تعارف

عبداللہ بیگ یکم اکتوبر ۱۹۳۶ء کو مراد آباد یوپی انڈیا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مرزا محمود علی بیگ اور والدہ کا نام ام کلثوم ہے۔ آپ کی اہلیہ کا نام سلمیٰ بیگ ہے۔ آپ کی تین صاحبزادیاں ہیں۔ آپ نے اسلامیہ کالج کراچی سے انٹر میڈیٹ کے امتحان پاس کئیے تھے۔ دنیا انہیں عبیداللہ بیگ کے نام سے جانتی ہے لیکن انہوں نے اپنے سفر کا آغاز حبیب اللہ کے نام سے کیا۔ وہ بھی اس طرح کہ ان کی کہانیوں کا راوی مہر سنگھ تھا اور تحریر حبیب اللہ کی تھی۔ یہ کہانیاں ’’الشجاع ‘‘ میں شائع ہوئیں۔ پسند کی گئیں توُ ’ انسان زندہ ہے ‘ کے نام سے کتابی شکل میں سامنے آئیں۔ یہ تقسیم کی وہ کہانیاں ہیں جو ہمیں حیوان اور انسان دونوں کی صورتیں دکھاتی ہیں۔ کچھ ہی دنوں بعد لکھنے والے نے اپنا رشتہ ہوا کے دوش پر سفر کرنے والی آوازوں سے جوڑ لیا۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے فیچر اور ڈرامے لکھے ، اپنی پُر اثر آواز میں کہانیاں سنائیں لیکن کسی ایک مقام پر قیام شاید ان کے مزاج اور مقدر میں نہ تھا۔ ٹیلی ویژن آیا اور اسلم اظہر نے ان کی آواز اور عکس کا رشتہ ادب سے جوڑ دیا۔ وہ ادیب تھے ، علم پرور تھے ، قاموسی مزاج رکھتے تھے جس کی پرورش ان کے وسیع مطالعے نے کی تھی۔

مغلوں کو راجپوتوں سے جو وابستگی رہی یہی سبب راجپوتوں سے ان کے گہرے قلمی تعلق کا تھا۔ بحیثیت انسان عبید اللہ بیگ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ بے حد با اخلاق، مُہذبّ اور ہر کسی کے لیے ادب واحترام کے قابل تھے۔ طبعاً شرمیلے انسان تھے مگر جب گفتگو کرتے تو بے تکان بولتے تھے۔ ان جیسی معلومات کم آدمیوں میں دیکھی گئی ہے۔ اسی وجہ سے ان سے اکثر ٹی وی کے لیے رواں تبصرہ کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی سربراہی کانفرنس کی تقریبات پر رواں تبصرہ ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی

آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز سٹاف رائٹر روزنامہ الشجاع سے کیا۔
اسی دور میں آپ کا پہلا ناول ’’اور انسان زندہ ہے‘‘ قسط وار شائع ہوا۔ اس اخبار میں آپ جم جونیر اور حبیب اللہ کے نام سے لکھتے رہے۔اس کے بعد آپ نے بہت سارے اخباروں میں کام کیا۔ آپ نے مقبول ترین پروگرام کسوٹی میں کام کیا۔ آپ ڈپٹی کنٹرولر پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر، بانی مدیر ٹی وی نامہ بھی رہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات IUCN سے بحیثیت کوارڈینیٹر منسلک رہے اور ایک رسالہ جریدہ بھی جاری کیا۔

ادبی خدمات

’’کسوٹی‘‘ ایک ایسا علمی ، ادبی اور تہذیبی پروگرام بن کر سامنے آیا جس کے روح رواں عبداللہ بیگ ، قریش پور اور افتخار عارف تھے ۔ ’’کسوٹی‘‘ واقعی ایسی کسوٹی بن گئی جس پر دیکھنے والوں کا ذوق کسا گیا تو وہ کھرا سونا ثابت ہوا۔ بیس سوالوں کے دائرے میں عبداللہ بیگ ، قریش پور اور افتخار عارف سوال کرنے والے کو یوں گھیرتے کہ دیکھنے والوں کو لطف آ جاتا۔ ’’کسوٹی‘‘ کھیلنے والے ان لوگوں میں سب ہی اپنی اپنی جگہ کمال کے لوگ تھے۔ بعد میں افتخار عارف رخصت ہوئے تو ان کی جگہ غازی صلاح الدین نے لی۔ متنوع مطالعے کی وسعت ، حافظے کے کمال اور ذہانت کی لپک نے عبیداللہ بیگ کو راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔ آج ہم یہ سمجھنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں کہ سوقیانہ باتیں کرنے والے ہی ’’ سیلی بریٹی ‘‘ ہیں لیکن یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمارے زمانے میں عالم ، ادیب اور ادب دوست ’’ سیلی بریٹی ‘‘ شمار ہوتے تھے۔

سیلانی

’’کسوٹی‘‘ کے بعد عبداللہ بیگ ’’سیلانی‘‘ بنے۔ انہوں نے ’’سیلانی‘‘ دستر خوان تو نہیں بچھایا، لیکن کیمرے کی آنکھ سے پاکستان اور بطورِ خاص سندھ کے بھولے بسرے علاقوں کے حسن کو اس طرح فلم کے فیتے پر منتقل کیا کہ وہ منظر ہماری نگاہوں میں کُھب گئے۔ یوں جیسے کوئی ہنر مند گدڑی میں چھپا ہوا لعل ڈھونڈ نکالے ، یا کسی کسان کی شرماتی ہوئی بیٹی کا حسن نیم رخ دکھائی دے۔ انہوں نے درجنوں ڈاکو منٹری فلمیں بنائیں ، ملکی اور غیر ملکی اعزاز سمیٹے۔ ڈرامے لکھے اور ان میں بھی کمال کو پہنچے۔

وہ ایک ماہر شکاری تھے، انہیں معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ کون سی گھڑی تھی جب ایک شکاری شیر ، چیتل ، مارخور ، بارہ سنگھے اور برفانی ریچھ کی معدوم ہوتی ہوئی نسل کا محافظ بن گیا اور ماحولیات کی تباہی ان کا ذاتی مسئلہ ٹھہری۔ کبھی نوری جام تماچی کی کہانی کے ساتھ کینجھر جھیل کی لہروں پر سفر کیا اور کبھی اوزون کے غلاف کی رفوگری کے خواہاں ہوئے۔ ملکہ نور جہاں سے ایک روایت منسوب ہے جس نے آگرہ شہر میں کسی بے مثال رفو گر کی تلاش میں کنوؤں میں بانس ڈلوا دیے تھے۔

ناول

راجپوتوں اور مغلوں کے تعلق نے ان سے آخری برسوں میں ’’راجپوت ‘‘ جیسا ناول لکھوایا۔ اس داستان میں مسلمان ، ہندو ، انگریز سب ہی روا داری ، دلداری اور دشمن داری کے ایسے دھارے میں بہتے ہیں جس سے ہماری موجودہ نسل نا آشنا ہے۔

تخلیقات

  • آپ کی مشہور و معروف تخلیقات کے نام درج ذیل ہیں :
  • اور انسان زندہ ہے
  • راجپوت
  • چی گویرا کی ڈائری
  • برازیل کے جنگلوں میں
  • سکندر صاحب
  • آدم خور
  • گوشہ عافیت
  • بیگم نے شکار کھیلا
  • کالا گھاٹ کا آدم خور
  • بیگم نے سچ مچ شکار کھیلا
  • ڈگری
  • شطر نٹری
  • لائف بوٹ
  • چاند رات
  • ۳۹ دستاویزی فلمیں مغربی پاکستان پر عکس بند ہوئیں۔
  • ۱۰ فلمیں مشرقی پاکستان پر عکس بند ہوئیں۔
  • آپ نے اس کے علاوہ بھی ادب کی بےشمار خدمت کی ہے۔

اعزازت

آپ کو حکومت نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔
طویل اور اعلیٰ کار کردگی پر پاکستان ٹیلی وزن کی جانب سے سپاس نامہ بھی عطا کیا گیا۔

آخری ایام

بیگ صاحب ۲۲ جون 2012 کو 76 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات حقیقی معنوں میں پاکستان کا ایک بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کی ذات نوجوانوں بلکہ سب ہی کے لئے علمیت کے ایک قیمتی خزانے کی مانند تھی۔ ان کی کثیر الجہت شخصیت اردو علم و ادب کے شیدائیوں کے لئے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتی تھی۔ بلاشبہ وہ ایسی شخصیت تھی جسے اردو کے قدر دان فخر سے کسی بھی مقابلے میں سرخرو ہی دیکھتے تھے۔ فلسفہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سیاحت، ماحولیات، شاعری و ادب میں کمال فن عبیداللہ بیگ کی شخصیت کا خاصہ تھا۔

Advertisements