Advertisement

افسانہ بوڑھی کاکی کا خلاصہ:

بوڑھی کاکی پریم چند کا افسانہ ہے جس کی کہانی ایک بزرگ خاتون کے گرد گھومتی ہے جس کے شوہر اور سات بیٹوں کی وفات کے بعد وہ اپنے بھتیجے کے آسرے جی رہی تھی۔اس نے اپنی تمام جائیداد بھتیجے کے نام کر رکھی تھی۔اب بوڑھی کاکی کے عزیزوں میں اس کا بھتیجا بدھ رام اس کی بیوی روپا اور بدھ رام کے دو بیٹے اور ایک بیٹی لاڈلی ہی تھے۔

Advertisement

بوڑھی کاکی نے اپنی تمام جائیداد انھیں دے رکھی تھی اس کے باوجود وہ یہاں بہت برے حالات میں جی رہی تھی۔ اس کو دو وقت کا کھانا بھی مشکل سے میسر تھا۔کاکی کی حالت بچوں کی سی ہو چکی تھی۔ اگر اسے کھانےکو کچھ نہ دیا جاتا تو وہ رونے لگ جاتی تھی۔

Advertisement

ایک دفعہ کاکی کے گھر پر اس کے بھتیجے کے بڑے لڑکے کی تلک کی رسم تھی۔ پورے گھر میں طرح طرح کے پکوانوں کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ کاکی کا کھانے پر بہت جی للچایا۔اسے فکر ہوئی کہ اگر اسے کھانا نہ ملا تو یہ سوچ کر کاکی اپنی کوٹھری سے باہر آگئی۔مگرروپا کاکی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھ کر غصے سے ابل پڑی اور کہنے لگی کہ اس کے ایسے پیٹ میں آگ لگے اس کا پیٹ ہے یا آگ کا کنواں ہے۔

ابھی مہمانوں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ دیوتاؤں کو بھوگ لگا ہے۔اس سے صبر نہ ہو سکا آکر چھاتی پر سوار ہو گئی۔دن بھر نہ کھاتی رہتی تو نہ جانے کس کی ہانڈی میں منھ ڈالتی۔اتنا کھاتی ہے نہ جانے کہاں جاتا ہے۔اگر اپنا بھلا چاہتی ہو تو جاکر کوٹھری میں بیٹھو۔

Advertisement

کاکی کو اس تمام واقعے کا بہت صدمہ پہنچا۔ پہلی بار اسے رونا نہ آیا گھر مہمانوں سے بھرا تھا روپا نے سب کے سامنے کاکی کو ذلیل کیا تھا۔کاکی اب کمرے میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی جب اسے کسی نے کھانا نہ دیا تو اسے لگا کہ مہمان جاچکے ہوں گے اور اسے بلانا بھول گئے ہوں گے۔ یہ سوچ کر کاکی دوبارہ کوٹھری سے باہر آگئی۔ اب کی بار کاکی کو باہر پا کر اس کے بھتیجے نے اسے بازو سے گھیسٹے ہوئے کمرے میں لے جاکر بند کر دیا۔ کاکی کو کھانا نہ دیا گیا۔

Advertisement

بس گھر بھر میں ایک لاڈلی ہی تھی جسے کاکی کے ساتھ اس کے ماں باپ کے کئے گئے برتاؤں کی وجہ سے اور کاکی کے بھوکے ہونے کی وجہ سے نیند نہ آرہی۔ وہ اپنا حصہ سب سے چھپا کر کاکی کے پاس لے گئی۔ وہ کھانا کھانے سے کاکی کی بھوک مٹنے کی بجائے مزید بڑھ گئی۔اس نے لاڈلی سے مزید کھانا مانگا اور نہ پا کر اسے کہا کہ وہ اسے وہاں لے جائے جدھر برتن موجود ہیں اور وہاں جاکر کاکی جھوٹے برتن چاٹنے لگی۔

لاڈلی کواپنے پاس نہ پاکر جب روپا کی آنکھ کھلی تو کاکی کو جھوٹے پتیلے چاٹتے دیکھ کر روپا کا کلیجہ سن ہو گیا۔ایک برہمنی دوسروں کا جھوٹا ٹٹول کر کھا رہی ہے یہ ایک عبرت ناک نظارہ تھا۔ روپا کو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے آسمان رک گیا ہو زمین چکر کھا رہی ہو۔درد اور خوف کے مارے روپا کی آنکھیں بھر آئیں۔اس نے سچے دل سے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی کہ پرمآتما میرے بچوں پر رحم کرنا۔ روپا نے کاکی کے سامنے کھانے کی تھالی لا کر پیش کی اور اسے کہا کہ وہ اسے اس کی نادانیوں پر معاف کر دے۔روپا کے معافی مانگنے پر کاکی ایک بھولے بھالے بچے کی طرح اس سے راضی ہوکر سب کچھ بھول بھال گئی اور بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔ کھانا کھاتے ہوئے اس کا رواں رواں روپا کےلیے دعا گو تھا۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر01:کاکی کے عزیزوں میں کون کون باقی بچا تھا؟

کاکی کے عزیزوں میں اس کا بھتیجا بدھ رام اس کی بیوی روپا اور بدھ رام کے دو بیٹے اور ایک بیٹی لاڈلی تھی۔

سوال نمبر02:روپا نے کاکی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھ کرغصے میں کیا کہا؟

روپا کاکی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھ کر غصے سے ابل پڑی اور کہنے لگی کہ اس کے ایسے پیٹ میں آگ لگے اس کا پیٹ ہے یا آگ کا کنواں ہے۔ابھی مہمانوں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ دیوتاؤں کو بھوگ لگا ہے۔اس سے صبر نہ ہو سکا آکر چھاتی پر سوار ہو گئی۔دن بھر نہ کھاتی رہتی تو نہ جانے کس کی ہانڈی میں منھ ڈالتی۔اتنا کھاتی ہے نہ جانے کہاں جاتا ہے۔اگر اپنا بھلا چاہتی ہو تو جاکر کوٹھری میں بیٹھو۔

Advertisement

سوال نمبر03:لاڈلی کو نیند کیوں نہیں آرہی تھی؟

لاڈلی کو کاکی کے ساتھ اس کے ماں باپ کے کئے گئے برتاؤں کی وجہ سے اور کاکی کے بھوکے ہونے کی وجہ سے نیند نہ آرہی تھی۔

Advertisement

سوال نمبر04:کاکی کو جھوٹے پتل چاٹتے دیکھ کر روپا کا ردعمل کیا تھا؟

کاکی کو جھوٹے پتلے چاٹتے دیکھ کر روپا کا کلیجہ سن ہو گیا۔ایک برہمنی دوسروں کا جھوٹا ٹٹول کر کھا رہی ہے یہ ایک عبرت ناک نظارہ تھا۔ روپا کو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے آسمان رک گیا ہو زمین چکر کھا رہی ہو۔درد اور خوف کے مارے روپا کی آنکھیں بھر آئیں۔اس نے سچے دل سے آسمان کی طرھمف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی کہ پرمآتما میرے بچوں پر رحم کرنا۔

سوال نمبر05:روپا کے معافی مانگنے پر کاکی نے کیا کیا؟

روپا کے معافی مانگنے پر کاکی ایک بھولے بھالے بچے کی طرح اس سے راضی ہوکر سب کچھ بھول بھال گئی اور بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔ کھانا کھاتے ہوئے اس کا رواں رواں روپا کےلیے دعا گو تھا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement