Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

سید جہاں شارحسین رضوی نام، اختر تخلص تھا۔ آبائی وطن قصبہ خیر آباد ضلع سیتا پور ، اتر پردیش تھا۔ لیکن جاں نثار اختر کی پیدائش 1914 میں گوالیار میں ہوئی۔ ان کے والد مضطر خیر آبادی اور تایا بل خیر آبادی دونوں شاعر تھے۔ جاں نثار اختر نے دسویں جماعت تک تعلیم گوالیار کے وکٹوریہ کالجیٹ ہائی اسکول میں حاصل کی ۔ علی گڑھ سے بی۔اے۔کیا۔ 18/اگست 1976 کو مٹی میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ جاں نثار اختر کا شمار اردو کے اہم ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے نظمیں ، غزلیں اور رباعیاں کہی ہیں ۔ ان کی نظمیں بہت پر اثر ہیں ۔ وطنی ، قومی اور سیاسی نظموں میں ان کے جذبات اور لہجے کی لطافت کا احساس ہوتا ہے ۔’’ سلاسل‘‘ ’’تارگر یہاں‘‘ ’’نذر بتاں‘‘ ، ’’ جاودا‘‘ ’’ گھر آنگن‘‘ ’’ خاک دل‘‘ اور’’ پچھلے پہ‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں ۔ انھوں نے بہت سی فلموں کے گیت بھی لکھے۔

اشعار کی تشریح:

یہ دیش کہ ہندو اور مسلم تہذیبوں کا شیرازہ ہے
صدیوں کی پرانی بات ہے یہ پر آج بھی کتنی تازہ ہے

یہ شعر جاں نثار اختر کی نظم "اتحاد” سے لیا گیا ہے۔ جاں نثار اختر نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کی بات کی ہے اور ان کی شاعری اس بات کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ دیش یعنی ہندوستان ہندو اور مسلم دونوں کی مشترکہ تہذیب کا مرکز ہے۔ اس دیس میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلم آبادی کا بھی ایک بڑا حصہ رہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مشترکہ ہندوستان ایک صدیوں پرانی بات تھی لیکن الگ ہو جانے کے باوجود محبت کا ایک ایسا گہرا رشتہ موجود ہے کہ آج بھی یہ بات تازہ محسوس ہوتی ہے۔

Advertisement
تاریخ ہے اس کی ایک عمل تحلیلوں کا ترکیبوں کا
سمبندھ وہ دو آدرشوں کا سنجوگ وہ دو تہذیبوں کا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کی ایک ایسی تاریخ موجود ہے جس میں بہت کچھ ملا ہوا ہے۔اس سرزمین کی ایک زرخیز تاریخ موجودہے۔یہ جوڑ محض دو تہذیبوں کا نہ تھا بلکہ یہ سرزمین دو طرح کے اصولوں،ضابطوں کا بھی گڑھ تھی۔

وہ ایک تڑپ وہ ایک لگن کچھ کھونے کی کچھ پانے کی
وہ ایک طلب دو روحوں کے اک قالب میں ڈھل جانے کی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں پر ایک دوسرے کو پانے یا کسی مقصد کو کھونے یا پانے کی تڑپ موجود ہوا کرتی تھی۔یہاں کے لوگوں مختلف اصول و نظریات کے باوجود ایک ہی رشتے یعنی محبت کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے۔

یوں ایک تجلی جاگ اٹھی نظروں میں حقیقت والوں کی
جس طرح حدیں مل جاتی ہوں دو سمت سے دو اجیالوں کی

شاعر کہتا ہے کہ ان لوگوں کے ملاپ سے ایک حقیقت ابھر کر سامنے آئی۔یہاں کے لوگوں کا بھائی چارہ ایک ایسی مثال پیش کرتا ہے کہ جیسے دو مختلف سمتوں کی حدیں آپس میں ملی ہوئی ہوں۔

آوازۂ حق جب لہرا کر بھگتی کا ترانہ بنتا ہے
یہ ربط بہم یہ جذب دروں خود ایک زمانہ بنتا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ان لوگوں کی ایک آواز اور حق کی آواز ہی مل کر ایک قوم اور ان کی بھگتی کی آواز بن کر ابھرتی ہے۔لوگوں کا یہ باہمی تعلق و رابطہ ہی ان کی شناخت بناتا ہے۔

چشتی کا قطب کا ہر نعرہ یک رنگی میں ڈھل جاتا ہے
ہر دل پہ کبیر اور تلسی کے دوہوں کا فسوں چل جاتا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں پر کسی بھی طرح کا کوئی نعرہ ہو خواہ وہ قطب کا ہو یا چشتی کا اور چاہے وہ کبیر داس ہو یا تلسی سب کی آواز یک جاں ہو جاتی ہےاور سب محبت و عقیدت اور یک جہتی کا درس دیتے ہیں۔

یہ فکر کی دولت روحانی وحدت کی لگن بن جاتی ہے
نانک کا کبت بن جاتی ہے میرا کا بھجن بن جاتا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں پر ان لوگوں کی فکر کی دولت ایک روحانی وحدت بن کر ابھرتی ہے۔اس سرزمین پر گرونانک کے اشلوک ہوں یا میرا جی کے بھجن سبھی کا ایک نعرہ اور ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔

دل دل سے جو ہم آہنگ ہوئے اطوار ملے انداز ملے
اک اور زباں تعمیر ہوئی الفاظ سے جب الفاظ ملے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے یہاں اس ہندوستان کی سرزمین پر جب مختلف مذہب،عقائد رکھنے والے لوگوں کے دل آپس میں ملے تو ان کے طور طریقے، رہن سہن،نظریات بھی ایک دوسرے سے ملنے لگ گئے۔ان کے آپس کے الفاظ و زبان ملنے سے محبت کی زبان نے جنم لیا تھا۔

یہ فکر و بیاں کی رعنائی دنیائے ادب کی جان بنی
یہ میرؔ کا فن چکبستؔ کی لے غالبؔ کا امر دیوان بنی

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ ہندوستان کی اس سرزمین پر جس فکر و فن نے جنم لیا وہ محض اس سر زمین ہی کی پہچان نہیں بنے بلکہ انھوں نے عالمی ادب میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ یوں یہ ادب میں میر،غالب،چکبست وغیرہ جیسے شعراء کے فکر و فن کی صورت میں ابھر کر امر ہوئی۔

تہذیب کی اس یکجہتی کو اردو کی شہادت کافی ہے
کچھ اور نشاں بھی ملتے ہیں تھوڑی سی بصیرت کافی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس سرزمین یعنی ہندوستان کی یکجہتی اور یہاں کی تہذیب کی یکجہتی کی گواہی دینے کے لیے محض اردو زبان ہی کا فی ہے۔یہاں کی محبت و یکجہتی اور بھی بہت سی باتوں میں پائی جاتی ہے مگر ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔

ٹھمری کی رسیلی تانوں سے نغموں کی گھٹائیں آتی ہیں
چھڑتا ہے ستار اب بھی جو کہیں خسرو کی صدائیں آئی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں کی ثقافت کی پہچان ٹھمری(گیت کی ایک قسم ہے) سے گیتوں کی رسیلی تانیں سنائی دیتی ہیں۔اب بھی اگر کوئی کہیں ستار (آلہ موسیقی) بجاتا ہے تو اس میں سے خسرو(موسیقی کا کئی راگوں کا موجد) کی صدائیں ہی سنائی دیتی ہیں۔

ذہنوں کی گھٹن مٹ جائے گی انساں میں تفکر جاگے گا
کل ایک مکمل وحدت کا بے باک تصور جاگے گا

شاعر کہتا ہے کہ بہت جلد اس سرزمین پر موجود لوگوں کی ذہنی فکر انگڑائی لے کر بیدار ہو گی اور وہ اپنی ذہنی گھٹن اور پسماندگی کو مٹا دیں گے۔ نیا آنے والا کل ان کے لیے ایک وحدت کی اکائی اور تصور لے کر ابھرے گا۔

تعمیر نئی وحدت ہوگی مانوتا کی بنیادوں پر
اے ارض وطن وشواس تو کر اک بار ہمارے وعدوں پر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے ہمارے پیارے وطن ہمارے عہدو پیمان اور ہماری باتوں پر یقین کرو کہ ایک دن یہ وطن ایک نئی اکائی بن کر ابھرے گا جس کی بنیاد یہاں کی انسانیت یہاں کے لوگ ہوں گے۔

اس وحدت اس یک جہتی کی تعمیر کا دن ہم لائیں گے
صدیوں کے سنہرے خوابوں کی تعبیر کا دن ہم لائیں گے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ ہم لوگ ہی اس وحدت اور باہمی یکجہتی کا دن لے کر آئیں گے ہم اس وطن کے لیے کئی صدیوں کے دیکھے گئے خوابوں کی سنہری تعبیر پیش کریں گے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:اس نظم میں شاعر کس دیس کی بات کر رہا ہے؟

اس نظم میں شاعر متحدہ ہندوستان کی بات کر رہا ہے۔

سوال نمبر02:شاعر نے ہندو اور مسلم تہذیبوں میں کیا کیا باتیں یکساں بتائی ہیں؟

ہندو اور مسلم تہذیبوں میں ان کے افکار،زبان،گیت، ادب یہاں کی ثقافت غرض سب آپس میں یکسانیت لیے ہوئے ہیں۔

سوال نمبر03: تہذیب کی یکجہتی کسے کہا گیا ہے؟

تہذیب کی یکجہتی ہندو اور مسلم تہذیب کی یکسانیت یعنی وہاں کی مشترکہ زبان و ثقافت کو کہا گیا ہے۔

سوال نمبر04:شاعر نے نظم کے اخیر میں کس عزم کا اظہار کیا ہے؟

شاعر نے نظم کے آخر میں نئے سرے سے وحدت و یکجہتی کے دن لانے اور پرانے خوابوں کی نئی تعبیر کرنے کا ذکر کیا ہے۔