ہمارے معاشرے میں تعلیم ذریعۂ تربیت ہر گز نہیں لی جاتی، تعلیم حاصل کرنے کا مقصد صرف اور صرف اچھا روزگار حاصل کرنا ہے، اور روزگار بھی ایک ہی قسم کا یعنی کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں نوکری حاصل کرنا۔
پہلے زمانوں میں تعلیم شاید اس لیے حاصل کی جاتی تھی تاکہ شعور میں اضافہ ہو، یا پھر لکھنا پڑھنا سیکھ لیا جائے یہ بھی ایک اضافی خوبی سمجھی جاتی تھی۔

لیکن موجودہ دور میں تعلیم کا مقصد مکمل طور پر بدل چکا ہے، والدین اولاد کو تعلیم اس لیے دلاتے ہیں کہ بعد ازاں وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری محکمے میں اعلی عہدیدار نا سہی اچھے گریڈ کا ملازم لگ جائیں گے، مستقل آمدن ہو گی، سرکاری نوکری ہوئی تو پینشن کے مزے الگ ہوں گے۔۔۔

تعلیم اضافی خوبی ہوتی ہے؟؟؟
شعور میں اضافے کا ایک طریقہ ہوتی ہے؟؟؟
تربیت کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہوتی ہے؟؟؟ وغیرہ وغیرہ جیسے مقاصد تو مانو جیسے گزشتہ زمانوں میں، انہی وقتوں میں، انہی لوگوں میں کہیں دفن ہو گئے ہیں۔

اب تو تعلیمی ادارے نوکر پیدا کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو وقت گزاری کا سامان مہیا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ تعلیمی ادارے خاص طور پہ یونیورسٹیوں میں کپل سسٹم کو فروغ دینا ایک اہم مقصد سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹریز یونیورسٹیوں کو بطور ”پیار کا اڈا” بنا کر نا پیش کرتیں۔

امیر بلکہ امراء گھرانوں کے بچے تو جاتے ہی یونیورسٹیوں میں اس لیے ہیں کہ تاکہ آنکھوں کو ٹھنڈک کا سامان ہر دو سیکنڈز کے بعد مل سکے۔

وہ خاندان جن کی آمدن پوری سودی ہوتی ہے وہ اپنے بچے ان یونیورسٹیوں میں اس لیے داخل کر دیتے ہیں کہ تاکہ پوری سودی آمدن کو ذیادہ آمدن کے سہانے لالچ پہ قربان کیا جا سکے۔۔۔ بس

ایسی یونیورسٹیاں بھی بڑی چالاکی کے ساتھ ایک آدھ طالبعلم کو کامیابی کے مندارج طے کرا کر خوب اس کا چرچہ کرتیں اور ہر جگہ سوری میرا مطلب کہ ہر رشتے دار کے دل میں آگ کا الاؤ بڑھکا کر لاکھوں کی تعداد میں مزید طلبہ اپنے جال میں پھنسا لیتی ہیں۔

پاکستان میں میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ 100 فی صد تعلیم سے فارغ شدہ طلبہ میں سے صرف 10 فیصد کو ملازمت ملتی ہے بقیہ اگلے سال، پھر اس سے اگلے سال کے انتظار میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ کاروبار کو ہیچ یا کم تر سمجھنا ہے، کوئی بھی شخص کم از کم ڈگری حاصل کرنے کے بعد کاروبار کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے۔

جو ابتدائی عمر میں کاروبار کر لیتے ہیں وہ لوگ کاروبار کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کو فضولیات قرار دے دیتے ہیں۔ پورے ملک میں تعلیم اور کاروبار اکھٹے ہوتے کبھی نہیں دکھتے ہیں۔ یہ عمل اس قدر نایاب ہے جس قدر ملک میں ایمان داری نایاب ہو چکی ہے۔

لوگوں میں اس شعور کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ:
1- اگر آپ کم عمر ہی سے کاروبار میں چلے گئے ہیں تو تعلیم کو خیر آباد مت کہہ دیں، تعلیم کو بطور اضافی ہنر کے حاصل کرتے رہیں۔

2-اگر آپ تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو کاروباری تیکنیکس کو پارٹ ٹائم میں سیکھنے کی پوری پوری کوشش کریں، تاکہ اگر مستقبل میں تعلیم ذریعہ روزگار نا بن پائی تو کم از کم کاروبار کرنے کی ”الف ب” تو معلوم ہونی چاہیے۔

3- والدین سکولوں کی چھٹیوں کے دوران اپنے بچوں کو کسی ہنر سیکھنے پر ضرور لگائیں، تا بچے ایک سے زائد روزگار حاصل کرنے کے طریقے جانتے ہوں

اس سب سے یہ فائدہ ہو گا کہ بچے تب زہنی ازیت سے دو چار نہیں ہوں گے جب وہ پریکٹیکل لائف میں قدم رکھیں گے۔ ورنہ وہ ہر قدم پہ منہ کھول کر بیٹھ جائیں گے اور سوچیں کہ
”اگر تعلیم حاصل کر ہی لی ہے ہم نے تو
لوگ
نوکری نہیں ہے؟
نوکری نہیں ملی؟
نوکری کیوں نہیں ملتی؟
والے سوال کر کر کے ناک میں دم کیوں کر دیتے ہیں”

ایسے سوالات تعلیم کو تعلیم نہیں رہنے دیتے، بلکہ کمائی کا ذریعہ بنا دیتے ہیں، جب تعلیم ذریعہ تربیت نہیں ہو گی بلکہ ذریعہ معاش بن جائے گی تو معاشرے میں انسان نہیں جانور ہی پائے جائیں گے۔
پھر ہم کہتے ہیں کہ
”جی زمانہ بڑا خراب ہے”
﴿عائشہ اقبال﴾