Advertisement

افسانہ پوس کی رات کا خلاصہ

پوس کی رات منشی پریم چند کا اہم افسانہ ہے جس میں مصنف نے ایک غربت سے مجبور کسان فیملی کو دکھایا ہے۔ ہلکو ایک کسان ہےجو لگان کے عوض کھیتی باڑی کرتا ہے۔ایک روز اس کی فصل کا مالک لگان کی رقم وصول کرنے آگیا۔ ہلکو کی بیوی منی نے ہلکو کو کہا کہ وہ جمع کی گئی رقم ہر گز لگان کے لیے نہ دے گی کیونکہ انھیں جاڑے کی سردی کے لیے کمبل خریدنا تھے۔ مگر مالک کی گالیوں سے خوفزدہ ہوکر ہلکو نے اپنی بیوی منی کے خلاف جا کر جمع کردہ رقم دے دی۔

اب رات ہلکو فصل کی حفاظت کے لیے کھیت جا پہنچا۔ جہاں اس کا سردی سے برا حال تھا۔ اس کے ساتھ اس کا کتا جبرا بھی موجود تھا۔پوس کی اندھیری رات میں جبرا اور ہلکو‌ شدید ٹھنڈ سے ٹھٹر رہے تھے۔ہلکو اپنی پرانی چادر اوڑھے سردی سے کانپ رہا تھا جبکہ جبرا پیٹ میں منھ ڈالے سردی کے مارے کوں کوں کر رہا تھا۔اس شدید ٹھنڈ کے باعث ہلکو جبرا کی پیٹھ سہلانے پر مجبور ہوگیا۔

جب سردی کی یہ شدت ان کی برداشت سے باہر ہوگئی تو ہلکو نے جبرا سے کہا کہ آؤ آگ تاپتے ہیں۔سردی سے بچنے کے لیے ہلکو نے یہ تدبیر کی کہ ڈھیر ساری پتیوں اور بٹوروں کو اکھٹا کیا۔اکھٹے کیے گئے ڈھیر کو آگ دکھا کر آگ کا الاؤ روشن کیا اور باقی کی رات اسے تاپتے ہوئے گزاری۔

Advertisement

آگ تاپتے تاپتے ہی ہلکو کی آنکھ لگ گئی۔ اچانک سے اسے آواز سنائی دی کہ کھیت میں کچھ جانورآ گھسے ہیں۔ مگر آگ کی تپش نے اسے اٹھنے نہ دیا۔کھیت میں نیل گایوں کا جھنڈ داخل ہو گیا تھا۔ جنھوں نے صبح ہوتے تک کھیت چر دیا۔صبح جب منی کھیت میں آئی تو تمام کھیت رات کے واقعے کی وجہ سے اجڑ چکا تھا۔ اس نے ہلکو کو اٹھایا اور کھیت کی حالت سے آگاہ کیا۔

سارے کھیت کی بربادی کے بعد منی کو مالک کی فکر ستانے لگ گئی۔ اس نے ہلکو کو کہا کہ وہ جا کر اس کو بتائے کہ وہ اس دفعہ لگان کی رقم ادا نہ کر سکے گا۔ مگر ہلکو کہنے لگا کہ اس کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔سارے کھیت کے ستیا ناس ہو جانے کے بعد منی نے ہلکو کو کھیتی باڑی سے باز آنے کا مشورہ دیا۔مگر ہلکو نے مایوسی کے انداز میں کہا کہ ‘جی تو میرے بھی یہی آتا ہے کہ کھیتی باڑی چھوڑ دوں،مگر مجوری (مزدوری)کا خیال آتا ہے تو جی گھبرا اٹھتا ہے۔کسان کا بیٹا ہوں مجوری(مزدوری) نہ کروں گا۔چاہے کتنی ہی درگت کیوں نہ ہو جائے۔

سوچیے اور بتایئے:

سوال نمبر01:منی نے ہلکو سے کھیتی چھوڑنے کے لیے کیوں کہا؟

منی نے ہلکو سے کھیتی چھوڑنے کے لیے اس لیے کہا کہ اس کے مطابق وہ مر مر کے کھیتی کرتا ہے اور اس پہ بھی پیداوار ہونے پر سارا روپیہ قرض میں چلا جاتا ہے۔اس لیے وہ اس کو کھیتی نہ کرنے کا مشورہ دیتی تھی۔

سوال نمبر02:پوس کی اندھیری رات میں ہلکو اور جبرا کی کیا حالت تھی؟

پوس کی اندھیری رات میں جبرا اور ہلکا شدید ٹھنڈ سے ٹھٹر رہے تھے۔ہلکو اپنی پرانی چادر اوڑھے سردی سے کانپ رہا تھا جبکہ جبرا پیٹ میں منھ ڈالے سردی کے مارے کوں کوں کر رہا تھا۔اس شدید ٹھنڈ کے باعث ہلکو جبرا کی پیٹھ سہلانے پر مجبور ہوگیا۔

سوال نمبر03:ہلکو نے سردی سے بچنے کے لیے کیا تد بیر کی؟

سردی سے بچنے کے لیے ہلکو نے یہ تدبیر کی کہ ڈھیر ساری پتیوں اور بٹوروں کو اکھٹا کیا۔اکھٹے کیے گئے ڈھیر کو آگ دکھا کر آگ کا الاؤ روشن کیا اور باقی کی رات اسے تاپتے ہوئے گزاری۔

سوال نمبر04:کھیت میں اچانک کیا واقعہ پیش آیا؟

کھیت میں اچانک سے نیل گایوں کا جھنڈ داخل ہوگیا۔ جنھوں نے صبح ہوتے تک کھیت چر دیا۔صبح جب منی کھیت میں آئی تو تمام کھیت رات کے واقعے کی وجہ سے اجڑ چکا تھا۔

سوال نمبر05:سارے کھیت کا ستیا ناس ہو جانے کے باوجود ہلکو نے کیا فیصلہ کیا؟

سارے کھیت کے ستیا ناس ہو جانے کے بعد منی نے ہلکو کو کھیتی باڑی سے باز آنے کا مشورہ دیا۔مگر ہلکو نے مایوسی کے انداز میں کہا کہ ‘جی تو میرے بھی یہی آتا ہے کہ کھیتی باڑی چھوڑ دوں،مگر مجوری کا خیال آتا ہے تو جی گھبرا اٹھتا ہے۔کسان کا بیٹا ہو مجوری نہ کروں گا۔چاہے کتنی ہی درگت کیوں نہ ہو جائے۔