• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر07:نظم
  • شاعر کا نام: سیماب اکبر آبادی
  • نظم کا نام: ذروں کو بھی انسان بنا دو

نظم ذروں کو بھی انسان بنا دو کی تشریح

اے اہل وطن! جان وطن بن کے دکھا دو
تم خاک کے ذروں کو بھی انسان بنا دو

یہ شعر سیماب اکبر آبادی کی نظم "ذروں کو بھی انسان بنا دو” سے لیا گیا ہے۔اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے ہم وطنوں اپنے وطن کی جان بن کر دکھاؤ۔ تمھیں اپنے وطن کے لیے کچھ ایسا کرنا ہے کہ تم خاک یعنی مٹی کے ذرات کو بھی انسان بنا ڈالو۔

انسان وہ ہے علم کی جس میں ہو تجلی
حیواں کو بھی علم ملا ہو تو بتا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں اگر انسانوں کی بات کی جائے تو انسان تو وہ ہے جس میں علم کی روشنی موجود ہو۔ کیوں کو اللہ نے انسان کو تخلیق ہی علم کی بنیاد پہ کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو علم سکھا کر بھیجا اور اسے باشعور بنایا۔ جبکہ کیا کبھی ہم نے یہ دیکھا ہے کہ کسی حیوان کو علم دیا گیا ہو۔ ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔

Advertisement
خود بھی پڑھو بنے کے لیے عالم و کامل
ان پڑھ کوئی مل جائے تو اس کو بھی پڑھا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بطور انسان ہمیں چیزوں اور اس کائنات کے رازوں کو مکمل طور پر جاننے کے لیے علم حاصل کرنا چاہیے اور یہی نہیں بلکہ اگر کوئی ان پڑھ انسان ہمیں مل جائے تو ہمیں اسے بھی پڑھا دینا چاہیے۔ کیونکہ علم ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے۔

ہو علم تو پھر کیا نہیں امکاں میں تمھارے
تم چاہو تو جنگل کو بھی گلزار بنا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر تمھارے پاس علم کی دولت موجود ہے تو پھر ایسا کیا نہیں ہے جو تم ممکن نہ کر سکو۔ سب کچھ تمھارے بس میں ہے۔ تم اپنے علم کی قوت سے چاہو تو جنگل کو بھی باغ میں تبدیل کر سکتے ہو۔

کانٹوں کو جہالت کے الگ کاٹ کے پھینکو
تم علم کے پھولوں سے نیا باغ کھلا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ علم کی ایک اور قوت یہ ہے کہ اس کی مدد سے تم جہالت کے کانٹے اکھیڑ کر دور پھینک سکتے ہو۔ اپنے علم کی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے تم اس کی مدد سے پھولوں کا ایک نیا اور خوبصورت باغ کھلا سکتے ہو۔

ہے ملک میں تفریق جہالت کے سبب سے
تم علم کی قوت سے یہ جھگڑا ہی مٹا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ملک میں یہ جو امیر غریب اور چھوٹے بڑے کا فرق روا رکھا جاتاہے۔ اس تفریق کا سبب کوئی اور نہیں بلکہ محض جہالت ہے۔ جبکہ علم میں ایسی طاقت ہے کہ وہ اس جہالت کو مٹا سکتی ہے اور چھوٹے بڑے کا فرق روا نہیں رکھتی ہے۔

بے علم کا جینا بھی ہے اک قسم کا مرنا
جیسے تن بے روح، جلا دو کہ دبا دو

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بغیر علم کے انسان کا جینا ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ جیتے جی مر چکا ہو۔ اس کا وجود بغیر علم کے اس طرح ہے کہ جیسے روح کے بنا جسم ہوتا ہے۔ یعنی کہ ایک بے جان پتلا جسے جلا دو یا دفن کر دو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔یعنی بے علم انسان کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

وطن کے لوگ جان وطن کیسےبن سکتے ہیں ؟

وطن کے لوگ علم حاصل کر اور اسے دوسروں میں بانٹ کر جان وطن بن سکتے ہیں ۔اور خاک کے ذروں کو بھی روشن کر سکتے ہیں۔

شاعر کے نزدیک انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے؟

شاعر کے مطابق انسان اور حیوان میں بنیادی فرق یہی ہے کہ انسان علم حاصل کرتا ہے جب کہ حیوانوں کے پاس علم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

علم حاصل کر کے کیا کیا کام کیے جا سکتے ہیں؟

شاعر کا کہنا ہے کہ انسان علم کی بدولت جنگلوں کو بھی گلزار بنا سکتا ہے، بڑے چھوٹے اور امیر غریب کی تفریق مٹا سکتا ہے۔

کانٹوں اور پھولوں سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟

کانٹوں سے شاعر کی مراد جہالت اور پھولوں سے شاعر کی مراد علم ہے۔

جہالت کی وجہ سے ملک کو کیا نقصان ہوتا ہے؟

جہالت کی وجہ سے ملک میں فرقہ پرستی پھیلتی ہے اور آپسی تفریق کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

علم کی قوت ملک کی تعمیر و ترقی میں کیسے مدگار ثابت ہو سکتی ہے؟

علم کی مدد سے جہالت کے وجہ سے ہونے والی تفریق کا خاتمہ ممکن ہے اور علم کی قوت سے سب مل کر ملک کو روشن راہوں پر گامزن کر سکتے ہیں۔

آخری شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بغیر علم کے انسان کا جینا ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ جیتے جی مر چکا ہو۔ اس کا وجود بغیر علم کے اس طرح ہے کہ جیسے روح کے بنا جسم ہوتا ہے۔ یعنی کہ ایک بے جان پتلا جسے جلا دو یا دفن کر دو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ یعنی بے علم انسان کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔

مصرعے مکمل کیجیے:

انسان وہ ہے علم کی جس میں ہو تجلی
ہو علم تو پھر کیا نہیں امکاں میں تمھارے
ہے ملک میں تفریق جہالت کے سبب سے
تم علم کی قوت سے یہ جھگڑا ہی مٹا دو
بے علم کا جینا بھی ہے اک قسم کا مرنا
دیے ہوئے مصرعوں کو ترتیب سے لکھیے:
حیواں کو بھی علم ملا ہو تو بتا دو
ان پڑھ کوئی مل جائے تو اس کو بھی پڑھا دو
انسان وہ ہے علم کی جس میں ہو تجلی
خود بھی پڑھو بننے کے لیے عالم و کامل
تم علم کی قوت سے یہ جھگڑا ہی مٹا دو
جیسے تن بے روح، جلا دو کہ دبا دو
ملک میں تفریق جہالت کے سبب سے
بے علم کا جینا بھی ہے اک قسم کا مرنا

  • انسان وہ ہے علم کی جس میں ہو تجلی
  • حیواں کو بھی علم ملا ہو تو بتا دو
  • خود بھی پڑھو بنے کے لیے عالم و کامل
  • ان پڑھ کوئی مل جائے تو اس کو بھی پڑھا دو
  • ہے ملک میں تفریق جہالت کے سبب سے
  • تم علم کی قوت سے یہ جھگڑا ہی مٹا دو
  • بے علم کا جینا بھی ہے اک قسم کا مرنا
  • جیسے تن بے روح، جلا دو کہ دبا دو

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

انسانحیوان
عالمجاہل
پھولکانٹا
جینامرنا
ان پڑھ پڑھالکھا

نیچے دیے ہوئے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے:

علمعلم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
تجلیہر طرف قدرت کی تجلی دکھائی دیتی ہے۔
گلزارزندگی گلزار ہے۔
تفریقہمیں امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرنی چاہیے۔
قوتدین اسلام زبردست قوت رکھتا ہے۔