Advertisement

شہر یار گورنمنٹ کالج میں سترھویں سکیل میں لیکچرار ہو چکا تھا۔ آج اس کی پہلی کلاس تھی، اس نے تعارفی لیکچر پر ہی اکتفا کیا۔ڈائس بورڈ پہ رکھی ڈائری میں سے آج پھر سو کا نوٹ برآمد ہوا تھا۔ یہ برآمدگی اسے پچیس سال پیچھے ماضی میں لے گئی۔ وہ پرائمری کا اسٹوڈنٹ تھا اور اسے بے حد خوشی ہوتی جب کلاس میں اچانک اس کی کسی کتاب میں سے پانچ یا دس کا نوٹ برآمد ہوتا۔ اسے گمان نہیں بلکہ یقین ہوتا کہ یہ نوٹ اس کی اماں جان نے ہی رکھا ہے۔

Advertisement

یہ سر پرائز دنیا کے تمام سرپرائزز سے بڑھ کر ہوتا۔اس کی خوشی دوگنی سے بھی زیادہ ہوتی۔ آج پھر اسے ایک سرپرائز مل چکا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس سرپرائز کا مقصد کچھ اور ہے۔ یعنی اماں جان کی طرف سے اشارہ دیا گیا ہے کہ تم ایک لمبی مسافت کے بعد اس مقام تک پہنچے ہو اور اپنا ماضی اور اوقات مت بھول جانا۔ اسے وہ دن یاد آ رہے تھے ، جب صبح سویرے اسکول جانے کی تیاری مکمل کر لینے کے بعد وہ چولہے کو دیکھتا۔ اگر چولہے میں تازہ آگ جلنے کے آثار موجود ہوتے تو وہ سمجھ جاتا ، کہ آج کچھ کھانے کو ضرور ملے گا۔ اگر چولہے میں آگ کے آثار موجود نہ ہوتے ، تو وہ کسی دوراندیش بچے کی طرح اسکول کی راہ لیتا اور کھانے کی فرمائش ہی نہ کرتا۔

Advertisement

شہر یار چھٹی کلاس میں تھا جب اس کے ابا جی اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ اس نے اسکول محض اس احساس کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا ، کہ اب اس کے لیے پڑھنا شاید مشکل ہو جائے گا۔ پھر کچھ اساتذہ کی خواہش پر اس نے تعلیم جاری رکھی۔ اس نے چھٹی اور آٹھویں کلاس میں اسکول ٹاپ کیا۔ اس کے علاوہ وہ ہر کلاس میں اول یا دوئم آتا تھا۔
اسکول اور کالج لائف میں اسے وظیفہ جات سے نوازا جاتا۔ کتابیں اور یونیفارم حاصل کرنے کے بعد وہ بے حد خوش اور مطمئن ہوتا۔

Advertisement

شہر یار کی آنکھوں کے سامنے کچھ دھندلے نقوش ظاہر ہو رہے تھے ۔ اسے یاد آ رہا تھا کہ میٹرک سے ایم ۔ اے تک اس نے دودھ کا کام کیا ۔ یہ چھے سال اس کی زندگی کے مشکل ترین سال تھے ، کہ ان میں وہ باقاعدگی کے ساتھ صبح شام دودھ لے کے آتا۔ گرمی سردی ،دھوپ چھاؤں، بارش اور طوفان اس کے لیے کوئی معانی نہ رکھتے تھے۔

وہ ہر طرح کے حالات میں دودھ لاتا ، دو تین فیکٹریوں میں دیتا اور کالج چلا جاتا ۔ کالج سے واپسی پر وہ پھر دودھ کے لیے نکل جاتا ، اور شام تک دودھ فیکٹریوں میں دینے کے بعد وہ پڑھائی کے لیے بھی وقت نکالتا ۔ ان چھے سالوں کی مشقت کے بعد وہ بیلٹ فورس کا حصہ بن گیا تھا ۔ زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کی وہ اپنے ضلع کی پانچ تحصیلوں میں ٹاپر تھا۔

اسی نوکری کے دوران وہ مزید پڑھتا رہا ۔ اس نے ایم ۔ اے اسلامیات ، ایم ۔ اے ایجوکیشن ، ایم ۔اے اردو کیا ۔ مزید شوق پیدا ہوا تو اس نے ایم ۔ فل اردو بھی کر لیا ۔ ایک دفعہ پھر اس کے لیے خوشی کا مقام تھا کہ اس نے ایم ۔ فل میں بھی ٹاپ کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ لیکچرار شپ کی تیاری بھی کرتا رہا ، اور ایک دن اسے کالج کی نوکری بھی مل گئی ۔ یہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی ماں کا بھی خواب اور شوق تھا۔ اس کی ماں بھی اسے بطور لیکچرار دیکھنا چاہتی تھی ۔ اب اس کے پاس اپنی ذاتی گاڑی ، خوبصورت گھر ، بینک بیلنس ، جائداد ، اور بہت کچھ تھا ۔ اب وہ مختلف اردو اخبارات میں کالمز اور افسانے لکھتا ، دنیا اسے جاننے لگ گئی تھی۔

وہ سوچ رہا تھا کہ یہ ساری کامیابیاں اس کی ماں کی وجہ سے ہیں ۔ ماں جی نہ ہوتیں تو وہ بھی شاید کامیاب نہ ہوتا ۔ ایک ماں ہی کی ہستی تھی جس سے اسے ابا جان کا بھی پیار ملا ۔ ورنہ بڑے بھائیوں کی طرف سے وہ پیار اور توجہ حاصل کرنے سے عاجز ہی رہا تھا۔

آج ایک نئے ملنے والے سرپرائز نے اسے بے تحاشا خوشیاں دی تھیں۔ آج پھر اسے خود کے اندر وہی پچیس سال پہلے والا بچہ نظر آ رہا تھا ، جو کتاب سے ملنے والے پانچ یا دس کے نوٹ کو حاصل کرنے کے بعد ، خود کو دنیا کا امیر ترین شخص مانتا۔ وہ آج پھر خود کو ایک خوش قسمت انسان مان رہا تھا ، کہ اس کی ماں گھر میں موجود اس کا انتظار کر رہی ہے ۔ اسے ماں کے ہوتے ہوئے بڑے بھائیوں کے پیار کی طلب ہی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔ اسے ماں کے ہوتے ہوئے کسی بھی رشتے ناطے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔

اس کی ماں نے اسے باپ بن کر پالا ۔ جب کسی دوست کی ضرورت محسوس ہوئی ، تو وہ ایک دوست بن کر بھی ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آئیں ۔ وہ شہر یار کا ہر مشکل میں ساتھ دیتی آئی ہیں۔ شہر یار کی آنکھیں چھلک رہی تھیں ۔ اس نے سن گلاسز لگائے اور تعارفی کلاس سے مخاطب ہوا ، کس کس کی ماں ابھی زندہ ہے؟؟؟ اس کے ساتھ ہی اس نے سو روپے کے نوٹ کو تبرک سمجھتے ہوئے ڈائری سے نکالا ، اسے اپنی آنکھوں سے لگایا ، اور اپنے پرس میں سب نوٹوں سے علیحدہ سنبھال کے رکھ لیا۔

Advertisement
تحریرامتیاز احمد، کالم نویس، افسانہ نگار
[email protected]
Advertisement

Advertisement

Advertisement