ولادت:☜

شیخ عبد القادر جیلانی کی ولادت گیلان میں ٤٧٠؁ھ میں ہوئی۔آپکاؒ نسب دس واسطوں سے سیدنا امام حسنؓ تک پہنچتا ہے۔18 سال کی عمر میں غالبًا ٤٨٨؁ میں بغداد تشریف لائے۔ یہی وہ سال ہے جس سال امام غزالیؒ نے تلاش حق اور حصول یقین کے لئے بغداد کو خیر باد کہا تھا۔یہ محض اتفاق نہیں کہ جب ایک جلیل القدر امام سے بغداد محروم ہوا تو دوسرا جلیل القدر مصلٰی داعی الی اللہ کا وہاں ورود ہوا۔

آپؒ بغداد میں پوری عالی ہستی اور بلند حوصلگی کے ساتھ تحصیل علم میں مشغول ہو گئے۔عبادت و مجاہدات کی طرف طبعی کشش کے باوجود آپ نے تحصیل علم میں قناعت و زہد سے کام نہیں لیا بلکہ ہر علم کو اسکے باکمال استادوں اور صاحب فن استادوں سے حاصل کیا۔اور اسمیں پوری دستگاہ پیدا کی۔

آپؒ کے استاذہ میں ابو الوفاء ابن عقیل محمد بن الحسن الباقلانی اور ابو زکریا جیسے نامور علماء و ائمہ فن کا نام نظر آتا ہے۔ طریقت کی تعلیم شیخ ابو الخیر حماد بن مسلم الدہاس سے حاصل کی اور قاضی ابو سعید مخرمی سے تکمیل کی اور اجازت حاصل کی۔

اخلاقیات:☜

بایں رفعت و منزلت حد درجہ متواضع اور منکر المزاج تھے۔ ایک بچہ اور ایک لڑکی بھی بات کرنے لگتی تو کھڑے ہو کر سننے لگتے۔اور اسکا کام کرتے۔ غریبوں اور فقراء کے پاس بیٹھتے۔انکے کپڑوں کو صاف کرتے۔ جوؤں کو نکالتے۔لیکن اسکے برخلاف کسی معزز آدمی ؛ اور ارکان سلطنت کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے۔

خلیفہ کی آمد ہوتی تو فقراء دولت خانہ میں تشریف لے جاتے۔یہاں تک کہ خلیفہ آکر بیٹھ جاتا پھر بر آمد ہوتے تاکہ تعظیمًا کھڑا نہ ہونا پڑے۔کبھی کسی وزیر یا سلطان کے دروازے پر نہیں گئے۔ آپؒ کے دیکھنے والے اور آپؒ کے معاصرین آپؒ کے حسن اخلاق علو حوصلہ تواضع انکسار؛ سخاوت وایثار اور اعلٰی اخلاقی اوصاف کی تعریف رطب اللسان ہیں۔بھوکوں کو کھانا کھلانا ؛ غریبوں پر بے دریغ خرچ کرنے کا خاص ذوق تھا۔

علامہ ابن البخار آپؒ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر میرے قبضہ میں دنیا کی ساری دولت ہو تو بھوکوں کو کھانا کھلا دوں۔ اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری ہتھیلی میں سوراخ ہیں، کوئی چیز اسمیں ٹھرتی نہیں۔ اگر ہزار دینار میرے پاس آۓ تو رات نہ گزر پائے۔

تعلقات کا بڑا پاس و لحاظ رکھتے تھے۔غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرتے۔ اگر کوئی کسی بات پر قسم کھا لیتا تو اسکو مان لیتے اور جو کچھ حقیقت حال جانتے تھے انکا اخفاء فرماتے تھے۔

مردہ دلوں پر مسیحائی:☜

سیدنا عبد القادر جیلانیؒ کی کرامت کی کثرت پر مؤرخین کا اتفاق ہے۔ شیخ السلام بن عبد العزیز بن عبد السلام اور امام ابن تیمہ کا قول ہے کہ شیخ کی کرامت حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی کرامت مردہ دلوں کے مسیحائی تھی۔

اللہﷻ نے آپؒ کے قلب  کی توجہ اور زبان کی تاثیر سے لاکھوں انسانوں کو نئی ایمانی زندگی عطاء فرمائی۔ آپؒ کا وجود اسلام کے لئے ایک باد بہاری تھا۔جس نے دلوں کے قبرستان میں نئی جان ڈال دی اور عالم اسلام میں ایمان و روحانیت کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔

شیخ عمر کیسانی کہتے ہیں کہ کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی تھی کہ جس میں یہودی اور عیسائی اسلام قبول نہ کرتے ہوں۔ اور رہزن خونی اور جرائم پیشہ توبہ سے مشرف نہ ہوتے ہوں۔ فاسدالاعتقاد اپنے غلط عقائد سے توبہ نہ کرتے ہوں۔

جیائی کا بیان ہے کہ حضرت نے مجھ سے ایک دن فرمایا کہ میری تمنا ہوتی ہے کہ زمانہ سابق کی طرح جنگلوں اور صحراؤں میں رہوں۔ نہ مخلوق مجھے دیکھے نہ میں اسکو دیکھوں۔ لیکن اللہ تعالٰیﷻ کو اپنے بندوں کا نفع منظور ہے۔میرے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زیادہ عیسائی اور یہودی مسلمان ہو چکے ہیں اور یہ اللہﷻ کی بڑی نعمت ہے۔

مؤرخین کا کہنا ہے کہ بغداد کی آبادی کا ایک بڑا حصہ حضرتؒ کے ہاتھ پر توبہ سے مشرف ہوا اور بکثرت عیسائی و یہودی اور اہل ذمہ مسلمان ہوۓ۔

مواعظ و خطبات:☜

حضرت شیخ کے مواعظ دلوں پر بجلی کی طرح اثر کرتے تھے۔اور وہ تاثیر آج بھی آپؒ کے کلام میں موجود ہے۔ فتوح الغیب اور فتوح الربانی کے مضامین اور آپؒ کی  مجالس کے واعظ کے الفاظ آج بھی دلوں کو گرماتے ہیں۔ ایک طویل مدت گزر جانے کے بعد بھی ان میں زندگی اور تازگی محسوس ہوتی ہے۔ انبیاء علہم السلام کے نائبین وارثین و عارفین کاملین کے کلام کی طرح یہ مضامین بھی ہر وقت کے مناسب اور سامعین و مخاطبین کے حالات و ضروریات کے مطابق ہوتے تھے۔

عام لوگ جن بیماریوں میں مبتلا اور جن مغالطوں میں گرفتار تھے انہیں کا ازالہ کیا جاتا تھا۔اسلیے حاضرین آپؒ کے ارشادات میں اپنے زخم کا مرحم اپنے مرض کی دوا اور اپنے سوالات و شبہات کا جواب پاتے تھے۔اور تاثیر عام نفع کی یہ ایک بڑی وجہ تھی۔پھر آپؒ زبان مبارک سے جو فرماتے تھے وہ دل سے نکلتا تھا۔آپؒ کے کلام میں بیک وقت شوکت وعظمت بھی ہے اور صدیقین کے کلام کی شان یہی ہے۔

توحید خالص اور غیر اللہ:☜

اس وقت ایک عالم کا عالم اھلِ حکومت  اور اھلِ دولت کے دامن سے وابسطہ تھا۔لوگوں نے مختلف انسانوں اور مختلف ہستیوں کو نفع کا مالک سمجھ لیا تھا۔اسباب کو ارباب کا درجہ دے دیا تھا اور قضا و قدر کو بھی اپنے جیسے انسانوں کے متعلق سمجھ لیا تھا۔ایک ایسی فضاء میں حضرت شیخ فرماتے ہیں۔

"کل مخلوقات کو اس طرح سمجو کہ بادشاہ نےجسکا ملک  بہت بڑا جسکا حکم بہت سخت اور رعب و ادب دل دہلانے والا ہے۔ایک شخص کو گرفتار کرکے اسکے گلے میں طوق اور سروں  پر کڑا ڈال کر صنوبر کے درخت میں ایک نہر کے کنارے جسکی موجیں زبردست اور پاۓلٹ بہت بڑا ہے۔ بہت گہری ؛ بہاؤ بہت زوروں پر ہے، لٹکا دیا ہے اور خود ایک نفیس کرسی پر کہ اس تک پہنچنا بہت مشکل ہے،تشریف فرما ہے۔اور اسکے پہلو میں ہر طرح کے اسلحہ کا انبار ہے، جنکی مقدار خود بادشاہ کے سواء کوئی نہیں جانتا۔اب ان میں سے جو چیز چاہتا ہے اٹھاکر اس لٹکے ہوۓ قیدی پر چلاتا ہے۔”

تو کیا یہ 👆تماشہ دیکھنے والے کے لئے مناسب ہوگا کہ وہ بادشاہ پر سے نظر ہٹا لے۔اور اس سے خوف و امید ترک کر دے اور لٹکے ہوۓ قیدی سے امید بیم رکھے۔ کیا جو شخص ایسا  کرے عقل کے نزدیک بے عقل بے ادراک دیوانہ چوپایہ اور انسانیت سے خارج نہیں ہے۔؟؟؟

خداء کی پناہ بینائی کے بعد نابینائی اور وصل کے بعد جدائی اور قرب و ترقی کے بعد تنزل اور ہدایت کے بعد گمراہی اور ایمان کے بعد کفر سے۔۔۔

دنیا کی صحیح حیثیت:☜

حضرت شیخ کے یہاں رہبانیت کی تعلیم نہیوہ دنیا کے استعمال اور اس سے بقدر انتفاع سے منع نہیں فرماتے تھے۔اسکی پرستش اور غلامی اور اس سے قلبی تعلق اور عشق سے منع فرماتے ہیں۔

ان کے مواعظ در حقیقت حدیث نبویﷺ  ان دنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للأخرة” یعنی دنیا تمہارے لئے پیدا کی گئی ہے۔۔  اور تم آخرت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔

ایک موقع پر آپؒ نےفرمایا ۔۔۔ کہ دنیا ہاتھ میں رکھنا جائز۔۔۔جیب میں رکھنا جائز۔۔۔ کسی اچھی نیت سے اسکو جمع رکھنا جائز ۔۔۔ باقی قلب میں رکھنا جائز نہیں۔۔۔ (کہ دل سے بھی دنیا کو محبوب سمجھنے لگ جاؤ) دروازے پر اسکا کھڑا ہونا جائز ۔۔۔ باقی دروازے سے اندر گھسنا ناجائز ہے۔۔۔ نہ تیرے لئے عزت ہے۔

بیعت و تربیت:☜

ان پرتاثیر اور انقلاب آفریں مواعظ سے اھل بغداد کو روحانی اور اخلاقی نفع پہنچا۔اور ہزارہا انسانوں کی زندگی میں اس سے تبدیلی پیدا ہو گئی۔لیکن زندگی کے گہرے تغیرات ہمہ گیر اصلاح اور مسقبل تربیت کے لئے صاحب دعوٰی سے مستقل اور گہرے تعلق اور مسلسل اصلاح تربیت کی ضرورت تھی۔مجالس دعوت ارشاد مدارس کی طرح منضبط اور مستقل تربیت گاہیں نہیں ہوتی جہاں طالبین کی تسلسل و انضباط کے ساتھ تعلیم و تربیت اور نگرانی کی جاۓ۔ان مجالس کے شرکاء اور سامعین آزاد ہوتے ہیں۔کہ ایک مرتبہ وعظ سن کر چلے جاۓ اور پھر کبھی نہ آۓ۔یا ہمیشہ آتے رہیں لیک  اپنی حالت پر قائم رہیں۔اور انکی زندگی میں بدستور بڑے بڑے خلا اور دینی اخلاقی شگاف باقی رہیں۔

زمانہ پر اثر:☜

حضرت شیخ کا وجود اس مادیت زدہ زمانے میں اسلام کا ایک زندہ معجزہ تھا اور ایک بڑی تایئید الہی آپؒ کی ذات ؛ آپؒ کے کمالات؛ آپؒ کی تاثیر اللہ تعالیﷻ کے یہاں آپؒ کی مقبولیت کے آثار اور خلق اللہ میں قبولیت کے کھلے ہوۓ مناظر آپؒ کے تلامیذہ اور تربیت یافتہ اصحاب اخلاق اور انکی سیرت و زندگی سب اسلام کی دلیل اور اس زندگی کا ثبوت تھا۔اور اس حقیقیت کا اظہار تھا کہ اسلام میں سچی روحانیت تہذیب نفس اور تعق مع اللہﷻ پیدا کرنے کی سب سے بڑی صلاحیت ہے۔اور اس کا خزانہ عامرہ کبھی جواہرات ونادرات سے خالی نہیں۔

وفات:☜

ایک طویل مدت تک عالم کو اپنے کمالات ظاہری و باطنی سے مستفید کرکے اور عالم اسلام میں روحانیت اور رجوع الی اللہ کا ذوق پیدا کرکے ٥٦١؁ میں ٩٠سال کی عمر میں وفات پائی۔

جب آپؒ اس مرض میں گرفتار ہوۓ جس میں آپؒ نے وفات پائی تو آپؒ کے صاحبزادے شیخ عبد الوھاب نے آپؒ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ وصیت فرمایئے کہ آپکے بعد اس پر عمل کروں۔

فرمایا ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہو، خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔اور نہ اس کے سوا کسی سے امید رکھو۔اور اپنے تمام ضروریات اللہ کے سپرد کر دو۔صرف اسی پر بھروسہ رکھو اار سب کچھ اسی سے مانگو۔خداء کے سواء کسی پر وثوق و اعتماد نہ رکھو۔توحید اختیار کرو توحید ہر سب کا اجماع ہے۔فرمایا جب دل خدا کے ساتھ دروست ہو جاتا ہے۔تو کوئی چیز اس سے چھوٹتی نہیں ہے۔اور کوئی چیز اس سے باہر نکل جاتی ہے۔

اور اپ نے صاحبزادوں سے فرمایا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ میں ظاہر میں تمہارے پاس ہوں اور باطن دوسروں کے ساتھ ہوں۔ میرے پاس تمہارے سوا دوسرے اور لوگ ہیں۔۔۔( یعنی فرشتے)حاضر ہیں۔ انکے لیے جگہ خالی کرو۔یہاں بڑی رحمت نازل ہے۔انکے لئے جگہ تنگ نہ کرو۔

آپؒ بار بار فرما رہے تھے کہ تم پر خدا کی رحمتیں اور اسکی برکتیں اور  سلامتی ہو۔ اللہ میری  اور تمہاری مغفرت کرے۔ بسم اللہ! آؤ اور واپس نہ جاؤ ۔ اور یہ ایک دن اور ایک رات برابر فرماتے رہے۔ اور فرمایا تم پر افسوس ! مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔۔۔ نہ کسی فرشتہ کی ۔۔۔۔نہ کسی ملک الموت کی ۔۔۔

اے ملک الموت تمہارے کارساز نے ہمیں تم سے زیادہ ہمیں بہت کچھ دے رکھا ہے۔اس دن جس کی شب آپؒ نے رحلت فرمائی۔ ایک بڑی سخت چینخ ماری تھی۔اور آپؒ کے دونوں صاحبزادے شیخ عبد الرزاق و شیخ موسٰی فرماتے تھے کہ آپؒ بار بار اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور فرماتے کہ تم پر سلام ہو۔ خداء رحمتیں اور برکتیں ! جن کی طرف  رجوع کرو اور صف میں داخل کرو۔ میں بھی تمہارے پاس آیا۔

اور آپؒ یہ بھی فرماتے تھے کہ نرمی کرو۔ پھر آپؒ پر امر حق آیا۔اور موت کے نشہ نے غلبہ کیا۔اور آپؒ نے فرمایا میرے اور تمہارے اور تمہارے خلق کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔مجھے کسی پر ویاس نہ کرو۔ نہ کسی کو پر مجھے۔

پھر آپؒ صاحبزادے شیخ عبد العزیز نے آپؒ کی تکلیفِ حال دریافت کی تو فرمایا کہ مجھ سے کچھ نہ پوچھو میں علم الہی میں پلٹے کھا رہاہوں۔ آپؒ نے فرمایا کہ میرے مرض کےمتعلق نہ پوچھو کیونکہ میرے مرض کو نہ  کوئی جانتا ہے اور نہ سمجھتا ہے۔ نہ انسان، نہ جن، نہ فرشتہ۔۔۔خدا کے حکم سے خدا کا کوئی حکم نہیں ٹوٹتا۔حکم بدل جاتا ہے۔ اور علم نہیں بدلتا حکم منسوخ ہو جاتا ہے۔ علم نہیں منسوخ ہوتا۔ اللہﷻ جو چاہے مٹاتا ہے۔ اور جو چاھے باقی رکھتا ہے۔ اسکی پاس اصلی تحریر ہے۔ اس سے کوئی باز پرس نہیں کرتا ۔

پھر آپؒ کے صاحبزادے نے فرمایا کہ آپؒ کے بدن میں کہاں تکلیف ہے؟ فرمایا میرے کل اعضاء مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔ لیکن میرے دل کو کوئی تکلیف نہیں ہے۔اور وہ خدا کے ساتھ صحیح ہے۔ پھر آپؒ کا وقت آخر آیا تو فرمانے لگے۔ میں اس خدا سے سود فرماتا ہوں ۔ جس کے سواء کوئ معبود نہی۔ وہ پاک وبرتر ہے۔ اور زندہ ہے جسے فوت ہونے کا اندیشہ سے پاک ہے وہ جس نے اپنی قدرت سے عزت ظاہر کی۔ اور موت سے بندوں پر غلبہ دکھایا۔اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔

آپؒ کے صاحبزادے شیخ موسٰی فرماتے تھے۔ کہ آپؒ نے لفظ تعوذ فرمایا۔ اور یہ لفظ صحت کے ساتھ آپؒ کی زبان سے ادا نہ ہوا۔ تب آپؒ بار بار اسے دوہراتے تھے۔ یہاتنکہ آپؒ نے آواز بلند اور سخت کرکے لفظ تعوذ اپنی زبان سے ٹھیک ٹھیک  فرمایا۔ پھر تین مرتبہ اللہ اللہ اللہ فرمایا  اس کے بعد آپؒ کی آواز غائب ہو گئ۔آپؒ کی زبان مبارک تالو سے چپک گئ۔ اور روح مبارک رخصت ہوگئی۔

Advertisements