Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر02: مضمون
  • مصنف کا نام:-میر باقر علی دہلوی
  • سبق کا نام:- بہادر شاہ کا ہاتھی

تعارف مصنف:

میر باقر علی دہلوی ، دلی کے آخری داستان گو تھے۔ وہ داستان سنانے دور دور جاتے تھے۔ راجاؤں اور نوابوں کے دربار میں بلائے جاتے تھے۔ وہ ریاست پٹیالہ میں داستان سنانے کے لیے ملازم بھی رہے۔ پٹیالہ سے دلی آگئے۔ دلی میں املی کی پہاڑی پر ان کا گھر تھا۔

سنیما کے رواج نے داستان گوئی کے فن کو متاثر کردیا جس کی وجہ سے ان کی عمر کا آخری حصہ غریبی میں بسر ہوا۔ داستان گوئی انھیں ورثے میں ملی تھی۔ وہ اپنے نانا میر پیٹرا کے شاگرد تھے۔

شاہد احمد دہلوی نے لکھا ہے: ” میر صاحب بزم اور رزم کو اس انداز سے بیان کر تے کہ آنکھوں کے سامنے پورا نقشہ کی جاتا۔ داستان کہتے جاتے اور موقع بہ موقع ایٹنگ کرتے جاتے ۔ ہر علم کا انھوں نے با قاعدہ مطالعہ کیا تھا۔ بڑھاپے میں نا قدری اور کسمپری کے ہاتھوں میر صاحب کو بڑی تکلیف پہنچی۔میر باقر علی نے’’ پانی پڑوس‘‘ ’’ گاڑے خاں نے ململ جان کو طلاق دے دی‘‘ اور ’’ مولا بخش ہاتھی‘‘ کے نام سے کتابیں بھی لکھی تھیں۔

Advertisement

خلاصہ سبق:

‘بہادر شاہ کا ہاتھی’ سبق میر باقر علی دہلوی کی کہانی ہے۔ جس میں مصنف نے بہادر شاہ ظفر کے ایک ہاتھی کی کہانی کو بیان کیا ہے۔بہادر شاہ کے پاس ، ایک بہت بڑا ہاتھی تھا جس کا نام مولا بخش تھا۔ یہ ہاتھی اتنا اونچا تھا کہ جب اس پر عماری کسی جاتی تھی تو وہ دلی کے کسی بھی دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔

وہ چاروں گھٹنے ٹیک کے شہر سے باہر جاتا تھا اور اسی طرح اندر داخل ہوتا تھا۔ اس لیے بہادر شاہ نے اس ہاتھی کے لیے لاہوری دروازہ توڑوا کر اسےاونچا کروادیا تھاتا کہ ہاتھی با آسانی آا ور جا سکے۔ اس ہاتھی کے برابر اور کوئی ہاتھی دکھائی نہ دیتا تھا۔اس کے فیل بان بخارا کے ایک سید تھے۔اگر یہ ہاتھی کبھی بھپر جاتا تو اس کو قابو پانا مشکل ہوا کرتا تھا۔

ایک دفعہ مولا بخش نے سید صاحب کو مستی میں پاؤں کے نیچے دے کر کچل دیا تو ان کی بیوہ اپنے بچے کے ساتھ آئی اور بچے کو اسکے سامنے رکھ دیا تب تک مولا بخش کی مستی ختم ہو گئی تھی اس کی سید صاحب کہ بچے سے دوستی ہو گئی۔ ہاتھی کو بچے سے کھیلتا دیکھ کر اس بچے کے ساتھ باقی بچے بھی آنے لگے۔ مولا بخش ان بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور وہ جو کہتے تھے کرتا تھا۔ مولا بخش ان کے ساتھ کئی طرح کے کرتب دکھایا کرتا کبھی وہ پاؤں پر آکر بچوں سے سونڈ کو سر پر اٹھا لیتا تو کبھی انھیں گنے چھیل کر دیتا تھا۔

بچے مولا بخش کو نکی آوے کا بولتے تو وہ اپنی ایک ٹانگ پر کھڑا ہو جایا کرتا اور جب تک وہی بچہ اس کق دوبارہ نہ کہتا وہ اپنی ٹانگ نیچے نہ دھرتا۔ غرض مولا بخش ہر طرح سے بچوں کے ساتھ ہلا ہوا تھا۔ مولا بخش اپنی ہر چیز بچوں کے ساتھ مل بانٹ کر کھاتا تھا۔

وہ روٹی بھی تب تک نہ کھاتا جب تک بچوں کے ساتھ بانٹ نہ لیتا یہ دیکھ کر فیل بان نے بادشاہ سے کہا کہ مولا بخش اپنا سارا کھانا بچوں میں بانٹ دیتا ہے اور ان کی ساری باتیں مانتا ہے اس لیے بادشاہ نے حکم دیا کہ کوئی بچہ اس کے پاس نہ آئے۔ اگلے دن مولا بخش بچوں کا انتظار کرتا رہا جب کوئی بچہ اس کے قریب نہیں آیا تو مولا بخش نے کھانا کھانا بند کر دیا۔

تین دن مسلسل نہ کھانے کی وجہ سے فیل بان کو محسوس ہوا کہ مولا بخش کہیں مر نہ جائے تو اس نے بادشاہ کو ساری بات سنائی۔ تب بادشاہ نے ساری بات سن کر کہا کہ میں اور مولا بخش دونوں مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔اللہ نے ہم کو دیا ہی اس واسطے ہے کہ ہم دوسروں سے بانٹ کر کھائیں۔یوں بچے پھر سے محل آنے لگے اور مولا بخش سے مل بانٹ کر کھانے لگے۔یوں ہمیشہ مولا بخش جھک کر بادشاہ کو سلام کرتا اور نہایت ادب سے سرنگوں ہو کر چلتا۔

سوچیے اور بتایئے:

بہادر شاہ نے لا ہوری دروازہ کیوں تڑوایا ؟

بہادر شاہ کے پاس ، ایک بہت بڑا ہاتھی تھا جس کا نام مولا بخش تھا۔ یہ ہاتھی اتنا اونچا تھا کہ جب اس پر عماری کسی جاتی تھی تو وہ دلی کے کسی بھی دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ وہ چاروں گھٹنے ٹیک کے شہر سے باہر جاتا تھا اور اسی طرح اندر داخل ہوتا تھا۔ اس لیے بہادر شاہ نے اس ہاتھی کے لیے لاہوری دروازہ توڑوا کر اسےاونچا کروادیا تھا تا کہ ہاتھی با آسانی آ جا سکے۔

مولا بخش کے پاس بچے کیوں آتے تھے؟

جب مولا بخش نے سید صاحب کو مستی میں پاؤں کے نیچے دے کر کچل دیا تو ان کی بیوہ اپنے بچے کے ساتھ آئی اور بچے کو اسکے سامنے رکھ دیا تب تک مولا بخش کی مستی ختم ہو گئی تھی اس کی سید صاحب کہ بچے سے دوستی ہو گئی۔ ہاتھی کو بچے سے کھیلتا دیکھ کر اس بچے کے ساتھ باقی بچے بھی آنے لگے۔ مولا بخش ان بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور وہ جو کہتے تھے کرتا تھا۔

ہاتھی کی روٹی کیسی ہوتی تھی؟

ہاتھی کی روٹی بہت موٹی اور سخت ہوتی تھی کہ اسے توڑنا مشکل ہوا کرتا تھا۔

مولا بخش نے کھانا کیوں بند کر دیا تھا؟

جب فیل بان نے بادشاہ سے کہا کہ مولا بخش اپنا سارا کھانا بچوں میں بانٹ دیتا ہے اور ان کی ساری باتیں مانتا ہے اس لیے بادشاہ نے حکم دیا کہ کوئی بچہ اس کے پاس نہ آئے۔ اگلے دن مولا بخش بچوں کا انتظار کرتا رہا جب کوئی بچہ اس کے قریب نہیں آیا تو مولا بخش نے کھانا کھانا بند کر دیا۔

بادشاہ اور مولا بخش میں کون سی باتیں ملتی جلتی تھیں؟

بادشاہ اور مولا بخش میں ایک ہی بات ملتی تھی کہ بادشاہ بھی اپنا کھانا بانٹ کر کھاتا تھا اور مولا بخش بھی اپنا کھانا بچوں میں بانٹ کر کھاتا تھا۔

خالی جگہوں کو بھرئیے:

  • مولا بخش چاروں گھٹنے ٹیک کر شہر سے باہر جاتا ہے۔
  • فیل بان بخارا کے سید تھے۔
  • ایک روز مولا بخش نے مستی میں آ کر کو فیل بان کو مار ڈالا۔
  • مولا بخش نے اس بچے کو اپنی گردن پر سونڈ سے پکڑ کر بٹھا لیا۔

نیچے لکھے ہوئے محاوروں سے جملے بنائیے:۔

آنکھ سے اوجھل ہونا بچوں کا والدین کی آنکھ سے اوجھل ہونا اچھا قدم نہیں ہے۔
ٹس سے مس نہ ہونامیں نے احمد کو بہت پکارا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
نظر بچانابچے نظر بچا کر ہاتھی کے پاس آ جاتے تھے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:

بلندپست
غافلاحتیاطی
بے قابوقابو
سر بلندبلند
صبحشام

عملی کام:-

اسم کی جگہ استعمال ہونے والے لفظ کو ’’ضمیر‘‘ کہتے ہیں۔ مثلاً اس ، وہ ، تم ، میں ، ہم وغیرہ۔

اس سبق سے پانچ ایسے جملے لکھیے جن میں کسی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہو۔

  • اس نے ان کی ایک ٹانگ اپنے پاؤں کے نیچے دبا ڈالی۔
  • اس نے بچے کو سونڈ سے پکڑ کر اپنی گردن پر بٹھا لیا۔
  • وہ دہلی کے کسی دروازے سے نکل نہیں سکتا تھا۔
  • وہ چاروں گھٹنے ٹیک کر شہر سے باہر جاتا تھا۔
  • یہ اپنے پاؤں سے اپنی سونڈھ کو ٹیڑھا کر کے بچوں کو اوپر بٹھا لیتا۔