Advertisement

میں کبھی بھی کہیں بھی give up کرنے کو تیار رہنے کو خود کو محسوس کرتی ہوں، میرے لیے کچھ بھی ایسا نہیں کہ جس کے چھوٹ جانے پہ میں غمزدہ ہو جاؤں ، یا کچھ بھی ایسا نہیں جس کے بغیر مجھے لگے میرا گزارا اس کے بغیر ممکن نہیں۔

Advertisement

مجھے مرنے سے بھی ڈرنا نہیں لگتا، ایک ہلکی سی ہچکچاہٹ بھی نہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ زندگی میں رکھا ہی کیا ہے، سب کچھ تو عارضی ہے، آج ہے تو کل نہیں، کل تھا تو آج نہیں ہے، جب سب اس قدر temporary ہے تو اس کے چھوٹ جانے پہ ارمان کیسا؟ دکھ کیسا؟ درد کیسا ؟

Advertisement

اس کے بارے میں تو معلوم تھا کہ یہ expire ہو جائے گا، چاہے وہ اچھا وقت ہو یا برا وقت، چاہے وہ کوئی رشتہ ہو ، یا کوئی یادگار لمحہ، یا کوئی من پسند چیز ، جگہ، شخص ہو، اس کو ایک وقت ہی ہماری زندگی میں رہنا تھا یا رہنا ہو گا، اب جب اس کا وقت expire ہو گیا ہے تو دکھ کیسا؟ درد کیسا؟

Advertisement

اب کے مجھے کھوج لگی رہتی ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص، چیز ، جگہ ، وقت، یا لمحہ ایسا ہے جس کی expiry date نا ہو؟ اب تک تو جواب ”نا” ہی میں آیا ہے، آپ کو کیا لگتا ہے کہ جواب کبھی ”ہاں” میں آئے گا؟

تحریرعائیشہ اقبال
Advertisement

Advertisement

Advertisement