احمد فراز

سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے
لائے ہیں میرے لئے قیدی کا کمبل جیل سے

اسی شعر سے اپنی شاعری کا آغاز کرنے والا مشہور اردو شاعر احمد فراز اسی شعر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بچپن میں میرے والد نے میرے بھائی کے لئے عید کے کپڑے لائے جبکہ میرے لئے کمبل جیسا کرتہ لے آئے- جس پر میں نے یہ شعر پڑھا تھا-

احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ جبکہ فراز تخلص تھا- آپ 1931 کو پیدا ہوئے- پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی- اور پھر اسی یونیورسٹی میں شعبہ درس وتدریس سے منسلک ہوئے- لیکن بعد میں طلبہ کے دلوں میں استاد کی عزت کم ہوتے دیکھ کر کنارہ کشی اختیار کرلی- اس کے بعد ریڈیو سمیت مختلف شعبہ جات میں اپنے خدمات انجام دیتے رہے- 

سانحہ 1971 کے بعد فراز ملٹری کے ہار ماننے پر کافی نالاں تھے جس کا اندازہ اس شعر سے ہوتا ہے؀

عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا ​
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا ​

​جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب طلباء پر مظالم کئے گئے تو فراز نے ملٹری کے خلاف ” پیشہ ور قاتلو” کے نام سے ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی- اور یوں انہیں جیل میں ڈالا گیا- بعد میں جلا وطن کیا گیا- اور پھر چھ سال تک دیار غیر میں رہے۔

شاعرانہ عظمت

فراز کو اردو کا جدید شاعر مانا جاتا ہے- ان کی شاعری نوجوانوں میں بہت مقبول ہے- بچپن میں ہی محبت کی جال میں پھنسنے کی وجہ سے ان کی شاعری پر رومانوی رنگ چھایا ہوا نظر آتا ہے-

سنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز کی غزلیں غلام علی، جگجیت سنگھ، مہدی حسن اور نور جہاں  جیسے فنکار گا چکے ہیں- ان کا کلام جامعہ پشاور اور جامعہ علی گڑھ نے بھی اپنے نصاب میں شامل کیا ہے- میٹرک اور انٹر کے نصاب میں بھی آپ کے کلام شامل ہیں- بھارت کی ایک یونیورسٹی میں ” احمد فراز کی غزل” کے نام سے پی ایچ ڈی مقالہ بھی لکھا گیا ہے- اس کے علاوہ پاکستان میں بھی” احمد فراز، فن اور شخصیت” کے نام پر بھی مقالہ لکھا جا چکا ہے-

حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور ہلال پاکستان سے نوازا ہے- ” اباسین ایوارڈ” اور ” آدم جی ادبی ایوارڈ ”  بھی حاصل کرچکے ہیں- بھارت میں ” فراق گور کھپوری” اور ” ٹا ٹا ایوارڈ ” بھی حاصل کرچکے ہیں- اس کے علاوہ بھی کئی ایوارڈز لے چکے ہیں- جس سے ان کی ادبی خدمات کا اندازہ ہوتا ہے- 2004 میں پرویز مشرف کی طرف سے انہیں ” ستارہ امتیاز” جسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2006 میں انہوں نے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف بطور احتجاج واپس کردیا- اس حوالے سے ان کا موقف تھا کہ اگر سویلین حکومت ہوتی تو وہ ایوارڈ واپس نہ کرتا-
آپ 2008 میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے اسلام آباد میں انتقال کر گئے- یوں اردو ادب ایک چمکتا ہوا ستارہ ہمیشہ کے لئے بجھ گیا- لیکن آپ کا کلام ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا-

سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے​

Written by

Abdullah Yusuf zai

Close