تعارف

ابوالفضل صدیقی ۴ ستمبر ۱۹۰۸ء میں بدایوں, اترپردیش برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔  آپ کے دادا چوہدری احمد حسن علاقے کے معزز زمیندار ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے اور علیل تخلص کرتے تھے، اس کے علاوہ قانون پر اچھی دسترس رکھنے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے اعزازی عدالتی عہدے ‘منصفی’ پر بھی فائز تھے۔ چوہدری احمد حسن کے چھوٹے بیٹے اور ابوالفضل کے والد محترم ابوالحسن صدیقی بھی علی گڑھ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، معروف وکیل اور شاعر و ادیب بھی تھے۔ 

ابوالفضل کے والد نے بدایوں میں ابوالفضل کو ایک مشن اسکول میں داخل کروا دیا۔ مشن اسکول میں دو سال گزارنے کے بعد وہ سینٹ جارجز کالج مسوری میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے جو اس وقت ہندوستانیوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ بہرحال وہاں سے سینئر کیمبرج کر کے واپس آئے تو اپنی زمینداری سنبھالی۔ 

ادبی تعارف

بیسویں صدی کے منفرد اور صاحبِِ طرز افسانہ نگاروں کی فہرست بنائی جائے تو اس میں ابوالفضل کا نام اس لیے ضرور شامل ہوگا کہ ابو الفضل نے ایک طرف اردو داستان گوئی کی روایت,تکنیک اور مزاج کے وہ عناصر اپنے افسانوں کے مزاج اور بنت میں جذب کئیے ہیں جن سے کہانی میں دلچسپی و اثر آفرینی دو چند ہوجاتی ہے۔ ابوالفضل صدیقی اردو افسانے کی روایت میں ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ فطری قصہ گو تھے , چنانچہ ان کے فکشن میں افسانے کی حکائی روایت اور تحریری روایت کا ایک دلچسپ امتزاج ملتا ہے۔

انھوں نے لمبی عمر پائی اور ایک ہری بھری تخلیقی زندگی گزاری۔ لکھنا ان کی زندگی کے معمولات میں شامل تھا۔ تاہم ان کی زندگی میں ان کا جو تخلیقی سرمایہ منظرِ عام پر آیا اس سے کہیں زیادہ شائع ہونے سے رہ گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو فکشن کے عام جائزوں میں ابوالفضل صدیقی کو مناسب اور بہ قدر استحقاق جگہ نہیں دی گئی۔ ابوالفضل اور ان جیسے بہت سے افسانہ نگاروں کا کام ہم سے بہتر سلوک اور توجہ کا تقاضہ کرتا ہے۔ ابو الفضل صدیقی کے ساتھ یہ دشواری بھی پیش آئی کہ ایک تو ان کی کتابوں کے ہندوستانی ایڈیشن چھپے ہی نہیں ,  اور اگر چھپے بھی تو اردو کتابوں اور رسائل کی آمد و رفت پر پابندی نے انھیں ہندوستان  میں بالکل ہی روپوش رکھا۔ ابوالفضل صدیقی کے بھانجے خالد جاوید بھی اردو کے باصلاحیت افسانہ نگارہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو سے بھی وابستہ ہیں۔

تصانیف

ابوالفضل صدیقی کی مشہور و معروف تصانیف و تراجم درج ذیل ہیں :

  • اہرام
  • تعزیر
  • رموز باغبانی
  • سرور
  • چار ناولٹ
  • انیس سو چوراسی
  • جوالا مکھی
  • آئینہ
  • انصاف
  • ترنگ
  • گلاب خاص
  • دن ڈھلے
  • عہد ساز لوگ
  • ستاروں کی چال
  • زخم دل
  • شکنی
  • کہاں کے دیر و حرم

اعزازات

ابو الفضل صدیقی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے افسانے”چڑھتا سورج”پر ان کو یونیسکو کا بین الاقوامی انعام دیا گیا۔
ناولٹ”گل زمین کی تلاش میں” پر  نقوش صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔
اور ناول "ترنگ” پر نیشنل بک کونسل ایوارڈ دیا گیا۔

آخری ایام

ابوالفضل صدیقی 16 ستمبر، 1987ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔انھیں کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ہے۔

Advertisements