کر سنا دیتے ہیں۔ یہ سنسار کے بھیدوں پر خوب صورت پردہ ڈالتے ہیں کہ ہم پوچھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے کچھ ہے بھی یا نہیں۔

جب دنیا سرد پڑ گئی تو کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں؟

وقت کے ساتھ دنیا سرد پڑی تو بھاپ اور دوسری گیسیں پانی ہوگئیں اور سخت حصہ چٹان بن گیا۔ دنیا کے سرد پڑنے سے سمندر کی تہہ میں زندگی کس بیچ اترا۔ وہاں وہ پھٹا، پھولا اور پھلا۔ بھیس بدلتے بدلتے اس نے پودوں اور کیڑوں کی صورت میں خشکی کی جانب قدم بڑھایا۔

زندگی کے بیج نے سمندر کی تہہ میں پہنچ کر کون کون سے بھیس بدلے؟

سمندر کی تہہ میں پہنچ کر زندگی کے بیچ نے کئی بھیس بدلے۔ وہ پھٹا،پھولا اور پھلا۔اس نے پودوں اور کیڑوں کی صورت میں خشکی کی جانب قدم بڑھایا۔ پانی کے بغیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھنے والے اوپر کی طرف سر اٹھانے لگے۔ جوکیڑے تھے وہ مچھلی بن کر تیرنے لگے۔خشک زمین پر رینگنے، چوپائے بن کر اڑنے اور تیرنے لگے۔

خشکی پر پاۓ جانے والے بھیا نک جانوروں کو کیا نام دیے گئے ہیں؟

خشکی پر پائے جانے والے بھیانک جانوروں کو برنٹو سورس ،اکھتیو سورس اور میگیلو سورس کے نام دیے گئے۔

ہزاروں برس کے بعد جب دنیا کی آب و ہوا بد لی تو کیا کیا تبدیلیاں نظر آئیں؟

ہزاروں برس بعد دنیا کی آب و ہوا بدلی تو وہ ایسی ٹھنڈی پڑی کہ اس کا بہت سا حصہ برفستان ہو گیا۔ برف کے کھسکتے پھسلتے پہاڑوں نے سب کچھ اپنے تلے روند دیا۔ پھر گرمی بڑھی،برف پگھل کر سمندر ہوئے اور زندگی ابھری۔

خشکی پر نظر آنے والے جانوروں کی کیا صفات تھیں؟

خشکی پر رہنے والے جانور پانی کے بغیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ بہت بھیانک شکل رکھتے تھے۔ اپنے بچوں کو شروع میں دودھ پلا کر پالتے۔ غولوں میں رہتے اور اپنے بچوں کی حفاظت کرتے۔