• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر09:کہانی
  • سبق کا نام: رونے والے ہنسنے والے

خلاصہ سبق:

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بڑھیا کا بیٹا فوج میں ہوتا تھا اس نے اپنی ماں کو خط بھیجا۔بڑھیا پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھی وہ اپنے بیٹے کا خط لے کر دروازے کے سامنے بیٹھ گئی کہ کوئی راستے سے گزرے اور اسے خط پڑھ کر سنا دے۔ وہاں سے ایک فوجی کا گزر ہوا بڑھیانے اسے خط پڑھنے کو بولا تا خط دیکھ کر وہ رونے لگا۔

بڑھیا یہ سمجھ کر کہ خط میں کوئی بری خبر ہے وہ بھی رونے لگی۔ ایک پھیری والے کا وہاں سے گزر ہوا تو ان کو روتا دیکھ کر وہ بھی رونے بیٹھ گیا۔ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا جو ان تینوں ( بڑھیا ،فوجی اور برتن بیچنے والے) کو روتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے رونے کی وجہ دریافت کی تو بڑھیا نے خط کا بتایا جبکہ فوجی نے بتایا کہ وہ اس لیے رو رہا تھا کہ اس نے بچپن میں پڑھائی پر توجہ نہ دی۔اس لیے کوشش کے باوجود وہ خط نہ پڑھ سکا اور پڑھائی کے غم میں رو رہا تھا۔

Advertisement

پھیری والے نے بتایا کہ ایک سال پہلے کی بات ہے میں اپنے برتن بیچنے کے لیے نکلا تھا۔ راستے میں ٹھوکر لگی اور سارے برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ فوراً نئے برتن خریدنے تھے اور انھیں بیچ کر نقصان کی بھرپائی کرنی تھی۔ اس لیے تب رونے کا موقع نہیں مل سکا۔اج انھیں روتا دیکھا تو سوچا میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر رولوں۔جب اس شخص نے خط لے کر پڑھا تو آخر میں سب ہنسنے لگے کہ کہ خط میں کوئی دکھ والی بات نہ تھی بلکہ یہ لکھا تھا کہ بڑھیا کا بیٹا امجد اگلے مہینے چھٹی لے کر گھر آرہا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

بڑھیا خط لے کر مکان کے سامنے کیوں بیٹھ گئی؟

بڑھیا پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھی وہ اپنے بیٹے کا خط لے کر دروازے کے سامنے بیٹھ گئی کہ کوئی راستے سے گزرے اور اسے خط پڑھ کر سنا دے۔

ایک شخص کیا دیکھ کر حیران رہ گیا ؟

ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا جو ان تینوں ( بڑھیا ،فوجی اور برتن بیچنے والے) کو روتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔

پھیری والے نے اپنے رونے کی کیا وجہ بتائی؟

پھیری والے نے بتایا کہ ایک سال پہلے کی بات ہے میں اپنے برتن بیچنے کے لیے نکلا تھا۔ راستے میں ٹھوکر لگی اور سارے برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ فوراً نئے برتن خریدنے تھے اور انھیں بیچ کر نقصان کی بھرپائی کرنی تھی۔ اس لیے تب رونے کا موقع نہیں مل سکا۔اج انھیں روتا دیکھا تو سوچا میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر رولوں۔

فوجی کیوں رو رہا تھا ؟

فوجی اس لیے رو رہا تھا کہ اس نے بچپن میں پڑھائی پر توجہ نہ دی۔اس لیے کوشش کے باوجود وہ خط نہ پڑھ سکا اور پڑھائی کے غم میں رو رہا تھا۔

آخر میں سب کیوں ہنسنے لگے؟

آخر میں سب ہنسنے لگے کہ کہ خط میں کوئی دکھ والی بات نہ تھی بلکہ یہ لکھا تھا کہ بڑھیا کا بیٹا امجد اگلے مہینے چھٹی لے کر گھر آرہا ہے۔

خالی جگہ بھریے:

  • کسی گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔
  • اچانک اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
  • اس نے اپنے کانچ کے برتنوں کی ٹوکری زمین پر رکھی۔
  • تمھارا بیٹا امجد اگلے مہینے چھٹی لے کر آرہا ہے۔
  • کس نے کہا:
  • آج ذرا فرصت ہے ۔ ان دونوں کو روتا ہوا دیکھا تو سوچا ، آج میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر رولوں۔
  • (برتن بیچنے والے نے اوپر سے آنے والے شخص سے کہا)
  • میں نے اس فوجی کو پڑھنے کے لیے دیا ۔“
  • بڑھیا نے اوپر سے آنے والے شخص کو کہا))
  • ” میں پڑھائی نہ کر پانے کے غم میں رو رہا ہوں۔“
  • اوپر سے آنے والے شخص کو کہا) فوجی نے )
  • ” ارے! کیا ہو گیا، تم لوگ رو کیوں رہے ہو؟“
  • اوپر سے آنے والے شخص نے بڑھیا،برتن بیچنے والے اور فوجی سے پوچھا)

ایک دن بڑھیا کو امجد کا ایک خط ملا۔ وہ خط لے کر اپنے مکان کے سامنے بیٹھ گئی۔ اوپر کے میں بڑھیا اسم ہے اور’ وہ’ضمیرہے۔اسم کی جگہ بولے جانے والے لفظ کو ضمیر کہتے ہیں۔

نیچے دیے گئے جملوں میں جو لفظ ضمیر کے طور پر آۓ ہیں، انھیں لکھیے :

میرے بیٹے کا خط آیا تھا۔(میرے اسم ضمیر ہے)
وہ شخص بڑھیا کی طرف متوجہ ہوا۔ (وہ اسم ضمیر ہے)
تم خواہ مخواہ رورہی ہو.(تم اسم ضمیر ہے)
میں نے فوجی کو اسے پڑھنے کے لیے دیا۔(میں اسم ضمیر ہے)
تمھارا بیٹا اگلے مہینے گھر آ رہا ہے۔ (تمھارا اسم ضمیر ہے)