میں گہری نیند میں تھا کہ باہر سے کچھ شور سنائی دیا۔ پہلے تو نیند کے غلبے کی وجہ میں نے اس طرف کچھ زیادہ دھیان نہیں دیا لیکن شور جب کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا تو میں بھی اٹھ کر باہر چلا گیا شور کی بھیانک آوازیں آرہی تھی اور جہاں سے شور سنائی دے رہا تھا۔ جب میں ادھر پہنچا تو دیکھا لوگ آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مشتاق احمد کے گھر میں بھیانک آگ لگی ہوئی تھی اور لوگ اُس کو بجھانے کی پوری کوشش کر رہے تھے لیکن گھر کے اندر سے کچھ آواز آ رہی تھی۔

دھیان سے سننے لگا تو کسی عورت کی آواز تھی جو کہہ رہی تھی۔ بچاؤ خدا کے لئے مجھے کوئی نکالو یہاں سے، میں مر جاؤں گی بچاؤ، مجھے بچاؤ۔ یہ آواز سُن کر دل دہل سا گیا کیونکہ وہ عورت زندہ آگ میں جل رہی تھی اور کوئی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ لیکن یہ عورت کون ہے اور آگ میں کیسے پھنس گئی ذہن میں بہت سارے سوالات ابھرنے لگے۔ اِدھر اُدھر جائزہ لیا تو مشتاق احمد کے سب گھر والے باہر تھے لیکن اچانک مشتاق احمد کی بیٹی فاطمہ پر نظر پڑی جو ماں ماں کہہ کر پکار رہی تھی میں اُس کے پاس جاکر اُس کو چپ کرانے لگا اور اُس سے پوچھا بیٹا آپ کی ماں یہی کہیں ہوگی آپ اتنا کیوں رو رہے ہو لیکن اُس کا جواب سُن کر سر گھومنے لگا۔

کہنے لگی انکل ماں اندر آگ میں پھنسی ہیں۔ کیا؟ شہزادہ اندر ہیں یہ سُن کر میں نے جلدی سے بالٹی اُٹھا لی اور پانی بھر بھر اُس جانب پھینکے لگا جہاں سے آگ زیادہ بھڑک رہی تھی۔ لیکن آگ پر قابو نہیں ہو پا رہا تھا اور آخر فائر سروس کے ارکان آگئے اور انہوں نے آگ پر قابو پا لیا۔ اندر سے جب اُس عورت کو نکالا گیا تو وہ پوری کی پوری جل چکی تھی۔ قریب جاکر دیکھا تو وہ سچ مچ شہزادہ ہی تھی اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہہ رہی تھی مجھے ان لوگوں نے زندہ جلا دیا۔ مجھے مار ڈالا ان ظالموں نے ۔ مجھے جلا ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہتے کہتے ہی اُس نے دم توڑ دیا۔ اُس کے یہ الفاظ سُن کر آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔

شہزادہ ہمارے محلے کی سب سے ہونہار عورت تھی۔ جو ہر کام میں چست تھی۔ اُس کے سُسرال والے اُس کو اکثر تنگ کیا کرتے تھے، مارتے تھے، پیٹتے تھے لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ اپنا ہر فرض پورا کرتی تھی۔ اُس کو اپنے شوہر سے بے حد محبت تھی اور اُس کی محبت میں وہ سب کچھ سہہ جاتی تھی۔ جب پانی سر سے اوپر چلا جاتا تو میکے جایا کرتی تھی لیکن اُس کو شوہر کی محبت واپس کھیچ لاتی تھی حالانکہ اُس کا شوہر اُس سے کبھی سیدھے منھ بات بھی نہیں کرتا تھا لیکن وہ محبت کی دیوی پھر بھی اُس سے بڑے محبت سے پیش آتی تھی اور سننے میں آیا تھا اُس کے شوہر کا کسی اور کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا اور وہ اسی کو بسانا چاہتا تھا۔

شہزادہ جب کبھی بھی اُس سے کوئی شکایت کرتی تو اور وہ اُس سے کہتا تھا مجھے تین لاکھ روپے دے دو میں تمہیں طلاق دے کر ہمیشہ کے لئے آزاد کر دوں گا۔ لیکن شہزادہ طلاق نہیں چاہتی تھی وہ اپنا گھر بسانا چاہتی تھی اور ہر اذیت برداشت کرتی تھی لیکن اس سب کے باوجود بھی ان ظالموں نے اُس کو مار ڈالا اس کی زندگی تو راکھ بن چکی ہی تھی اب موت بھی اسی صورت میں آیا ایک جیتے جاگتے انسان کو زندہ آگ لگا دی یہ سوچتے ہی روح کانپ اُٹھی۔

میں راکھ بنی ہوئی شہزادہ کی لاش کے پاس اُس کی بچی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا جو چیخ چیخ کر اپنی ماں کو اُٹھنے کا کہہ رہی تھی لیکن اس بات سے بے خبر تھی کہ اب اس کی ماں ابدی نیند سو چکی ہیں اب وہ کبھی بیدار نہیں ہوں گی۔
؂ ختم شد ؂*