تعارف

اردو کے ممتاز شاعر و ادیب سید اکبر حسین وضوی الٰہ آباد کے قریبی گاؤں میں ۱٦ نومبر ۱۸۴٦ پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں کے سرکاری مدرسے میں پائی اور پھر تعمیرات کے محکمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ مگر ان کی ترقی کا پیہ بتدریج چلتا گیا وہ ترقی در ترقی کرتے ہوئے وکالت کے شعبے تک پہنچے۔ پھر مزید ترقی کی اور جج بنے۔ یوں ہی زندگی کے پیچ و خم سے گزرتے ہوئے وہ ایک باکمال شاعر بنے۔ لیکن 1903 میں صحت کی خرابی کے باعث انھوں نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی اور شاعری کی آبیاری کرتے ہوئے عملی زندگی اختیار کر لی۔

مزاح نگاری

اکبر کی ظرافت اور ان کے طنز و مزاح کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ شخصی ، ذاتی، واقعاتی نوعیت کی مزاح نگاری کے مشغلے سے دل بہلانے اور ہنسنے ہنسانے کے دلچسپ مشغلے سے خوش وقت ہونے کے بجائے ان کی ظرافت کی بنیاد ایک مرتب اور جامع تصورات پر ہے۔ ذاتی اختلافات ، ادبی معارکوں یا افراد کی تخضیک پر مبنی مزاح ، مزاح نگاری سے رخصت ہوجاتا ہے بعض صورتوں میں اس قسم میں مزاح نگاری ہفتہ عشرہ میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔

اکبر کی ظرافت کا افق اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ایک مکمل نظام حیات کی نمائندگی کے سبب اس نظام سے وابستہ تمام مظاہر اکبر کی شاعری کا موضوع ہیں۔ اخلاقیات ، تہذیب ، تعلیم، مذہبی عقائد عملی زندگی کی فکر غرض انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تقریباً تمام پہلو اکبر کی شاعری میں ہر آن کسی لطیف اور انوکھے پیرائے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مخصوص تصور حیات سے وابسطہ ہونے کی سبب ان کا پورا کلام ایک بڑی وحدت اور اکائی معلوم ہوتا ہے۔

اسلوب

جہاں تک اکبرآلہ آبادی کے بدلہ سنج ، نفز گو اور طنز نگاری ہونے کا تعلق ہے۔ وہ اس دنیا میں اکبر تھے کیونکہ نہ تو پچھلے اکابرین ادب میں کوئی ان کا ہم پلہ ہوا ہے اور نہ آئندہ نسلوں میں کوئی ان کا رنگ اختیار کر سکا۔ وہ اپنے رنگ کے مؤجد بھی تھے اور عبد بھی تھے اور معبود، خالق بھی تھے اور مخلوق بھی اور کہنا بھی بلکل درست ہے کہ اردو شاعری کا اگر ابتدا سے جائزہ لیا جائے تو ان سے پہلی ساری تعریفانہ شاعری ہجو کے علاوہ کسی اور شکل میں اور کسی خاص اہمیت میں نظر نہیں آئی۔

غزل ، قصیدہ وغیرہ بھی بھولے بھٹکے مزاح ، تمسخر یا بھبتی وغیرہ کا کوئی جزو تو کہیں کہیں مل جاتا ہے مگر نہ تو تسلسل کے ساتھ ملتا ہے نہ لطافت کے ساتھ جو اکبر نے پیش کی۔ انہوں اپنے خیالات کو بغیر سوچے سمجھے عملی جامہ پہنایا، بدلتے ہوئے زمانے کو ایک نئی روح اور ایک نئے انداز سے ہوشیار کرنے کا ارادہ شعوری تھا ، ان کے اکثر اشعار کے پس پشت کوئی نا کوئی لطیفہ ضرور ہوتا تھا، وہ ظرافت کو ایک خاص اہمیت اور روک تھام کے ساتھ پیش کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس کا مخص تفریح کے خانے میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔

تصانیف

  • اکبر الٰہ آبادی کی مشہور تصانیف میں؛
  • عورت نامہ،
  • دیوان اکبر،
  • گاندھی نامہ،
  • مکاتیب اکبر،
  • روح اکبر کے نام سرِفہرست ہیں۔

آخری ایام

اکبر نے 9 ستمبر 1931ء کو ۷۵ سال کی عمر میں الٰہ آباد میں اس فانی دنیا کو خیر آباد کہا۔

Advertisements