• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر09:کہانی
  • سبق کا نام: سالم علی

خلاصہ سبق:

یہ سبق ہمارے ملک کے ماہر اورنیتھو لوجسٹ سالم علی کی کہانی کو بیان کرتا ہے۔ جنھوں نے رنگ برنگے اڑتے چہچہاتے پرندوں میں اپنی زندگی گزار دی۔سالم علی کا اصل نام معز الدین عبدالعلی تھا۔وہ12 نومبر 1896ء کو پیدا ہوئے۔سالم علی کو پوری دنیا میں پرندوں کا بہت بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔وہ پرندوں کی زبان سمجھتے ان سے باتیں کرتے تھے۔

انھوں نے پرندوں کے بارے میں کئی کتابیں لکھیں۔ وہ دس سال کے تھے تو ایک بار کسی شکاری نے ایک گوریا شکار کیا۔انھوں نے اس چڑیا کی گرن پہ پیلا دھبا دیکھا اور اسے اٹھا کر اپنے شکاری چچا کے پاس لے گئے۔سالم علی کے شکاری چچا کا نام امیر الدین طیب جی تھا۔ وہ انھیں نیچرل ہسٹری سوسائٹی بمبئی کے اعزازی سکریٹری ڈبلیو ملئرڈ سے ملاقات کے لیے لے گئے۔

Advertisement

ملئرڈ سالم علی کی پرندوں میں دلچسپی اور معلومات کے بارے میں جان کر حیران ہوئے۔ وہاں انھوں نے سالم علی کو بھرائی کیے گئے مردوں چڑیوں کے جسم دکھائے۔اس کے بعد سالم علی نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی میں نوکری کر لی۔جہاں انھوں نے چڑیوں کو پہچاننا اور مردہ چڑیوں کی کھال میں بھرائی کا کام سیکھ لیا۔ان کے پاس کوئی ڈگری نہ تھی۔انھوں نے علم حیوانات میں ایک کورس مکمل کیا۔ آپ سنی سنائی باتوں کی بجائے خود مشاہدہ پر یقین رکھتے تھے۔

سالم علی ایک طویل مدت تک بیا کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور صبح سے شام تک اس کے رہن سہن اور عادات کا مطالعہ کیا اور اپنی ان معلومات کو کتابی شکل میں پیش کیا جس نے انھیں پوری دنیا میں شہرت دلوائی۔ 1941 میں سالم علی کی کتاب "دی بک آف انڈین برڈس” شائع ہوئی۔جس میں رنگین تصویریں کے ذریعے پرندوں کی پہچان کروائی گئی اور ان کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی۔

پوری دنیا میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا۔خوب تعریف ہوئی اور ڈگریوں اور انعامات سے نوازا گیا۔سالم علی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن اور پدم وبھوشن اعزازات سے نوازا گیا۔1987ء میں پرندوں کا یہ گہرا اور سچا دوست کھو گیا۔

سوچیے اور بتایئے:

سالم علی کا اصل نام کیا تھا؟

سالم علی کا اصل نام معز الدین عبدالعلی تھا۔

سالم علی کو اورنیتھو لوجسٹ کیوں کہا گیا ہے؟

سالم علی کو پوری دنیا میں پرندوں کا بہت بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔وہ پرندوں کی زبان سمجھتے ان سے باتیں کرتے تھے۔انھوں نے پرندوں کے بارے میں کئی کتابیں لکھیں۔ جس کی وجہ سے انھیں اورنیتھو لوجسٹ کہا جاتا ہے۔

سالم علی کے شکاری چچا کا نام کیا تھا؟

سالم علی کے شکاری چچا کا نام امیر الدین طیب جی تھا۔

سالم علی نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی میں جا کر کون سا کام سیکھا ؟

سلام علی نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی میں چڑیوں کو پہچاننا اور مردہ چڑیوں کی کھال میں بھرائی کا کام سیکھ لیا۔

سالم علی پوری دنیا میں کیوں مشہور ہوئے ؟

سالم علی ایک طویل مدت تک بیا کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور صبح سے شام تک اس کے رہن سہن اور عادات کا مطالعہ کیا اور اپنی ان معلومات کو کتابی شکل میں پیش کیا جس نے انھیں پوری دنیا میں شہرت دلوائی۔

1941 میں سالم علی کی کون سی کتاب شائع ہوئی اور اس میں کیا بیان کیا گیا ہے؟

1941 میں سالم علی کی کتاب "دی بک آف انڈین برڈس” شائع ہوئی۔جس میں رنگین تصویریں کے ذریعے پرندوں کی پہچان کروائی گئی اور ان کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی۔

پوری دنیا میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا اس جملے کا کیا مطلب ہے؟

پوری دنیا میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا سے مراد ہے کہ انھوں نے پرندوں سے متعلق جو معلومات پہنچائیں پوری دنیا میں ان کو سراہا گیا۔

سالم علی کو کون سے قومی اعزاز ملے؟

سالم علی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن اور پدم وبھوشن اعزازات سے نوازا گیا۔

خالی جگہ کوصحیح لفظ سے بھریے۔

  • پرندوں کی دنیا بھی کتنی رنگارنگ دنیا ہے۔
  • ملک کے نامور ماہر طیور سالم علی تھے۔
  • سالم علی 12 نومبر 1896ء کو پیدا ہوئے۔
  • وہ دس سال کے تھے تو ایک بار کسی شکاری نے ایک گوریا شکار کیا۔
  • سالم علی نے نیچرل ہسٹری سوسائٹی بمبئی کے اعزازی سکریٹری ڈبلیو ملئرڈ سے ملاقات کی۔
  • سالم علی نے مردہ چڑیوں کی کھال میں بھرائی کا کام سیکھ لیا۔
  • سالم علی کے پاس کسی یونیورسٹی کیڈگرینہیں تھی۔
  • سالم علی نے علم حیوانات میں ایک کورس مکمل کیا۔
  • انھوں نے خاصی لمبی مدت تک بیا کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔
  • سالم علی کو 1976 میں پدم وبھوشن اعزاز دیا گیا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

پرندوں سالم علی کو پرندوں کا ماہر مانا جاتا ہے۔
زندگیزندگی گلزار ہے۔
معلوماتسالم علی نے بیا کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
فضاآج فضا بہت خوشگوار تھی۔
اعزازسالم علی کو پدم وبھوشن اعزاز دیا گیا۔
خدماتنامور شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔
حکومتحکومت کا کام ملک کا نظام چلانا ہوتا ہے۔

عملی کام:آپ پرندوں کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں کم سے کم ایک صفحے میں لکھیے۔

پرندوں کے بارے میں جہاں تک مجھے معلومات حاصل ہیں کئی طرح کے پرندوں میں ایک قسم مہاجر پرندوں کی بھی ہوتی ہے جو موسم کی مناسبت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں۔ہجرت بہت مشکل کام ہے۔ پرندوں کو اپنی پرواز کے دوران طاقت اور اپنے سفر کے دوران خود کو زندہ رکھنے کے لیے بہت زیادہ چربی کی ضرورت ہوتی ہے۔

راستہ بھول جانے کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، لہٰذا پرندوں میں ناقابل یقین حد تک نیوی گیشن مہارت ہوتی ہے جو انہیں مختصر اور محفوظ ترین راستوں سے اڑانے میں مدد کرتی ہے۔کچھ اقسام کے پرندوں میں نقل مکانی کرنے کی پیدائشی اور موروثی صلاحیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی نسل بڑھانے کے لیے آزادانہ طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر کوئل کی پرورش اس کے والدین نہیں کرتے کیونکہ مادہ کوئل بالکل مختلف نسل کے پرندوں سے تعلق رکھنے والے گھونسلے میں انڈے دیتی ہے۔ اس کے باوجود ایک نوجوان کوئل یورپ سے افریقہ تک سفر کر سکتی ہے، اور ایک موروثی ’اندرونی جی پی ایس‘ کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ واپس آ جاتی ہے۔لیکن کیسپیئن ٹرن جیسے پرندوں کی کچھ اقسام جو شمالی یورپ میں اپنی افزائش نسل کی جگہ سے افریقہ میں موسم سرما کے مقام تک طویل فاصلے تک نقل مکانی کرتی ہیں، ان کی وراثت میں ہجرت کرنے والی عادات بہت کم ہیں۔

زیادہ تر انہیں ان کے والدین کی طرف سے سکھایا جاتا ہے، جسے’ثقافتی وراثت‘ یا سماجی تعلیم بھی کہا جاتا ہے۔مسافر پرندے سردیاں ختم ہونے پر گرم علاقوں سے اپنے وطن شمالی نصف کرے کی جانب اس لیے پرواز کر جاتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں خوراک کے حاصل کرنے کے لیے مسابقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ایک خطے سے دوسرے خطے کی جانب پرندوں کا سفر ہزاروں برسوں سے جاری ہے۔ ہزاروں میل کا یہ سفر اب ان کے جین میں شامل ہو چکا ہے۔ شاہد یہی وجہ کی ان کی نئی نسل جب پرواز شروع کرتی ہے تو وہ بھٹکے بغیر اسی مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں ان کے آباو اجداد آیا کرتے تھے۔