Advertisement
میرا اُس شہرِ عدا وت میں بسیرا ہے جہاں
لو گ سجدوں میں بھی دُوسروں کا بُرا سو چتے ہیں
احمد فراز
ہم نیند کے زیادہ شوقین تو نہیں فرازؔ
کچھ خواب نہ دیکھیں تو گُزارانہیں ہوتا
احمد فراز
رات ہوتے ہی اک پنچھی روز مجھے کہتا ہے فرازؔ
دیکھ میرا آشیانہ بھی خالی تیرے دل کی طرح
احمد فراز
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے گھر سے رستے بنالیے
احمد فراز
اُسے تراش کے ہیرا بنا دیا ہم نے فرازؔ
مگر اب یہ سو چتے ہیں اُسے خریدیں کیسے
احمد فراز
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement