تعارف

اردو ادب کے ایک بہت اچھے ناول نگار، افسانہ نگار اور دیگر بہت ساری اصناف پر عبور رکھنے والے امجد جاوید 27 ستمبر 1965 کو حاصل پور،ضلع بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور ہندوستان کے مابین جنگ ختم ہو گئی تھی۔ ان کو پچین میں فہیم الحق اور امجد عزیز کے ناموں سے پکارا جاتا تھا۔مگر بعد میں یہ امجد جاوید میں بدل گیا۔

امجد جاوید نے اپنی تعلیم اپنےآبائی شہر حاصل پور سےحاصل کی۔ یہ ان کی والدہ کے جانے کا غم تھا کہ وہ میٹرک کے امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بعد میں انہوں نے نجی طور پر اپنی تعلیم جاری رکھی۔ امجد جاوید صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انھوں نے 1993 میں اسلامیہ یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ، انہوں نے اسی ادارے سے ایم اے اردو اور اقبالیات پاس کیا۔

ادبی تعارف

امجد جاوید دانشور،کہانی کار،ناول نگار،کالم نویس،شاعر،اور ڈرامہ نگار ہیں جنھوں نے کچھ شاہکار ناول اور کہانیاں قلم بند کیں ہیں۔ انہوں نے انگریزی سے اردو میں کچھ کتابوں کا ترجمہ کیا،جس کو قارئین کی داد ملی۔ انھیں اسلام، تصوف،نفسیات اور تاریخ کا وسیع علم تھا ، جس نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔

ادبی سفر

امجد جاوید نے کم سنی میں ہی قلم تھام لیا تھا ابھی وہ کوئی ۱٦ برس کے تھے کہ انھوں نے ادیب اور شاعر کی حیثیت سے ادب کی خدمت جاری کر دی۔ انہوں نے شاعری پر بہت توجہ دی اور روزنامہ جنگ کے لیے کالم لکھا کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور کسی وجہ سے ان کو ناول نگاری کا شوق جاگ گیا اور پھر انھوں وہ لازوال داستانیں رقم کر دیں جو آج بھی اردو ادب میں قدر کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔

امجد جاوید نے  ۱۹۸۸ء سے کہانیاں لکھنے کی ابتداء کی اور پھر ڈائجسٹ اور رسالوں کی دنیا میں یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ تب سے نہ صرف کہانیوں کی ایک طویل فہرست ان کے کریڈٹ پر ہے بلکہ وہ اس میدان میں طبع  آزمائی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیق و تراجم کے حوالے سے ایک روشن مستقبل ان کا منتظر ہے۔بقول امجد جاوید کے میری یہ خوش قسمتی ہےکہ مجھے بہترین اساتذہ  سے رہنمائی کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔

اسلوب

انہوں نے اپنے ناولوں میں معاشرے کی اصل تصاویر پیش کی اور برائیوں کو بے نقاب کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے ایک جرت مند اور بہادر عورت اور عملی تصوف متعارف کرایا ، جو اس وقت کی آواز ہے۔

تصانیف

امجد جاوید کے ناول کی فہرست مختصر ہے ، لیکن انہوں نے معیار پر توجہ دی اور متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تاریخ،تصوف، رومانس،حب الوطنی اور موجودہ امور پر لکھا ، جس نے ان کی کتابوں کو زیادہ کارآمد بنا دیا۔ امجد جاوید کے بیشتر ناول انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی دستیاب ہیں لیکن نایاب لوگ امجد جاوید کی سیرت جانتے ہیں۔

  • امجد جاوید کی تصانیف میں
  • تاج محل،
  • عشق کا قاف،
  • عشق فنا عشق بقا،
  • عورت ذات،
  • قلندر ذات،
  • فیض عشق،
  • چہرہ،
  • منٹو کے نسوانی کردار،
  • بے رنگ پیا،
  • کامیابی تیس دن میں،
  • ذات کا قرض،
  • روشن اندھیرے اور
  • شیلف میں رکھی کتاب قابل ذکر ہیں۔

حرفِ آخر

امجد جاوید ۵٦ برس کے ہو چکے ہیں اور ہماری خوش نصیبی ہے کہ وہ بقید حیات  ہمارے درمیان موجود ہیں۔

Advertisements