(ج) سورۃ الانفال آیات ۷۰ تا ۷۵

0
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّمَنۡ فِىۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰٓىۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۷۰﴾

اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡا خِيَانَتَكَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡكَنَ مِنۡهُمۡؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏ ﴿۷۱﴾

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَـكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا‌ۚ وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰى قَوۡمٍۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّيۡثَاقٌ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿۷۲﴾

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡهُ تَكُنۡ فِتۡنَةٌ فِى الۡاَرۡضِ وَفَسَادٌ كَبِيۡرٌؕ‏ ﴿۷۳﴾

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اَاوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ‏ ﴿۷۴﴾

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا مَعَكُمۡ فَاُولٰۤٮِٕكَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ‏ ﴿۷۵﴾

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

اَلکَلِیَماتُ وَ التَّرَکِیبُ
اٰوَوْا جگہ دی، پناہ دی۔
اسۡتَـنۡصَرُوا انھوں نے مدد چاہی
وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ خون کا رشتہ دار

سوال(۱) : ایک لائن کا جواب تحریر کریں:

سوال : جو کافر بطورِ قیدی موجود تھے ان کے بارے میں ان آیات میں کیا حکم ہے؟

جواب: جو کافر بطور قیدی موجود تھے ان کے بارے میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کروں گا تو جو مال تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرماؤں گا۔

سوال : جو لوگ ایمان لانے کے بعد بھی ہجرت نہ کریں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب:جو لوگ ایمان لانے کے بعد بھی ہجرت نہ کریں ان کے متعلق کہا گیا کہ جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں مگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو لازمی مدد کرو۔

سوال : سچے مسلمان کون ہیں؟

جواب:جن لوگوں نے حق کی راہ کو قبول کیا اور وطن سے ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اورجنھوں نے ہجرت کی ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔

سوال(۲) : پانچ سے چھ لائن پر مشتمل جوابات تحریر کریں:

سوال۱: اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال کی ان آیات میں قیدیوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟

جواب:جنگ بدر کے اختتام پر جب مسلمان فتحیاب اور کفار شکت خوردہ ہوئے تو بہت سے زخمی اور پیچھے رہ جانے والوں کو قیدی بنا دیا گیا تھا۔مسلمانوں کے ہاتھ دو قسم کے قیدی آئے ایک جو بالکل ہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمن تھے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے دل میں ہی حق کو قبول کر لیا مگر وہ مجبوراً کفار کے لشکر کے ساتھ آئے تھے۔ان میں قیدیوں میں حضرت عباسؓ بھی شامل تھے۔ جب ان سے فدیہ لیکر انھیں آزاد کیا تو انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ہم مسلمان ہو چکے ہم سے فدیہ کیوں وصول کیا جا رہا ہے۔ اس پر آیات نازل ہوئیں کہ اگر دنیا میں تم سے کوئی مال چھن گیا ہم اس سے بدلے میں آخرت میں کئی گنا زیادہ اجر دیں گے۔

سوال۲: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہجرت اور نصرت کے بارے میں کیا باتیں ارشاد فرمائیں؟

جواب: مسلمانوں پر جب مکے میں عرصہ حیات تنگ کر دی گئی تو مسلمانوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔ وہاں آپﷺ نےمہاجرین اور انصار کے مابین بھائی بھائی کا رشتہ قائم کیا۔ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی انھیں اپنے مال و اسباب میں حصہ دیا۔ ان میں اتنے گہرےمراسم بن چکے تھے کہ عموماً مہاجرین و انصار آپس میں وراثت کے حقدار مانے جانے لگے۔ مکہ فتح ہونے کے بعد وراثت کے لیے خونی رشتوں کو اولیت دی گئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی حکم ہوا کہ دوررہنے والے مسلمان بھائی اگر مصیب میں ہوں ان کی مدد مسلمانوں پر لازم ہے۔ اگر کوئی مسلمان بھائی تکلیف میں ہے تو دوسرے مسلمانوں کو اس کی مدد کرنا لازم ہے۔

سوال۳: مندرجہ ذیل عبارت کا مفہوم لکھیے:

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اَاوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌٭

جواب: اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔
مفہوم:مکہ میں مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ جب ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تو مسلمانوں نے وطن سے ہجرت کی۔ مسلمانوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی وہاں آپﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی بھائی کا رشتہ قائم کیا۔ مسلمان بے سر و سامانی کی حالت میں مدینہ میں داخل ہوئے اور انصار نے انھیں دونوں بازو کھولے قبول کیا۔ مگر انصار نے مہاجرین کو رہائش فراہم کی اپنے کاروبار میں حصہ دیا اور ایثار کی مثال قائم کر دی جس پر اللہ تبارک تعالیٰ بھی رشک فرماتا ہے (جو اس کی ذات کے شایان شان ہے) ۔ اس وجہ سے اللہ تبارک تعالیٰ نے ان آیات میں انصار کے لیے فرمایا ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو قربانی دینا جانتا ہو۔ انصار نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ان کا دل ایمان سے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انصار و مہاجرین کے لیے آخرت میں انعام رکھے ہیں۔