Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو” برائے دسویں جماعت۔

افسانہ گلی ڈنڈا کا خلاصہ

پریم چند کا یہ افسانہ یک رخے انداز میں کہانی کا بیان ہے۔ جس میں مصنف نے ہندوستانی معاشرے کے ایک مقامی کھیل گلی ڈنڈا کو کہانی کی بنیاد بنایا ہے۔ مصنف کا بچپن اپنے علاقے کی گلیوں میں گلی ڈنڈا کا کھیل کھیلتے ہوئے ہی پروان چڑھا تھا۔

اس کے مطابق یہ کھیل تمام کھیلوں کا راجا تھا کہ اس کے لیے کسی میدان،شنگارڈ،نٹ یا بلے کی ضرورت نہ تھی۔کسی بھی درخت کی شاخ کاٹی، دو لوگ مل کر کھیل کھیلنے لگے۔اس کے لیے کسی ٹیم کی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی اس کھیل پر کوئی خرچہ درکار تھا۔اس میں امیروں کے چونچلے نہ تھے اور نہ ہی کسی امیر غریب کا کوئی تضاد موجود تھا۔

مصنف کا کہنا تھا کہ ہم خواہ مخواہ فرنگیوں کے پیچھے پڑ کر ان کے کھیل کھیلنے لگ گئے ہیں۔مصنف جہاں گلی ڈنڈا کھیلتا تھا وہاں ایک گیا نام کا لڑکا تھا۔جو اس زمانے میں اس کھیل کا چیمپئن مانا جاتا تھا۔ جس ٹیم کے ہمراہ گیا کھیلا کرتا تھا اس کی جیت یقینی مانی جاتی تھی۔ وہ اس کھیل کے تمام ہنر جانتا تھا۔

ایک روز مصنف اور گیا دونوں نے اکیلے میں گلی ڈنڈا کھیلا اور مصنف کے گیا کو پدانے کے بعد جب خود کی پدنے کی باری آئی تو وہ بھاگ نکلا۔گیا نے جب اسے روک کر اپنی باری کا مطالبہ کیا تو مصنف نے نہ صرف انکار کیا بلکہ رونے بھی لگا۔ کچھ عرصہ بعد مصنف اس گاؤں سے دور چلا گیا جہاں اس کا بچپن بیتا تھا۔

ایک طویل عرصے بعد جب وہ ضلع انجینئر بن گیا تو کام کے سلسلے میں اسے اس گاؤں آنا پڑا۔ جہاں اس کی ملاقات گیا سے ہوئی۔ گیا ایک عام سا مزدور تھا۔ مصنف نے پھر سے گیا کے ساتھ کھیلنے کا مطالبہ کیا دونوں اس کھیل کو کھیلنے کے لیے گاؤں سے باہر ایک جگہ پر گئے۔ جہاں ضلع انجینئر نے گیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے کئی داؤں کھیلے۔

گیا کے داؤں سے بچنے کے لیے ضلع انجینئر نے مشق کی کمی کو بے ایمانی سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ داؤں پورا ہونے پر بھی ڈنڈا کھیلا جاتا تھا۔ گلی پر ہلکی چوٹ پڑنے سے وہ ذرا دور جاتی تو لپک کر خود ہی اٹھا لاتا اور دوبارہ سے ضرب لگاتا تھا۔ گلی جب ڈنڈے سے لگتی تب بھی صاف مکر جاتا کہ گلی کو ڈنڈے نے چھوا ہی نہیں ہے۔

غرض مصنف نے اس روز ہر طرح سے اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی تھی۔ آخر کو ضلع انجینئر گیا کو ہرا کر جیت گیا۔گیا نے بتایا کے کل یہاں گلی ڈنڈے کا کھیل کھیلا جائے گا اور میرے بہت سے پرانے ساتھی بھی آئیں گے تب دوسرے روز گیا کو پرانے دنوں کی طرح چاق و چوبند،پھرتیلا اور ناقابل شکست کھیلتا دیکھ کر مصنف کو احساس ہوا کہ گیا تو کبھی گلی ڈنڈا کھیلنا بھولا ہی نہ تھا۔بلکہ کل وہ جان بوجھ کر اس سے ہار رہا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گیا نے اپنے اور مصنف کے درمیان اس کے رتبے کو حائل کر لیا تھا۔ اس سے مصنف کو احساس ہوا کہ گیا نے اس کی دھاندلیوں کا اسے جان بوجھ کر احساس نہ دلایا تھا۔ اب وہ کبھی اس کا ہمجولی نہیں بن سکتا ہے بلکہ وہ چھوٹا اور گیا بڑا ہو گیا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:مصنف نے گلی ڈنڈے کو کھیلوں کا راجہ کس بنیاد پر کہا ہے؟

گلی ڈنڈے کو کھیلوں کا راجا اس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ اس کے لیے کسی میدان،شنگارڈ،نٹ یا بلے کی ضرورت نہ تھی۔کسی بھی درخت کی شاخ کاٹی دو لوگ مل کر کھیل کھیلنے لگے۔اس کے لیے کسی ٹیم کی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی اس کھیل پر کوئی خرچہ درکار تھا۔اس میں امیروں کے چونچلے نہ تھے اور نہ ہی کسی امیر غریب کا کوئی تضاد موجود تھا۔

سوال نمبر02:گیا کے داؤں سے بچنے کے لیے ضلع انجینئر نے کون کون سی چال چلی؟

گیا کے داؤں سے بچنے کے لیے ضلع انجینئر نے مشق کی کمی کو بے ایمانی سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ داؤں پورا ہونے پر بھی ڈنڈا کھیلا جاتا تھا۔ گلی پر ہلکی چوٹ پڑنے سے وہ ذرا دور جاتی تو لپک کر خود ہی اٹھا لاتا اور دوبارہ سے ضرب لگاتا تھا۔ گلی جب ڈنڈے سے لگتی تب بھی صاف مکر جاتا کہ گلی کو ڈنڈے نے چھوا ہی نہیں ہے۔ غرض مصنف نے ہراس روز ہر طرح سے اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی تھی۔

سوال نمبر03:مصنف کا یہ احساس کیوں کر ہوا کہ گیا اس سے جان بوجھ کر ہار رہا تھا؟

جب گیا نے بتایا کے کل یہاں گلی ڈنڈے کا کھیل کھیلا جائے گا اور میں بہت سے پرانے ساتھی بھی آئیں گے تب دوسرے روز گیا کو پرانے دنوں کی طرح چاق و چوبند،پھرتیلا اور ناقابل شکست کھیلتا دیکھ کر مصنف کو احساس ہوا کہ گیا تو کبھی گلی ڈنڈا کھیلنا بھولا ہی نہ تھا۔بلکہ کل وہ جان بوجھ کر اس سے ہار رہا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گیا نے اپنے اور مصنف کے درمیان اس کے رتبے کو حائل کر لیا تھا۔

سوال۔نمبر04:اگرآپ گیا کی جگہ ہوتے تو آپ کا رویہ کیسا ہوتا؟

اگر میں گیا کی جگہ ہوتا تو میرا رویہ اپنے اور مصنف کے دوران اس کی شان و شوکت یا رعب کو نہ آنے دیتا۔بلکہ میں بطور گیا ضلع انجینئر کے ساتھ ایک اچھا اور منصفانہ کھیل کھیل کر نہ صرف اپنے بچپن کے دنوں کی یاد تازہ کرتا بلکہ اس کو یہ بھی احساس دلاتا کہ میری پہچان آج بھی میرا کھیل ہے۔