• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر15: کہانی
  • مصنف کانام: رابندرناتھ ٹیگور
  • سبق کا نام: کابلی والا

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک بچی اور کابلی والے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ میری پانچ برس کی بچی ، جس کا نام منی ہے، گھڑی بھر کو خاموش نہیں رہتی۔وہ کبھی اپنے نوکر کی شکایت لے کر آ جاتی کہ بابو جی سبودھ کوے کو کاگ کہتا ہے۔کبھی یہ کہتی کہ بھولا کہتا ہے کہ ہاتھی سونڈ سے آسمان سے بارش برساتا ہے۔ ایک روز وہ ننھی بچی منی کابلی والے کی پکار لگا رہی تھی۔

کابلی والا اس علاقے میں خشک میوہ جات بیچنے آتا تھا۔کابلی والے کے کندھے پہ میووں کا تھیلا اور ہاتھوں میں انگوروں کی پٹاری ہوتی تھی۔ موٹے کپڑے کا ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنے، صافہ باندھے وہ لمبے ڈیل ڈول کا آدمی تھا۔ منی کی پکار پی کابلی والے نے اس کی طرف دیکھا۔ جس سے منی گھبرا گئی۔منی کی ماں اکثر اس سے کہا کرتی تھی کہ کابلی والے بچوں کو تھیلے میں ڈال کر لے جاتے ہیں اس لیے اکثر منی کابلی والے کو دیکھ کر گھبرا جاتی تھی۔

Advertisement

منی کے والد نے اس کا یہ خوف ختم کرنے کے لیے کابلی والے کو اندر بلایا اور یوں وہ دونوں متعارف ہوئے۔کابلی والا منی کو اپنی جھولی میں سے بادام اور کشمش نکال کر دیا کرتا تھا۔ ایک روز دیکھا کہ منی کابلی والے سے میوے لے کر کھا رہی ہے۔جس کے عوض اس کے بابو نے کابلی والے کو اٹھنی دی اس وقت تو اس نے جیب میں رکھ لی مگر بعد میں وہ منی کو لوٹا گیا۔ کا بلی والے کا نام رحمت تھا جس سے اب منی کی خاصی دوستی ہو چکی تھی۔

وہ اکثر منی سے کہتا کہ ’منی سسرال جاؤ گی؟ منی الٹا یہ سوال کا بلی والے سے کرتی تو رحمت گھونسا تان کر کہتا ” میں تو سسرے کو ماروں گا ۔“اور یوں دونوں کھلکھلا کر ہنس دیتے۔ہر سال جاڑا ختم ہوتے رحمت اپنے گھر جانے کی تیاری کرتا اور گھر گھر جا کراپناروپیہ وصول کرتا تھا۔ ایک روز شور کی آواز سنائی دی معلوم ہوا رحمت کو پولیس لیے جا رہی ہے۔

ایک چپراسی نے کابلی والے سے ایک چادر لی تھی۔ اور اب دام دینے سے انکار کر رہا تھا جس کی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا تو کابلی والے نے اس پہ چاقو سے حملہ کر دیا جس کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا۔اس وقت رحمت نے منی کو دیکھا اور اپنا پسندیدہ سوال کیا۔رحمت کا چہرہ دم بھر کے لیے خوشی سے کھل اٹھا۔ اس جرم میں رحمت کو سات سال کی سزا ہوئی۔اس دوران منی بڑی ہوگئی اور پھر اس کی شادی بھی طے ہوگئی۔

ایک روز کابلی والا آیا میں نے کہا کہ پھر کسی روز آؤ آج میں مصروف ہوں۔ اس روز منی کی شادی تھی۔ کا بلی والا کہنے لگا کہ یہ کچھ کشمش بادام منی کے لیے لایا تھا ، اس کو دے دیجیے۔ جاتے جاتے کابلی والا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا کہ اس کی بھی منی جتنی بیٹی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی بیٹی کی نشانی دکھائی کہ کابلی والے کے پاس ایک میلے کاغذ کی پڑیا تھی۔ جس پہ ایک چھو ٹے ہاتھ کا نشان تھا جو کہ کابلی والے کی بیٹی کی نشانی تھی۔

جسے وہ سینے سے لگائے رکھتا تھا۔ یہ دیکھ کر منی کے والد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے انھوں نے منی کو بلایا وہ دلہن کے لباس میں تھی۔ جسے دیکھ کر کابلی والا گھبرا گیا اور اتنا ہی بولا کہ منی سسرال جارہی ہے۔اب منی سسرال کے معنی سمجھنےلگی تھی ،اس نے شرما کے سر جھکا لیا۔اچانک رحمت زمین پہ بیٹھ گیا وہ کسی سوچ میں گرفتار تھا۔اس کو یکایک احساس ہوا کہ اس کی لڑکی بھی اتنے دنوں میں بڑی ہوگئی ہوگی ۔وہ ان گزرے آٹھ سالوں کی یاد میں کھو گیا۔

سوچیے اور بتایئے:

منی کون تھی؟

منی ناول نگار کی ایک پانچ سالہ بچی تھی۔

متی نے بابو جی سے سبودھ کی کیا شکایت کی؟

منی نے بابو جی سے کہا کہ سبودھ کوے کو کاگ کہتا ہے۔

کابلی والے کا حلیہ کیسا تھا؟

کابلی والے کے کندھے پہ میووں کا تھیلا اور ہاتھوں میں انگوروں کی پٹاری ہوتی تھی۔ موٹے کپڑے کا ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنے، صافہ باندھے وہ لمبے ڈیل ڈول کا آدمی تھا۔

کا بلی والے کو دیکھ کر منی کیوں گھبراگئی؟

منی کی ماں اکثر اس سے کہا کرتی تھی کہ کابلی والے بچوں کو تھیلے میں ڈال کر لے جاتے ہیں اس لیے اکثر منی کابلی والے کو دیکھ کر گھبرا جاتی تھی۔

منی کی ماں اسے کس بات پر ڈانٹ رہی تھیں؟

منی کی ماں اس سے ڈانٹ کر پوچھ رہی ہے کہ تو نے اس نے کابلی والے سے اٹھنی کیوں لی؟

وطن جانے سے پہلے کابلی والا گھر کیوں جا تا تھا ؟

وطن جانے سے پہلے کا بلی والا گھر گھر جا کر اپنا روپیہ وصول کرتا تھا۔

کابلی والے کو جیل کیوں بھیجا گیا؟

ایک چپراسی نے کابلی والے سے ایک چادر لی تھی۔ اور اب دام دینے سے انکار کر رہا تھا جس کی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا تو کابلی والے نے اس پہ چاقو سے حملہ کر دیا جس کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا۔

کابلی والا منی کو اپنی جھولی سے کیا دیا کرتا تھا؟

کابلی والا منی کو اپنی جھولی میں سے بادام اور کشمش نکال کر دیا کرتا تھا۔

کابلی والے کے پاس اپنی بیٹی کی کیا نشانی تھی ؟

کابلی والے کے پاس ایک میلے کاغذ کی پڑیا تھی۔ جس پہ ایک چھو ٹے ہاتھ کا نشان تھا جو کہ کابلی والے کی بیٹی کی نشانی تھی۔ جسے وہ سینے سے لگائے رکھتا تھا۔

منی کو دیکھ کر کابلی والے کو کیا یاد آیا؟

منی کو دیکھ کر کابلی والے کو منی کی عمر کی اپنی بیٹی یاد آتی تھی۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • میں اپنے ناول کا سترہواں باب لکھ رہا تھا۔
  • کابلی والے سے میرا تعارف اس طرح ہوا۔
  • کابلی والے کا نام رحمت تھا۔
  • پیچھے کا سے لڑکوں اور راہ گیروں کا مجمع چلا آ رہا تھا۔
  • کابلی والا کہتا : ” منی سسرال جاؤ گی؟
  • رحمت گھونسا تان کر کہتا ” میں تو سسرے کو ماروں گا ۔“
  • رحمت گھر گھر جا کراپناروپیہ وصول کرتا۔
  • ہوں۔ میں نے کہا : ” آج تو میں بہت مصروف ہوگا۔
  • اس کاغذ پر ایک چھوٹے سے ہاتھ کا نشان تھا۔
  • اس کو یکایک احساس ہوا کہ اس کی لڑکی بھی اتنے دنوں میں بڑی ہوگئی ہوگی ۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

صافہکابلی والا کندھے پہ اپنا صافہ رکھے گھر میں داخل ہوا۔
ڈیل ڈولعلی اچھے ڈیل ڈول والی جسامت کا مالک ہے۔
خوفمجھے چھپکلی سے خوف آتا ہے۔
مصروفآج کا دن بہت مصروف تھا۔
احتیاطسڑک پار کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

دوستدشمن
پیچھےآگے
بے ایمان ایمان دار
خوشیغمی
خوش نمابدنما
الٹاسیدھا
انکاراقرار

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

دام وصول کرنااپنی بہترین کارکردگی سے احمد۔ ے اپنی محنت کے دام وصول کرلیے۔
لین دین کرنا ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ لین دین کرنا چاہیے۔
وار خالی جاناشکاری نے ہرن پر نشانہ باندھا لیکن اس کا وار خالی گیا۔
حق مارناہمیں دوسروں کا حق نہیں مارنا چاہیے۔
مال دبا لیناکسٹم والوں نے مسافروں کا غیر قانونی مال دبا لیا۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنا کر لکھیے:

واحدجمع
باتباتیں
آنسوآنسوؤں
راہ گیرراہ گیروں
لڑکیلڑکیاں
میوہمیووں
سپاہیسپاہیوں
چادرچادروں
مہمانمہمانوں
برسبرسوں

نیچے دیے ہوئے جملوں کو کہانی کی ترتیب سے لکھیے:

  • منی کی ماں اس سے ڈانٹ کر پوچھ رہی ہے کہ تو نے اس سے اٹھنی کیوں لی؟
  • رحمت کا چہرہ دم بھر کے لیے خوشی سے کھل اٹھا۔ دروازے پر دیکھا کہ منی اس کا بلی والے سے بڑے مزے سے باتیں کر رہی تھی ۔
  • منی بڑی ہوگئی اور پھر اس کی شادی بھی طے ہوگئی۔
  • میری پانچ برس کی بچی ، جس کا نام منی ہے، گھڑی بھر کو خاموش نہیں رہتی۔
  • اب منی سسرال کے معنی سمجھنےلگی تھی ،اس نے شرما کے سر جھکا لیا۔
  • یہ کچھ کشمش بادام منی کے لیے لایا تھا ، اس کو دے دیجیے۔

صحیح ترتیب:

  • میری پانچ برس کی بچی ، جس کا نام منی ہے، گھڑی بھر کو خاموش نہیں رہتی۔
  • دروازے پر دیکھا کہ منی اس کا بلی والے سے بڑے مزے سے باتیں کر رہی تھی ۔
  • منی کی ماں اس سے ڈانٹ کر پوچھ رہی ہے کہ تو نے اس سے اٹھنی کیوں لی؟
  • رحمت کا چہرہ دم بھر کے لیے خوشی سے کھل اٹھا۔
  • منی بڑی ہوگئی اور پھر اس کی شادی بھی طے ہوگئی۔
  • یہ کچھ کشمش بادام منی کے لیے لایا تھا ، اس کو دے دیجیے۔
  • اب منی سسرال کے معنی سمجھنےلگی تھی ،اس نے شرما کے سر جھکا لیا۔

صحیح جملوں کے سامنے ✅ اور غلط کےسامنے ❎ کا نشان لگائیے۔

  • میری چھ برس کی بچی ،جس کا نام چنی ہے۔ ❎
  • سبودھ نوکر کا نام ہے،جو کوے کو کاگ کہتا ہے۔✅
  • میرا گھر سڑک سے دور ہے۔❎
  • کابلی والا ہنس مکھ تھا۔✅
  • کابلی والے نے کہا :’منی سسرال جاؤ گی؟✅
  • کابلی والا ہر سال جاڑے کے موسم میں آتا تھا۔ ✅
  • کابلی والے کا نام عظمت تھا۔❎