Advertisement

عصمت چغتائی بے باک اور حساس افسانہ نگار ہیں، وہ معاشرتی اقدار اور تہذیبی رویوں سے بغاوت کرتی نظر آتی ہیں، انہوں نے اپنے بیشتر افسانوں میں متوسط گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں کی نفسیاتی الجھنوں کو موضوع بحث بنایا ہے۔

Advertisement

افسانے کا خلاصہ

”چوتھی کا جوڑا“ ان کے بہترین افسانوں میں سے ایک ہے۔ افسانے کی کہانی غریب بیوہ خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہے، خاتون کپڑے سی کر گزر اوقات کرتی ہے اور بڑی بیٹی کی شادی کے حوالے سے پریشان ہے، بیٹی کے لیے بڑے ارمان سے چوتھی کا جوڑا سینا چاہتی ہے، اسی دوران ان کا ایک عزیز لڑکا جو کسی سرکاری محکمے میں متعین ہے، ان کے گھر رہنے آتا ہے، یہ سارا گھرانہ اس کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتا ہے۔ بڑی بیٹی بھی اس کے خواب سینے میں سجا لیتی ہے اور اس کی ہر سہولت کا خیال رکھتی ہے، لیکن وہ کچھ عرصہ قیام کے بعد اپنی شادی کے لیے وہاں سے واپس چلا آتا ہے۔ بڑی بیٹی یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتی اور اپنی جان دیتی ہے اور وہ چوتھی کا جوڑا جو اس کی ماں شادی کے لیے سیتی رہی اب وہی اس کا کفن بن جاتا ہے۔

Advertisement

موضوع اور مقصد

عصمت سماج میں خواتین کی تعلیم اور خود انحصاری کی وکیل ہیں اور اس افسانے سے بھی یہی پیغام دینا مقصود ہے کہ اگر خواتین تعلیم یافتہ، ہنر مند اور خود کفیل ہوں تو کئی طرح کے مصائب کا مقابلہ بآسانی کر سکتی ہیں۔

زبان و بیان

عصمت نے اس افسانے میں تشبیہات و استعارات کا خوب استعمال کیا ہے۔ وہ خواتین کی زبان اور نفسیات سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے مختلف کرداروں کی گفتگو اور زبان کردار کی نوعیت کے عین مطابق ہے، نثری بے ساختگی بھی اس افسانے کی نمایاں خوبی ہے۔

Advertisement

احساس نگاری

عصمت خواتین کی نفسیات کو بیان کرنے میں مہارت رکھتی ہیں، اس افسانے میں ان کے کردار ایک باپردہ مسلم معاشرے کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے الفاظ کردار کی زبان سے ادا نہیں کروائے بلکہ مختلف جذبات و کیفیات کو احساس نگاری کی صورت میں بیان کیا ہے۔

اختتامیہ

عصمت کا یہ افسانہ اپنے موضوع، زبان و بیان اور طرزِ ادا کی بدولت اردو افسانہ نگاری میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ عصمت کی بے باک نگاری کے معترضین بھی اس افسانے کو بہترین افسانہ مانتے ہیں۔

Advertisement
تحریرواصف رحیم