Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر10:ڈراما(ترجمہ شدہ)
  • سبق کا نام: بانسری والا

ڈراما بانسری والا کا خلاصہ

بانسری والا سبق صنف کے اعتبار سے ڈراما ہے۔ جس کو جرمن کہانی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کا مقام جرمنی اور منظر میں شہر کے میئر کے دفتر کا کمرہ ہے۔شہر میں سب لوگ پریشان ہوتے ہیں اور باری باری اپنا مسئلہ میئر کے دفتر میں لا رہے ہوتے ہیں۔

ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے لوگ شہر میں چوہوں کی بہتات سے تنگ آچکے تھے۔ کیونکہ وہ ان سے اپنا اناج ،روئی،کپڑے غرض کے پالنے میں سوئے ہوئے اپنے بچے بھی محفوظ نہیں رکھ پا رہے تھے۔یہ چوہے بہت ڈھیٹ تھے انھیں کسی بلی یا کتے کا بھی خوف نہ تھا۔چوہوں کو بھگانے کے لیے کوئی ترکیب کارگر ثابت نہ ہو رہی تھی۔

Advertisement

بلاآخر ایک بانسری والا وہاں آ پہنچا اور اس نے منھ مانگے انعام کے عوض چوہے بھگانے کا دعوی کیا۔میئر نے اسے کہا کہ اگر وہ اسے اس کی منھ مانگی رقم ادا کرے گا۔بانسری والے نے ایک ہزار گلڈر کے عوض چوہے بھگانے کا کہا جبکہ میئر نے کہہ دیا کہ اگر وہ ان کی چوہوں سے جان چھڑاتا ہے تو ایک تو کیا وہ اسے پچاس ہزار گلڈر کی رقم بھی دیں گے۔

بانسری والے نے جیسے ہی بانسری بجانا شروع کی تو شہر کے تمام گھروں سے چوہے نکل کر اس بانسری والے کے پیچھے شہر سے باہر تالاب کی طرف چل دیے۔شہر کے تمام لوگ یہ منظر دیکھ کرحیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہوئے۔سب لوگ ایک دوسرے کو چوہوں سے جان چھوٹ جانے پر مبارکباد دینے لگے۔ایسے میں علاقے کا میئر بھی وہاں آ پہنچا۔

Advertisement

بانسری والے نے جب اپنی انعامی رقم کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس کی زرا سی بانسری بجانے کے وہ ایک ہزار گلڈر کیوں لے گا۔ اس کے تو صرف پچاس گلڈر ہی بنتے ہیں۔یہ سن کر بانسری والے نے میئر سے کہا کہ اگر وہ اس کی مطلوبہ رقم ادا نہیں کرتا ہے تو ان کا انجام چوہوں والی آفت سے بھی زیادہ برا ہو سکتا ہے۔

میئر نے تب بھی انعامی رقم ادا نہ کی تو بانسری والا بانسری بجاتے ہوئے شہر کے باہر کی جانب چل دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے تمام لوگوں کے بچے اس کے پیچھے چل دیے۔ ان بچوں کے والدین ان کو پکارتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے مگر وہ کسی کی نہیں سن رہے تھے۔یوں بانسری والا شہر سے باہر ان کو ایک غار میں لے کر چلا گیا۔

سوچیے اور بتایئے:

لوگ چوہوں کی شرارت سے کیوں تنگ آگئے تھے؟

لوگ اس لیے چوہوں کی شرارت سے تنگ آگئے تھے کہ وہ ان سے اپنا اناج ،روئی،کپڑے غرض کے پالنے میں سوئے ہوئے اپنے بچے بھی محفوظ نہیں رکھ پا رہے تھے۔

Advertisement

چوہوں کو بھگانے کے لیے کون سی ترکیب نکالی گئی؟

چوہوں کو بھگانے کے لیے کوئی ترکیب کارگر ثابت نہ ہو رہی تھی۔بلاآخر ایک بانسری والے نے ایک ہزار گلڈر کے عوض چوہے بھگانے کا دعوی کیا۔

بانسری والے نے چوہوں کو بھگانے کے لیے کون سی شرط رکھی؟

بانسری والے نے یہ شرط رکھی کہ وہ ان چوہوں کو بھگائے گا۔بدلے میں اسے نہ کم نہ زیادہ پورے ایک ہزار گلڈر چاہیے ہوں گے۔

Advertisement

بانسری والے نے وعدہ پورا نہ ہونے پر کیا کیا؟

بانسری والے نے وعدے خلافی کی صورت میں بانسری بجائی تو شہر کے تمام لوگوں کے بچے اس کے پیچھے چل دیے۔وہ شہر سے باہر ان کو ایک غار میں لے کر چلا گیا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے جملے بنائیے:-

شرارت احمد کو ایک شرارت سوجھی۔
برداشتدرد کی شدت اس کی برداشت سے باہر ہوگئی۔
ترکیباس کھانے کی ترکیب تو بہت آسان ہے۔
غار بانسری والا سب بچوں کو ایک غار میں لے گیا۔
وعدہوعدہ خلافی بری عادت ہے۔
قبولمجھے آپ کا ہر حکم قبول ہے۔
رقمآپ نے یہ گھر کتنی رقم میں خریدا۔
حیرانی اچانک سے اپنی پسندیدہ چیز سامنے پاکر اسے حیرانی ہوئی۔
کمال بانسری والے نے چوہے بھگا کر کمال کر دکھایا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھرئیے:

  • بچہ، کاٹ ، سڑک، میٹھی ،آفت
  • یہ پالنے میں سوئے ہوئے بچوں کو بھی کاٹ کھاتے ہیں۔
  • اسی وقت بانسری کیمیٹھی آواز سنائی دی۔
  • بانسری والا سڑک پر کھڑا ہو جاتا ہے۔
  • شکر یہ بھائیو! آخر یہ آفت ٹل ہی گئی۔
  • سارے شہر میں صرف ایک ہی بچہ رہ گیا ہے۔

عملی کام:-

اس سبق کا خلاصہ لکھیے:-

سبق کا خلاصہ اوپر ملاحظہ فرمائیں۔

Advertisement
Juzyat Nigari In Urdu | Urdu Notes ... x
Juzyat Nigari In Urdu | Urdu Notes ٗ| جزئیات نگاری کی تعریف
Advertisement

Advertisement