Advertisement
  • کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر01:نظم

نظم ماں کا خواب کی تشریح:

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب

یہ شعر علامہ محمد اقبال کی نظم ماں کا خواب سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے کی حالتِ زار بیان کرتی ہے جو مناظر اس نے خواب میں دیکھے۔ وہ کہتی ہے کہ ایک رات میں سوئی تو میں نے خواب میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھا یہ ایسا منظر تھا کہ جس سے میری بے چینی میں مزید اضافہ ہوا۔

Advertisement
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ اس خواب میں منظر کچھ یوں تھا کہ میں نے دیکھا کہ میں کہیں جارہی ہوں اور اس راستے پر خوب اندھیرا ہے اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ کوئی منزل ملتی ہے۔

Advertisement
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اندھیرے کی اس شدت اور خوف کی وجہ سے نہ صرف میرا دل لرز رہا تھا بلکہ مارے خوف کہ میرا بال بال لرز رہا تھا اور رواں رواں کھڑا تھا۔ خوف اور دہشت کی شدت کی وجہ سے میرا ایک قدم بھی آگے نہیں اٹھ رہا تھا۔

جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بچے کی ماں یہ کہتی ہے کہ اس اندھیرے اور خوف کی وجہ سے میں جس خوف میں مبتلا ہوچکی تھی اپنے اس خوف پر میں قابو پاتے ہوئے کچھ حوصلہ پا کر آگے بڑھی۔ جب حوصلہ کر کہ آگی بڑھی تو کیا دیکھا کہ لڑکوں کی ایک قطار کھڑی تھی۔

Advertisement
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے

والدہ جب خوف پر قابو پا کر اگے بڑھی تو کہتی ہے کہ قطار میں کھڑے لڑکوں کو جو دیکھا تو ان سب نے ایک ہی طرح کی زمرد(سبز) رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور ان سب کے ہاتھوں میں دیے موجود تھے۔ یہ دیے روشن تھے۔

وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں

بچے کی ماں نے ہاتھوں میں روشن دیے لیے جن بچوں کو دیکھا وہ بچے ہاتھوں میں دیے لیے چپ چاپ آگے پیچھے رواں دواں تھے اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ بچے کہاں اور کیوں جا رہے ہیں۔

Advertisement
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بچے کی ماں اس سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ نجانے یہ بچے کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں کہ اسی دوران ان بچوں کے درمیان اس ماں کو اپنا بیٹا بھی دکھائی دیا۔

وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا

ماں کہتی ہے کہ جب اس نے ان لڑکوں کی قطار میں اپنے بیٹے کو دیکھا تو وہ کیا دیکھتی ہے کہ اس کا بیٹا اس قطار میں سب سے پیچھے تھا اور وہ باقی لڑکوں کی طرح تیز رفتاری سے چلتا بھی نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی دیا موجود تھا مگر یہ دیا بجھا ہوا تھا اور جل نہیں رہا تھا۔

Advertisement
کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں

ماں کہتی ہے کہ ان لڑکوں کی قطار میں میں نے اپنے بیٹے کو پہچان کر اسے میری جان کہہ کر مخاطب کیا اور اس پوچھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر یہاں کیوں چلا آیا؟

جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار

اس شعر میں ماں کہتی ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کی جدائی کا قرب اس کے سامنے بیان کیا کہ تمھاری جدائی میں میں بے قرار و بے چین رہتی ہوں اور تمھاری جدائی میں رو رو کر میں اشکوں کے ہار پروتی ہوں۔

Advertisement
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ماں اپنے بچےسے کہتی ہے کہ تم نے ہماری ذرا بھی پروا کیے بغیر ہمیں چھوڑ دیا اور تم نے ہم سے وفاداری کا یہ ثبوت دیا کہ ہمیں اپنی جدائی کا غم دے دیا۔

جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ماں یہ بتلاتی ہے کہ جب بچے نے ماں کی بے چینی اور بے بسی دیکھی تو اس نے ماں کی جانب اپنا منھ پھیر کر اور پلٹ کر اپنی ماں کو کچھ یوں جواب دیا۔

Advertisement
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بچہ اب اپنی ماں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اے ماں تمھیں تو میری جدائی رلاتی ہے مگر میری جدائی میں تمھارا میرے لیے رونا میرے لیے باعث بھلائی نہیں ہے۔

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا

بچہ ماں کو اپنی کیفیت بتاتے ہوئے کچھ دیر کے لیے چپ رہا اور دوبارہ ماں کو اپنے ہاتھ میں موجود دیا دکھا کر یہ کہنے لگا کہ
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!
بچہ ماں کو ہاتھ میں موجود دیا دکھا کر کہنے لگا کہ سب لوگوں کے ہاتھوں میں موجود دیے روشن جبکہ میرا دیا بجھا ہوا ہے اور تمھیں معلوم ہے کہ اس دیے کو کیا ہوا ہے؟ یہ دیا کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ تمھارے آنسوؤں کی وجہ سے بجھا ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

خواب میں ماں نے اپنے آپ کو کس حال میں دیکھا؟

خواب میں ماں نے خود کو ایک اندھیری رات میں دیکھا کہ اس خواب میں منظر کچھ یوں تھا کہ ماں نے دیکھا کہ میں کہیں جارہی ہوں اور اس راستے پر خوب اندھیرا ہے اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ کوئی منزل ملتی ہے۔ اور مارے خوف کہ اس کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔

ماں نے آگے بڑھ کر کیا دیکھا؟

ماں نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ وہاں لڑکوں کی ایک قطار کھڑی ہے۔ جن کی پوشاک زمرد اور ہاتھ میں دیے روشن ہیں۔

Advertisement

ماں نے اپنے بیٹے کو کس حال میں پایا؟

ماں نے اپنے بیٹے کو ایک قطار میں جاتے ہوئے دیکھا وہ اس قطار میں سب سے پیچھے تھا اور اس کے ہاتھ میں موجود دیا بھی روشن نہ تھا۔

ماں کی بے قراری کا سبب کیا ہے؟

بیٹے سے جدائی ماں کی بے قراری کا سبب ہے۔

Advertisement

لڑکے کے ہاتھ میں دیا کیوں نہیں جل رہا تھا؟

لڑکے کے ہاتھ میں موجود دیا اس کی ماں کے آنسوؤں کی وجہ سے نہیں جل رہا تھا۔

مصرعے مکمل کیجیے:

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

اضطراب جوں جوں نتیجے کا وقت قریب آ رہا تھا طالب علموں کا اضطراب بڑھنے لگا۔
محالمہنگائی کی بڑھتی شرح نے انسان کا جینا محاک کر رکھا ہے
اجلاجل ہمیشہ انسان کے تعاقب میں رہتی ہے۔
پیچ و تابعلی کی بے جا نا انصافیوں پر احمد پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

الفاظمتضاد
وفابے وفائی
بھلائیبرائی
جدائیملن
بر قرارختم
دورپاس
جوابسوال

عملی کام: نظم ماں کا خواب کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس نظم کے شاعر علامہ محمد اقبال ہیں۔علامہ اقبال اپنی نظم ماں کا خواب میں ایک ماں کے خواب کو بیان کرے ہیں کہ ایک ماں اپنا خواب یوں بتاتی ہے کہ اس نے خواب میں ایک اندھیری رات کا منظر دیکھا یہ اتنی خوفناک رات تھی کہ مارے خوف کہ اس کا رواں رواں کھڑا ہو رہا تھا۔ اسی دوران اس نے زمرد پو شاک پہنے لڑکوں کی قطار دیکھی جس میں اسے اپنا بیٹا بھی دکھائی دیا۔ ان لڑکوں کے ہاتھوں میں روشن دیے موجود تھے۔ اپنے بیٹے کو دیکھ کر ماں اپنا ضبط کھو بیٹھتی ہے اور اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کیوں چلا آیا اور اس سے بے وفائی کیوں کی۔ بیٹا ماں کو کہتا ہے کہ اے ماں تمھیں تو میری جدائی رلاتی ہے مگر میری جدائی میں تمھارا میرے لیے رونا میرے لیے باعث بھلائی نہیں ہے۔ تمھارے ان آنسوؤں کی وجہ سے میرے ہاتھ میں موجود دیا روشن نہیں ہے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ یوں اقبال نے ایک خواب کے ذریعے یہ سبق دیا کہ ماں اگر اولاد کا حوصلہ پست کرے تو بچوں کو آگے بڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔

Advertisement

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے۔

ماننے والا، بنانے والا، دیکھنے والا
یہ الفاظ کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔ انھیں اسم فاعل کہتے ہیں۔ پانچ اسم فاعل ” والا ” کے ساتھ بنائیے۔

کھانے والا
پکانے والا
پڑھانے والا
کھلونے والا
سننے والا

Advertisement