Advertisement

کسی گاؤں میں ایک درزی رہتا تھا جس کی کپڑے کی سلائی کی ایک دکان تھی۔ اسی گاؤں میں ایک ہاتھی بھی رہتا تھا۔ جب ہاتھی بازار سے گزرتا تو دکان والے اس کو کچھ نہ کچھ دے دیتے۔ اس طرح ہاتھی کی دوستی تمام دکانداروں سے ہوگئی اور وہ ان سے بہت مانوس ہوگیا البتہ درزی سے ہاتھی کو کچھ زیادہ ہی لگاؤ تھا۔

Advertisement

ہاتھی جب بھی درزی کی دکان کے آگے کھڑا ہوتا اور اپنی سونڈ دکان کی طرف بڑھا تا تو درزی اسکی سونڈ میں کبھی مٹھائی، پھل، گنا وغیرہ رکھ دیتا اور ہاتھی اس کو شکرگزار نظروں سے دیکھتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔ ایک روز معمول کے مطابق ہاتھی درزی کی دکان پر پہنچا اور اپنی سونڈ کو آگے بڑھایا لیکن درزی اس روز بہت غصے میں تھا لہذا ہاتھی کو کچھ کھلانے کی بجائے ایک سوی اس کی سونڈ میں چبھو دی۔

Advertisement

بچارہ ہاتھی تکلیف کی شدت سے رونے لگا اور خاموشی سے چلا گیا چلتے چلتے ایک جھیل کے کنارے پہنچا۔ نہانے کے بعد ڈھیر سارا پانی پیا اور اپنی سونڈ میں جمع کر لیا۔ پھر وہ گاؤں کے بازار میں واپس پہنچا۔ درزی کی دکان کے آگے جھک کر اس نے اپنی سونڈ کو آگے بڑھایا اور جمع کیا ہوا سارا پانی دکان کے اندر بہا دیا۔

Advertisement

دکان میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا۔ بے شمار کپڑے اور دکان کا سامان پانی میں ڈوب گیا۔ اس طرح درزی کا کافی سامان خراب ہوگیا۔ درزی نے ایک بے قصور اور بے زبان جانور کو بلا وجہ تکلیف دی جس کا بدلہ بے گناہ جانور نے نے جلد ہی لے لیا۔

درزی کو اپنی حرکت پر بہت ندامت ہوئی اور اس نے ہاتھی کے ساتھ آئندہ پیار محبت کرنا شروع کردیا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement