Advertisement

ایک تھیوری ہے کہ انسان بندروں کی جدید شکل ہے۔ اس پہ ایک اینی میٹیڈ کلپ بھی ہے یو ٹیوب پر۔ اس تھیوری کے حق اور مخالفت میں کئی دلائل دیے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پہ غیر مسلم خاص طور پہ ملحدین اور کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے اس تھیوری کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔

مسلمان اور وہ لوگ جو خود جانور سے افضل سمجھتے ہیں وہ اس کی مخالفت میں کئی دلائل دیتے ہیں۔ بطور مسلمان اور بطور باشعور انسان میں بھی اس تھیوری کی مخالفت کرتی ہوں۔ میرے خیال سے اگر منطق یا لاجک یا عقل کی کسوٹی پہ پرکھا جائے تو یہ بات عجیب ہے کہ بندروں نے ایک ہی بار انسان کا روپ دھارا تھا اس کے بعد شاید ان کا انسان بننے پہ دل نہیں کیا۔ یا پھر انسانوں کی حرکتیں دیکھ کر انہوں نے انسان بننے سے توبہ کر لی۔😂

منطقی طور پہ جب ایک بار بندر انسان میں تبدیل ہوا بھی تھا تو اسے دوبارہ بھی یہ عمل کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے تو کیا ہمارے آباؤ اجداد کے سامنے بھی کبھی بندر انسان بنتے دکھائی نہیں دیے۔ یہ کافی حیرت انگیز بات ہے، کبھی ایک بار بھی یہ عمل ہم انسانوں کے سامنے وقوع پذیر نہیں ہوا۔ پھر اگر ہمارے آباؤ اجداد اگر بندروں سے انسان بنے تھے تو کم از کم ادب میں اس کا ذکر بطور کہانیوں اور خاص طور پہ فکشن کہانیوں میں ضرور ہونا چاہیے تھا۔

Advertisement

لیکن کسی بھی زبان میں یہ ذکر تو کیا بندروں کو بطور پالتو جانور ہونے کا بھی ذکر نہیں، انسان بندروں سے نکلے ہوتے تو قدرتی طور پہ انہیں اپنے باپ بندروں سے پیار ہونا چاہیے تھا، ساتھ بیٹھا کر کھاتے پلاتے نا، کم از کم پالتوں یا pet ہی بنا لیتے، اتنی بے اعتنائی اپنے ہی باپوں سے؟؟؟ یہ یقیناً انسان جیسی بے وفا مخلوق کی کارگردگی ہو سکتی ہے😂😂😂۔

Advertisement

بہر حال جہاں تک ذکر ہے فکشن کہانیوں کا تو ہم نے یہ تو کبھی نہیں سنا کہ انسان بندروں سے نکلے ہیں، ہاں یہ ضرور سنا ہے کہ انسان اپنی بداعمالیوں کے سبب بندر ضرور بن گئے۔ اس کا باقاعدہ یا بے قاعدہ ذکر قرآن پاک میں بھی ہے کہ انسان اپنے بداعمالیوں کی وجہ سے بندر بنا دیے گئے ہیں۔

Advertisement

ہمارے دادا، دادی وغیرہ بھی ہمیں بچپن میں برائی سے دور رہنے کی تربیت کرنے کے لیے انسانوں کے بندر بن جانے کی کہانیاں سناتے تھے۔ بہر حال، مذہبی طور پہ تو یہ ناممکن سی بات ہے کہ انسان بندروں کی جدید شکل ہیں۔ منطقی طور پہ یہ بحث جاری ہے، اور اس تھیوری کے حق میں جو تھے وہ بڑے ہی برے طریقے سے ہار رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے نئی تھیوری بنا دی ہوئی ہے کہ انسانوں سے بہتر بھی ایک مخلوق ہے کائنات میں جو دماغی اور ٹیکنالوجی میں انسانوں سے 100 فی صد بہتر ہے۔

اس حوالے سے ہالی ووڈ کی کئی فلمیں قابل ذکر ہیں۔
یہ مخلوق ایلین کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ صرف فلموں میں ملتی ہے۔ اگر کبھی ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت اعلی مخلوق سامنے آئی بھی تو یہ کوئی ایلین نہیں ہوں گے، بلکہ انسان ہی ہوں گے، کیوں کہ امریکہ اور دیگر سپر پاورز اسی دوڑ میں لگے ہیں کہ کس طرح پہلے نمبر پر رہیں ٹیکنالوجی کی ریس میں۔

Advertisement

امریکہ کے خفیہ اڈے اور روس کے خفیہ اڈے اس حوالے سے بہت مشہور ہیں کہ ان کے پاس وہ پاورز ہیں جن کو لوگ ایلین ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔ اور ایک سوال اہم یہ بھی ہے کہ، ناسا جیسی خلائی ایجینسی آخر کیوں اپنا پیسا پانی کی طرح خلا پہ خرچ کر رہی ہے، یقینا کوئی مصلحت پوشیدہ ہوگی۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار کریں کومنٹ کر کے۔

تحریرعائشہ اقبال
Advertisement

Advertisement

Advertisement