عابد مناوری کی حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

غزل نمبر 1

باطن کی آنکھ سے جو کبھی دیکھتا ہوں میں
لگتا ہے جیسے خود سے بھی نا آشنا ہوں میں

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ جب کبھی میں دل کی آنکھ سے دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ میں ابھی خود سے بھی انجان ہوں۔ ایسی بصیرت حیرت سے دیکھنے سے ایک ناآشنائی محسوس ہوتی ہے اور سب سے بڑی چیز اپنے آپ کو پہچانا ہے پھر خدا کا انکار کیوں کر سکتے ہیں۔

اس در سے خالی ہاتھ ہی پلٹا ہے ہر کوئی
دست سوال لے کے کہاں آ گیا ہوں میں

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی شکایت کر رہا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ محبوب کی طرف سے امیدوں کو لے کر ٹھوکریں ملی ہیں اور یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا ہے بلکہ ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں بھی کتنا عجیب ہوں کہ محبوب کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہوں اور وہاں جہاں مجھے کچھ مل نہیں سکتا۔

مجھ کو ہوا اڑا کے جدھر چاہیے لے چلے
پتا ہوں اور شاخ سے ٹوٹا ہوا ہوں میں

اس شعر میں شاعر نے اپنی اداسی کا بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میں تو شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا ہو اب معمولی سی ہوا مجھے اڑا کر لے جا سکتی ہے۔ شاعر غم سے ٹوٹا ہوا ہے اور معمولی غم سے بھی وہ گھبرا رہا ہے۔

مجھ سا بھی سادہ لوح زمانے میں ہے کوئی
اپنی تباہیوں پر بھی خوش ہو رہا ہوں میں

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ اب اتنا بھی ہوش نہیں ہے کہ تباہیوں اور خرابیوں پر میں اشک بہانے کے برعکس خوش ہو رہا ہوں۔ اتنا غم سے ٹوٹا ہوا ہوں کہ اب اچھے برے کی تمیزبھی باقی نہیں ہے۔

ہے ٹھیک یا غلط مرا انداز گفتگو
عابدؔ جو کہنا تھا مجھے وہ کہہ گیا ہوں میں

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنی باتوں سے دوسرے کی دل آزاری پر تھوڑی سی ندامت ہے مگر دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ میں کروں بھی کیا جو غم زمانے نے مجھے دیے ہیں اس پر برانگیختہ ہونا قدرتی امر ہے لہذا میرا انداز گفتگو ٹھیک ہو یا غلط مگرمجھے تو یہی کہنا تھا۔

غزل نمبر 2

میرے آنگن سے کبھی ہو کے نہ گزرا سورج
راستہ اپنا کسی دن تو بدلتا سورج

اس شعر میں شاعر نے استفامیہ انداز بیان اختیار کیا ہے کہ ہر کوئی محبت کی دولت سے آباد ہے لیکن میرے دل کے آنگن میں کبھی امیدوں کا سورج نہیں نکلا ہے ،کیا کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میری امیدوں کے پھول بھی کھل اٹھیں۔

دن جو نکلا بھی تو چھائے رہے غم کے بادل
دل کی نگری پر کبھی کھل کے نہ چمکا سورج

اس شعر میں شاعر نے اپنے غم کا اظہار کیا ہے اور کہتے ہیں کہ میرے دل پر ہمیشہ غم کے بادل چھائے رہے۔ اگر کبھی امید کا سورج نکلا بھی تو اس میں بھی غم چھپائے ہوئے تھے یعنی میری قسمت میں ہمیشہ غم ہی لکھے ہوئے ہیں اور کبھی خوشی مجھے میسر نہیں ہوئی۔

قہقہہ زن ہے مری ہار پہ دشمن میرا
پردہ شب سے پھر ایک بار نکل آ سورج

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر بار میں نے قسمت ہاری ہے اور میری اس ہار پر سب لوگ اپنے پرائے نالہ لگا رہے ہیں۔ اب اے خدا کیا میری قسمت میں خوشی لکھی ہے یا نہیں ،اب تو میں اس بات کی امید لگائے بیٹھا ہوں کہ میرے غموں سے مجھے نجات ملے گی۔

اک طرف رات کی شیدامہ و انجم کتنے
ایک طرف دن کا پرستار اکیلا سورج

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ میرے دشمن کب مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر کوئی میری بربادی پر تلا ہوا ہے اور ان ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں میں ایک ہوں۔ جس نے ان کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ مقابلہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب میرے ہاتھ میں کوئی خوشی ہو اور میرے پاس امید کا سورج ہو۔

غیر ممکن ہے شب غم کی سحر اے عابدؔ
کس نے مغرب سے نکلتے ہوئے دیکھا سورج

اس شعر میں شاعر نے اپنے غموں کا بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں غموں کے دلدل میں پھنس کر امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ لیکن ایک نا ایک دن تو برائی کا خاتمہ ہونا ہی ہے اسی امید پر میں جی رہا ہوں۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔