امانت لکھنوی

امانت لکھنوی مشہور ڈرامہ نگار، مرثیہ نگار اور شاعر تھے- آپ 1815 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے- آپ کا نام سید آغا حسن اور امانت تخلص تھا- والد کا نام سید آغا رضوی تھا- آپ کے دو بیٹھے تھے، ایک کا نام سید حسن لطافت لکھنوی جبکہ دوسرے کا نام سید عباس حسن فصاحت لکھنوی تھا-

لکھنؤ میں اپنی تعلیم مکمل کرلی- 1835ء میں آپ کی زبان بند ہوگئی، اور قوتِ گویائی سے محروم ہوگئے- عراق میں حضرت امام حسینؓ کی بارگاہ میں دعا مانگ رہے تھے کہ زبان کھل گئی- نو سال بعد یعنی 1844ء میں آپ کو اس بیماری سے نجات مل گئی، اور وہ بولنے کے قابل ہوگئے۔

امانت نے پندرہ سال کی عمر میں شاعری شروع کی- بیس سال کی عمر میں جب آپ کی زبان بند ہوگئی تو شاعری کی طرف رجحان بڑھ گیا- اس دور کے مشہور مرثیہ گو میاں دلگیر کے شاگرد بنے- میاں دلگیر نے ہی ان کے لئے ” امانت” کا تخلص تجویز کیا- مختلف قسم کی نظمیں لکھتے رہے۔ اصل شہرت غزل کی وجہ سے نصیب ہوئی-

بوسہ آنکھوں کا جو مانگا تو وہ ہنس کر بولے 
دیکھ لو دور سے کھانے کے یہ بادام نہیں
ابتداء عشق کی ہے دیکھ امانتؔ ہشیار 
یہ وہ آغاز ہے جس کا کوئی انجام نہیں           

مرزا ہمایوں بخت بہادر ان کے شاگرد تھے- جنہوں نے امانت کا دیوان جمع کیا، لیکن ضائع ہوگیا- 1853ء میں ان کے ایک اور شاگرد فدا علی عیش نے آپ کی غزلوں اور نظموں کو ” گلدستہ " کے نام سے مرتب کیا- امانت کے بیٹے نے ان کی وفات کے بعد آپ کی شاعری کو ” خزائن الفصاحت” کے نام سے دیوان کی شکل میں مرتب کیا- 1986 میں لکھنؤ یونیورسٹی میں ” سید آغا حسن امانت:حیات اور ادبی خدمات” کے نام سے پی ایچ ڈی مقالہ بھی لکھا گیا ہے-

امانت لکھنوی نے 1852ء میں مشہور ڈرامہ "اندرسبھا” مکمل کرلیا- دو سال بعد یعنی 1854ء میں اسٹیج کیا گیا- یہ ڈرامہ 560 اشعار پر مشتمل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اندر سبھا اردو کا پہلا ڈرامہ ہے- لیکن بعض مؤرخین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے، ان کے بقول اردو کا پہلا ڈرامہ نگار امانت کے ہم عصر واجد علی شاہ ہیں- لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو ڈرامے کی ارتقاء میں امانت لکھنوی کا بہت بڑا کردار ہے-

راس مسعود اپنی کتاب ” انتخاب زریں” میں لکھتے ہیں کہ ” اندر سبھا کو اردو لٹریچر میں جو شہرت حاصل ہوئی ہے، وہ اپنی نظیر آپ ہے- یہ کہنا ذرا بھی بے جا نہیں کہ امانت نے اردو زبان میں اس کتاب کو لکھ کر سب سے پہلے اردو کی بنیاد ڈالی ہے- اردو مقتدین میں اس نمونہ کی ایک نظم بھی نہیں ملتی-"

ہنوستان کی مختلف زبانوں ( گجراتی، دیوناگری وغیرہ) میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔1880ء میں جرمنی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا- اس کے علاوہ مختلف زبانوں میں اس کے چالیس ایڈیشن شائع ہوئے- جس سے اس ڈرامے کی شہرت کا اندازہ ہوسکتا ہے-

اندر سبھا کے کرداروں میں راجا اندر ، گلفام ، نیلم پری ، لال پری ، اور پکھراج پری شامل ہیں-
امانت لکھنوی 43 سال کی عمر میں 1858ء میں وفات پاگئے-

Close