تعارف

انیس ناگی شیخوپورہ میں مولوی ابراہیم ناگی( ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج )کے گھر ۱۹۳۹ میں پیدا ہوئے تھے۔ انکا خاندانی نام یعقوب علی ناگی اور قلمی نام انیس ناگی تھا۔ انھوں نے مسلم ہائی اسکول نمبر ۲ سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج ، لاہور سے انٹر اور گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور اورینٹل کالج سے ماسٹر کیا۔ انہوں نے ایم – اے اردو کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی نے انہیں گولڈ میڈل سے نوازا۔ بعد ازاں ، انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم و نوکری

گورنمنٹ کالج  لاہور اور اس کے بعد گورنمنٹ کالج ، فیصل آباد میں اپنی لیکچر شپ کے ابتدائی برسوں میں ، انیس صاحب نے مغربی پاکستان صوبائی سول سروس کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۹۹ میں سول سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ، انہوں نے ۲۰۰۳ میں ایک بار پھر بطورِ مہمان پروفیسر جی سی یونیورسٹی لاہور میں شمولیت اختیار کی اور ۲۰۰۷ تک ان کے المامیٹر سے وابستہ رہے۔

ادبی سفر

انیس ناگی ۱۹۶۰ کی دہائی کی ادبی تحریکوں میں سب سے آگے تھے۔ انہوں نے خود بیشتر کتابیں لکھیں جو ایک وسیع میدان ہے۔ اردو کے معروف افسانہ نگار منٹو پر انکا بے شمار کام ہے اور انکے ناولوں میں اہم ترین ناول ‘‘زوال‘‘ ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پنجاب کی صوبائی سول سروس میں بیوروکریٹ کی حیثیت سے طویل کیریئر کے دوران ، انیس صاحب نے ڈپٹی سکریٹری تعلیم سمیت مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ ممبر بورڈ آف ریونیو ، حکومت پنجاب کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ سول سرونٹ ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ مصنف اور استاد رہے اور آخری سانس تک اس سے لطف اندوز ہوئے۔ انیس ناگی کی تحریریں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت توجہ اور سنجیدگی سے لکھی گئی ہیں اور معیق ، بے حد تجزیاتی اور پر مغز ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے موضوعات پر کھلے اظہار کے لیے ایک جرارت رندانہ درکار ہے جو شاید مصلحتاً کم کم پائی جاتی ہے۔ ممتاز مفتی سے ضمیر الدین سے ہوتے ہوۓ ڈاکٹر سلیم اختر تک عورت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن محدود انداز میں۔

ناول محاصرہ

انیس ناگی کا ناول "محاصرہ” ۱۹۹۲ء میں منظر عام پر آیا۔ لاہور کی جدید زندگی جس میں انڈر ورلڈ بھی شامل ہوچکی تھی اس کے قصے کا اہم حصہ تھا۔

ناول دیوار کے پیچھے سے

انیس ناگی کےناول ”دیوار کے پیچھے سے“ کو پڑھنے والوں کو اس کی ہیت، اسلوب اور تکنیک اور ناسٹلجیائی  جس کے ساتھ سماجی اور جدید سیاسی منظر نامہ جڑا ہوا تھا چونکا دیا۔ یہ ناول بالکل انتظار حسین کے ناول بستی کی طرز کا ناول تھا۔ اس طرح کی باتیں اس سے قبل اس طرح سے ناول میں اس خطے میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔واضع رہے کہ انیس ناگی جو جدیدیت کے حامی رہے ہیں ناول میں انہوں نے مناظر، مکالموں، بیانیہ اور علامتوں کو ایک نئے مگر خفیف سے پیچیدہ اسلوب میں پیش کیا ہے، تاہم مطالعیت مجروح نہیں ہوتی۔

کتب

ان کی مشہور کتابوں میں

  • گردش (افسانوی مجموعہ)،
  • زوال،
  • آگ ہی آگ،
  • ابھی کچھ اور،
  • محاصرہ،
  • بےخیالی میں،
  • کیمپ،
  • روشنیاں،
  • ایک لمحہ سوچ کا،
  • زرد آسمان،
  • بشارت کی رات،
  • ایک لڑکھڑاتی کہانی،
  • تصورات،
  • شعری لسانیات،
  • میں اور وہ،
  • ایک ادھوری سی سرگزشت نمایاں ہیں۔

آخری ایام

انہوں نے پنجاب پبلک لائبریری میں اپنے طالب علموں کو لیکچر دینے سے پہلے ہی ۷ اکتوبر ٢٠١٠ کو اپنی آخری سانسیں لیں۔

Advertisements