احمد ندیم قاسمی کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احمد ندیم قاسمی شاعر اور ایک معروف ادبی صحافی تھے انھوں نے سب سے زیادہ شہرت اپنے افسانوں کی وجہ سے پائی. پنجاب کی دیہی زندگی اور انسانوں کے مسائل کی عکاسی کا وہ غیر معمولی سلیقہ رکھتے تھے.

افسانہ سلطان کا خلاصہ

”سلطان“ احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ہے۔ اس افسانے میں سلطان نام کا ایک لڑکا ہے جو اپنے نابینا دادا کے ساتھ بھیک مانگنے کے لیے سڑکوں پر جاتا ہے۔ دادا کا بائیں ہاتھ ہمیشہ سلطان کی کھوپڑی پر رہتا ہے۔ سڑکوں کی خصوصیات بتاتا ہے آج اتوار کا دن تھا روز کی طرح دادا اور سلطان بازار میں نکلے۔ چاروں طرف گھومنے کے بعد بھی انہیں کچھ نہیں ملا۔ دادا نے کہا آج تو بابو لوگ اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں گے۔ اچانک ٹن کی آواز آئی کسی راہ چلتے نے سلطان کے ہاتھ کے کٹورے میں ایک پیسہ ڈال دیا تھا۔ دادا نے کہا کہ جا کر کوئی چیز کھا لے۔

بچوں کو تو بڑی بھوک لگتی ہے شام کو جب سلطان دادا کو کھٹولے کے پاس لاتا ہے تو کہتا ہے کہ بیٹھ جاؤ۔ دادا کھٹولے پر بیٹھ کر سلطان کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ سر پر سے ہاتھ اٹھتے ہی سلطان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا۔ اس کے پاؤں میں لوہے کے گولے کی جگہ ربر کے پہیے بندھ گئے ہیں۔ وہ چپکے سے چھپریا سے نکل آتا ہے پھر خالہ زیبو سے آنکھ بچا کر بھاگ نکلتا اور بنگلوں سے بھرے ہوئے میدان میں پہنچ جاتا ہے جہاں امیروں کے بچے کرکٹ کھیلتے تھے اور غریبوں کے بچے انہیں گیند اٹھا کر دیتے تھے۔ پھر جب وہ میدان خالی کر دیتے تھے تو بچے بلور کی گولیاں کھیلتے تھے۔

ایک بار سلطان نے بھی اس کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی تو چند روز کھیلا بھی تھا۔ پھر ایک دن ایک لڑکے نے انکشاف کیا تھا کہ سلطان اندھے بھکاری کا بچہ ہے جب سے اسے کھیل میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔ سلطان بلور کی گولیاں خرید لایا لیکن بچوں نے اس کے ہاتھ سے جھپٹ لئے اور کہا یہ تو ہماری گولیاں ہیں۔

ایک بار میدان میں آنے کے بعد اسے واپس گھر جانے سے ڈر لگتا تھا کہ کہیں دادا پھر سے اس کے سر پر اپنے سوکھے ہاتھ میں جکڑ کر اسے سڑک پر لیے پھریں۔ اسے ایسا لگتا جیسے پتھر کی ٹوپی پہن لی ہے دادا کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں درد کے بعد جو لہر بن کر اس کی کھوپڑی میں دوڑ جائیں اور جب نماز پڑھنے کے بعد لاٹھی سنبھالتے اور سر پر ہاتھ رکھتے تو سلطان آدھا مر جاتا۔

دادا کا یہ ہاتھ سوتے جاگتے بھوت کی طرح ڈراتا تھا اور پٹری پر یوں چلتا تھا جیسے ملزم ہتھکڑیاں پہنے سپاہی کے ساتھ چلتے ہیں۔ کافی دنوں کے بعد جب دادا بنگلوں سے بھیک مانگنے کے بعد کوارٹروں کے پیچھے بیگو کوچوان کے گھروندے کے سامنے سے گزرا تو اس کی ماں زیبو لپک کر آئی اور بولی ارے بابا دعا کر اللہ میرے بیٹے کی پسلی کا درد ٹھیک کردے۔ میں تجھے پورا ایک روپیہ دوں گی۔ دادا نے وہیں کھڑے ہو کر دعا مانگی۔

ایک بار جب زیبو راستے میں ملی اور ایک روپیہ دے کر بولی "مجھے بتا تو کہاں رہتا ہے؟ بابا میں جمعرات کی جمعرات تیری سلامی کو آیا کروں گی۔ جب زیبو کو معلوم ہوا کہ ان کا گھر نہیں ہے تو اس نے چھپریا خالی کرا دی، دادا اور سلطان وہاں رہنے لگے۔ انہیں جو بھی بھیک ملتی تو اس حساب سے انہیں روٹی پکا کر دیتی تھی کیونکہ ان دنوں دادا سے اپنی اولاد ہونے کی دعا کرا رہی تھی۔ سلطان کو خالہ زیبو اچھی نہیں لگتی تھی کیونکہ وہ شور مچا دیتی تھی کہ اپنے بوڑھے دادا کو اکیلا چھوڑ کر کھیلنے چلا ہے۔

کچھ عرصے بعد دادا بیمار رہنے لگا۔ سلطان پریشان ہو گیا وہ جی میں کہتا کہ دادا مرجائے تو کیسے مزے آئیں۔ ایک روز سچ میں دادا مرگیا۔ اس دن زیبو اور بہو نے سلطان کو بڑے پیار سے دن بھر اپنے پاس رکھا۔ زیبو کا بیٹا بیگو بھی قبرستان سے واپس آیا تو سلطان کے لیے گنڈیریاں لایا سلطان سوچنے لگا جب دادا مر جاتے ہیں تو کیسے مزے آتے ہیں۔

اگلے روز سلطان بھیک مانگنے گیا لیکن اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ آج اس کے سر پر دادا کا ہاتھ نہیں تھا ایک بابو کو دیکھ کر سلطان روتی ہوئی آواز میں بولا پیسے دیتے جاؤ بابو۔ بابو بغیر سنے آگے بڑھ گیا جب سلطان روتا ہوا اس کی طرف بڑھنے لگا اور پکارنے لگا ہے بابوجی ہے! بابوجی ! بابو جی رک گیا۔ آس پاس سے گزرتے ہوئے لوگ ٹھٹک گئے” نوکری کرے گا” بابو جی، سلطان بابو کے پاس رکا اس کا نچلاہونٹ ذرا سا لٹکا اور بولا بابو جی دیکھے میں نوکری نہیں مانگتا بھیک نہیں مانگتا۔ اس نے کٹورہ زمین پر پٹخ دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے پھر وہ بولا بابو جی خدا آپ کا بھلا کرے اور بہت دے، کیا آپ ذرا دور تک میرے سر پر ہاتھ رکھ کر چل سکیں گے؟ ” لو اور سنو” بابو احمقوں کی طرح ہجوم کو دیکھنے لگا۔ مصنف نے افسانے میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بچوں کے لئے بڑے بزرگوں کا ہونا کس قدر ضروری ہے جبکہ آج ہم بڑوں سے دور ہوگئے ہیں۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔