اظہار احمد گلزار عہد حاضر کے معروف تغزل گو شاعر، بے مثال ادیب ، منفرد افسانہ نگار ، باکمال کالم نگار اور صاحب طرز سیرت نگار ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ آپ کا تنقیدی شعور اور محققانہ زاویہ نگاہ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔انھیں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی متعدد اصناف ادب میں یکساں عبور اور گرفت حاصل ہے ۔ان کے والد محترم اور تایا حضور کا شمار اردو ادب کے ممتاز ادباء میں ہوتا ہے۔ان کا جدا گانہ اسلوب نگارش ان کی پہچان ٹھہرتا ہے۔ اس طرح انہیں یہ صلاحیت اور وصف اپنے اسلاف سے ورثے میں ملا ہے ۔۔جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ ١٥/ جولائی ١٩٦٦ کو ممتاز افسانہ نگار رانا محمّد گلزار خاں کپور تھلوی کے گھر فیصل آباد ، پاکستان کے ایک نواحی گاؤں چک نمبر ۸۷ گ ب میں پیدا ہوۓ۔

سادہ طبعیت اور دھیمے لہجے کے مالک ہیں۔ پہلی نظر میں محسوس نہیں ہوتا کہ ان کے اندر کوئی سخن ور چھپا بیٹھا ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی اور پھر نواحی چک ٢٥٨ ر – ب لمبا پنڈ سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد فیصل آباد شہر منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ ایم – سی ہائی اسکول کوتوالی روڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔میٹرک کے بعد انٹر اور گریجوایشن بتدریج پنجاب کے دوسرے بڑے کالج’ گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے پاس کیے۔بلا شبہ اس کالج نے ہر شعبے میں بڑے بڑے نام پیدا کیے۔اس کالج کے فارغ التحصیل مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اس کالج میں پڑھنے کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ان کے ادبی ذوق اور شعری شعور کو خوب جلا ملی۔اس وقت اس کالج میں اعلی ادبی ماحول پایا جاتا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب پروفیسر عصمت اللہ‎ خان پڑھاتے تو ان کی باتوں سے شعر وارد ہوتے چلے جاتے۔جو طلبا کے زینوں میں راسخ ہوتے چلے جاتے۔ان کے علاوہ پروفیسر منظر مفتی ،پروفیسر شوکت علی قمر ، پروفیسر غلام رسول شوق ، پروفیسر خالد عبّاس بابر ،پروفیسر عبد الرحمان شاکر اور پروفیسر محمّد صدیق ناگی نے بھی ادبی ذوق کو خوب جلا بخشی۔اس کالج کے ادبی ماحول اور بڑے اساتذہ کے زیر تربیت ره کر انھوں نے شاعری میں جب باقاعدہ طبع آزمائی کی اور روایتی انداز سے ہٹ کر جدید انداز اپناتے ہوۓ ایک نیا اور منفرد لہجہ سامنے لاۓ۔


اظہار احمد گلزار نے اپنا تعلیمی سفر کو کہیں نہیں روکا ۔۔آگے بڑھنے کی جستجو نے انھیں کہیں پڑاؤ نہ کرنے دیا۔انھوں نے اپنے ادبی ذوق کو تقویت دینے کے لیے پہلے پنجابی زبان و ادبیات میں ماسٹرز کیا پھر اردو زبان و ادبیات میں ماسٹرز کر کے اردو کی تاریخ اور سخن وری کو خوب سمجھنے کی کوشش کی۔اس کے بعد انھوں نے سیاسیات اور اسلامیات میں بھی ماسٹرز کے امتحانات پاس کیے۔ان کا تعلیم سے عشق اس بات کا غمازی کرتا ہے کہ اظہار احمد گلزار نے یہاں بھی رکنا مناسب نہ سمجھا بلکہ ساتھ ساتھ بی- ایڈ کا امتحان علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پاس کیا۔ادبیات کا ایک طالب علم اور سخن فہم ہوتے ہوۓ انھوں نے اردو ایم – فل میں داخلہ لے لیا یہاں انھوں نے اپنا مقالہ معروف شاعر نور محمّد نور کپور تھلوی کی شخصیت اور فکر و فن پر لکھ کر ایم – فل کی ڈگری حاصل کی ۔۔اظہار احمد گلزار کے والد صاحب ان کی علم دوستی پر بہت نازاں رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اظہار کے علم کے ذریعے سے اس کا اظہار لوگوں پر ہو گا۔یہی بات ہوئی کہ ان کے والدین کی دعائیں رنگ لائیں۔

انھوں نے اردو اور پنجابی زبان و ادبیات کا وسیع مطالعہ کیا۔مسلسل جستجو ، لگن اور ذوق نے انہیں آگے بڑھنے کے لیے ہمیشہ مائل رکھا۔جب انہوں نے اپنے پی ایچ- ڈی اردو میں داخلہ کے لیے فیصل آباد کی جی سی یونیورسٹی میں اپلائی کیا لیکن انہیں یہاں داخلہ نہ ملا تو انھوں نے اپنی ہمت نہ ہاری اور اسی سال پی ایچ- ڈی میں داخلہ کے لئے لاہور کا رخ کرلیا۔تاہم انہیں لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی لاہور گیریژن یونیورسٹی میں اسی سال داخلہ مل گیا ۔۔یہاں سے انھوں نے اردو زبان و ادبیات میں پی ایچ- ڈی اردو کی ڈگری کے حصول کے لیے "فیصل آباد کی ادبی تاریخ” کے عنوان سے 600 صفحات پر مشتمل ضخیم مقالہ لکھ کر ڈگری حاصل کی۔اپنے اس تمام تر سفر میں انھوں نے ڈی ایچ ایم ایس (ڈاکٹر آف ہومیو پیتھک) کا ا متحان پاس کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹیکنیشن اور میڈیکل فارمیسی کے امتحانات بھی پاس کیے جس کی بنا پر انھوں نے ایک عرصہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیئے۔

اظہار احمد گلزار کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ان کے والد گرامی رانا محمّد گلزار خاں کپور تھلوی’ گورنمنٹ کے ایک محکمہ میں سرکاری ملازم تھے۔جنھوں نے اپنی انتھک محنت ، لگن ، اخلاص اور ایمانداری سے روزگار کما کر اپنے اولاد کی بہتر پرورش کی۔ان کی سارے بیٹے پڑھے لکھے ہیں اور باعزت روزگار کما کر ملک و ملت کی خدمت کرتے ہوۓ اپنے والدین کا نام روشن کر رہے ہیں۔ان کا ایک بھائی عامر گلزار چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے اور سعودی عرب میں اپنی فرم بنا کر عزت روزگار کما رہا ہے۔جو بہت سے رفاہی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔اور وہ اپنے والد گرامی کے نام پر "گلزار فاؤنڈیشن” کے ذریعے مستحقین کی امداد کا ایک رفاہی پلیٹ فارم بنا کر مستحسن کام کر رہا ہے۔ان کے دوسرے بھائی آفتاب احمد گلزار اور امجد گلزار بھی کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ریاست کپور تھلہ، ضلع جالندھر ، ہندوستان سے تھا ۔۔تقسیم ھند کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع لائل پور (فیصل آباد) کے ایک گاؤں چک نمبر ۸۷ گ ب (بابے دی بیر)براہ ڈجکوٹ میں آباد ہو گیا جہاں ان کے آباؤ اجداد کو زمینیں آلاٹ ہوئیں۔

اظہار احمد گلزار اردو اور پنجابی کے نامور شاعر اور محقق سید تنویر بخاری کے حلقہ تلامذہ میں شامل ہیں۔اظہار احمد گلزار کو کالج میں پڑھتے ہوۓ شعرو ادب سے شغف پیدا ہوا۔جو پھر پروان ہوتا چلا گیا۔ اظہار احمد گلزار کی اولین تخلیقات پنجابی میگزین ” لہراں ” اور "لکھاری ” میں شایع ہوئیں۔اس کے ساتھ ساتھ فیصل آباد کا اپنے وقت کے ایک مقبول مقامی ” روزنامہ ” عوام ” میں ان کے کالم اور مضامین تواتر سے چھپے۔ان کے والد گرامی رانا محمّد گلزار کپور تھلوی بھی مقامی اخبارات میں کالم ، مضامین اور کہانیاں لکھا کرتے تھے ۔۔اپنے ابا جان کو لکھتے دیکھ کر یہ بھی کالم اور مضمون لکھنے لگے۔ان کے تایا جان نور محمّد نور کپور تھلوی بھی اردو اور پنجابی کے قادر الکلام شاعر تھے جو فیض احمد فیض کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ان سے متاثر ہو کر شاعری کی طبع آزمائی کرنے لگے۔اظہار احمد گلزار ایک ہمہ صفت موصوف اہل قلم ہیں۔جو شاعری کے ساتھ ساتھ افسانہ ، کالم ، تنقید ، تحقیق ،خاکہ اور سیرت نگاری میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم ” در اصل مجموعی زوال کے عہد سے گزر رہے ہیں ۔ہر شعبے سے لوگ رخصت تو ہو رہے ہیں لیکن شامل نہیں ہو رہے ۔مصوری ہو یا گلوکاری ، شاعری ہو یا ناول اور افسانہ ، صدا کاری ہو یا ادا کاری ، ہر شعبہ زوال کا شکار ہے۔ادب کے سچے خادم اب خال خال ره گئے ہیں۔کتابیں اتنی زیادہ تعداد میں نہیں چھپتی۔اگر چھپتی بھی ہیں تو ان کی بازگشت چند دنوں تک سنائی دیتی ہے۔اب یہ حال ہے کہ نہ وہ بیٹھکیں رہیں ، نہ قہوہ خانے آباد ہیں۔مشاعروں کی تعداد کم پڑ گئی ہے۔اگر ہوں بھی، تو ان میں لوگوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔لوگ شاعری بعد میں شروع کرتے ہیں ، شعری مجموعہ پہلے شائع کرا لیتے ہیں۔

کہتے ہیں ” وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نوبت آئی کہ ادب ہماری ترجیحات سے نکل گیا، شاعری کے افق پر اکثریت ایسے شاعروں کی ہے، جن کا شاعری سے ہی کوئی تعلق نہیں۔شاعری کے نام پر مزاحیہ شاعری کو فروغ دیا گیا تو مشاعرے زوال کا شکار ہوگئے۔معاشرے میں کتاب کلچر کے بجائے برگر کلچر نے فروغ حاصل کیا اور لوگوں نے فکر کی بجائے شکم پر توجہ دینا شروع کر دی۔ادبی اداروں کی صورتحال بھی کم و بیش ایسی ہی ہے حکمرانوں کے پاس ہر شعبہ کے لیے فنڈز موجود ہیں لیکن ادبی اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے "۔

یہ شاعری میں کسی نظریہ کے قائل نہیں۔کہتے ہیں جو احساس خود میں جذب کر لے وہ ان کے ہاں شعر میں ڈھل جاتا ہے۔جو کچھ دیکھتے ہیں ،جو حالات رہے اور جو کچھ ان پر گزرا ،رقم ہوتا رہا۔
اردو غزل کا مستقبل ان کے مطابق روشن ہے ۔۔ان کا کہنا ہے کوئی کچھ بھی کر لے ، کتنی ہی مخالفت کر لے ،یہ صنف باقی رہے گی کیوں کہ اس کی بنیاد بے حد مضبوط ہے۔ان کا یقین ہے کہ غزل عصری تقاضوں کا بدلتے رجحانات کا بوجھ اٹھا سکتی ہے ۔بقول ان کے "غزل کا کمال یہ ہے کہ یہ اپنا پورا عہد سمیٹ لیتی ہے۔ردیف قافیہ بحر ان شرائط کی وجہ سے لفظوں کے موتی چنے جاتے ہیں اور بہترین صورت کا اظہار ہوتا ہے”۔

اس خیال سے متفق ہیں کہ ادب گھاٹے کا سودا ہے ۔۔تخلیق کار شعر کہتا ہے مجموعہ تیار کرتا ہے خود ہی چھپواتا ہے اور خود ہی تقسیم کرتا ہے۔اس تمام تر عمل سے جو تسکین اور سکون اسے ملتا ہے بس وہی شاعر کا منافع ہے۔

انھوں نے کچھ عرصہ ریڈیو پر صداکاری بھی کی ۔۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ صداکاری ایک خداداد صلاحیت ہے جو جیتے جاگتے پیکر تراشتی ہے، مثلا میری آواز کو سن کر اکثر لوگ مجھے ایک بھاری بھرکم شخصیت کا حامل سمجھتے تھے مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔صداکاری کو ریاضت سے بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ کسی میں پیدا نہیں کی جاسکتی ۔۔صداکاری میں میرے استاد احسن سید اور جمشید ایوب تھے، میں نے ان دونوں شخصیات سے اس شعبہ میں بہت کچھ سیکھا ، آواز کا زیر و بم اور جملے کی ادائیگی ان کی دین ہے ۔۔صداکاری میں لطف ہی اتنا ہے کہ بندہ اس میدان سے باہر نہیں نکل سکتا۔

اظہار احمد گلزار کا شمار پاکستان کے اُردو اور پنجابی کے نمایاں شعراء اور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، افسانہ نگار، براڈ کاسٹر، کالم نگار اور سیرت نگار ہونے کے علاوہ نقاد اور محقق بھی ہیں۔ اظہار احمد گلزار نے ایک ادبی ماحول میں آنکھ کھولی۔ انھوں نے شاعری اور نثر نگاری میں یکساں سطح اور یکساں معیار کی تخلیقات پیش کی ہیں۔ انھوں نے بڑی ریاضت اور مسلسل کاوش کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اُن کا سماجی شعور بہت گہرا ہے۔ وہ انسانوں کے وجود کو پرکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ اظہار احمد گلزار کے خانوادے میں شعر و ادب سے دلچسپی اور اس کی سرپرستی کی روایات بڑی راسخ ہیں۔ ان کی رگوں میں مایہ ناز قلم کاروں اور ادیبوں کا خون دھوڑ رہا ہے۔ ان کے والد جناب رانا محمد گلزار خاں کپور تھلوی ایک مایہ ناز افسانہ نگار اور کالم نگار تھے۔ تایا جان جناب نور محمد نور کپور تھلوی کا شمار بھی اُردو اور پنجابی کے قادر الکلام شعراء میں ہوتا تھا اور وہ فیض احمد فیض کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔

اظہار احمد گلزار ۱۵ جولائی ۱۹۶۶ء کو ضلع فیصل آباد (پاکستان) کے ایک دُور افتادہ گاؤں چک نمبر ۸۷ گ ب (بابے دی بیر) میں پیدا ہوئے۔ اظہار احمد گلزار کا شاعری، افسانہ نگاری، کالم نگاری اور سیرت نگاری کے علاوہ تنقید اور تحقیق میں بڑا مثالی کام ہے۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ایک متحرک اور محنتی قلمکار ہیں۔ وقت سے ہر لمحہ کچھ نہ کچھ کشید کرنے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے مضامین، کالم ، افسانے مختلف اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ وہ ایک افسانہ نگار، شاعر، نقیب محفل، براڈ کاسٹر، نقاد اور محقق کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ کالم نگاری کے حوالے سے ’’اظہار بھی مشکل ہے‘‘ کے نام سے آپ کے کالم روزنامہ ’’امن ‘‘فیصل آباد اور روزنامہ ’’ملت‘‘ فیصل آباد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اخبار ’’جمہوریت پسند‘‘ میں ایک عرصہ تک ادبی صفحہ ’’گلزارِ ادب‘‘ ترتیب دیتے رہے ہیں۔ آپ کے پنجابی افسانوں کا مجموعہ ’’سوچاں بھرن کلاوے‘‘ نورمحمد نور کپور تھلوی۔شخصیت اور فن ’’کلیات نور‘‘ ، ’’فخر کائنات‘‘ (سیرت النبی ﷺ ) ، ’’سارا عالم ہے منور آپﷺ کے انوار سے‘‘ (غیر مسلم شعراء کا نعتیہ کلام ، تحقیق)، ’’دل جس سے زندہ ہے (انتخاب نعت) ‘‘، زمانے میں چمکا ہے نام محمدﷺ‘‘ (شرح اسمائے النبیﷺ ) اور تقاریر کا مجموعہ ’’گلزار تقاریر‘‘ شامل ہیں۔

آپ کو ملنے والے ایوارڈز ایوارڈز میں قائداعظم گولڈ میڈل ، بیسٹ پرفارمنس گولڈ میڈل، بری نظامی ایوارڈ، پنجابی سیوک ایوارڈ، قائداعظم ٹیلنٹ ایوارڈ، میاں محمد بخش ایوارڈ، پنجاب ٹی وی ایوارڈ ، پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ فیصل آباد، نور کپور تھلوی ادبی ایوارڈ، سید وارث شاہؒ ادبی ایوارڈ اور انجمن فقیرانِ مصطفی ﷺ سیرت ایوارڈ شامل ہیں۔ آپ پاکستان رائٹرز گِلڈ ، حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے رُکن اور "نورکپور تھلوی ادبی فورم” کے چیئرمین ہونے کے علاوہ دیگر کئی علمی، ادبی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔

’’لکھنا، پڑھنا اظہار احمد گلزار کا اوڑھنا بچھونا ہی نہیں بلکہ ان کی سانسوں کے زیر و بم میں سمایا ہوا ہے۔ وہ جب بھی ملتے ہیں ایک زندہ اور زندہ دل شخصیت کے طور پر ملتے ہیں ان سے ہر ملاقات میں ایک پُرجوش ولولہ انگیز ، جرأت آمیز، شعلہ جوالہ اور ایک متحرک شاعر اور نثر نگار سے ملاقات ہوتی ہے۔ انہوں نے لکھنا، لکھانا، پڑھنا، پڑھانا محض مشغلہ دل کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ سماجی اور معاشرتی مسائل کی اُلجھتی ہوئی ڈروں کو سلجھانے کی طرف توجہ دی ہے۔ ‘‘

اس مادی اور موقع پرست دُنیا میں کوئی آدرش رکھنا اور اس پر حوصلہ مندی کے ساتھ قائم رہنا ایک مشکل کام ہے۔ اظہار احمد گلزار اس سے بحُسن و خوبی عہدہ برآ ہو رہے ہیں۔ان کی حق گوئی ،خلوص ،درد مندی ،استقامت اور انسانی ہمدردی کابلند ترین معیارجہاں ان کی شخصیت کی دل کشی کی دلیل ہے وہاں ان اوصاف کی بدولت ان کی تخلیقات کو بھی ارفع معیار نصیب ہوا ہے۔

قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں معاشرتی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ مفاد پرست استحصالی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے باعث رتیں بے ثمر ہو کر رہ گئی ہیں۔زندگی کی بے اعتدالیوں ،کجیوں ،تضادات اور شقاوت آمیز ناانصافیوں سے شپرانہ چشم پوشی کو وتیرہ بنا لیا گیا ہے ۔اظہار احمد گلزار کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ یہ لرزہ خیز اعصاب شکن صورت حال اس جانب متوجہ کرتی ہے کہ مجموعی اعتبار سے معاشرتی زندگی پر بے حسی کا عفریت منڈلا رہا ہے ۔دنیا بھر کے مہذب ممالک میں ایسی کیفیت کو ایک بہت برا شگون سمجھا جاتا ہے۔اس کے مسموم اثرات سے فکری اور شعوری روح کو ناقابل اندمال صدمات سے دو چارہونا پڑتا ہے ۔۔اظہار احمد گلزار کا کہنا ہے کہ فکر وخیال اور شعور کو ان حیات آفریں اقدار سے منسلک کیا جائے جو زندگی کی تاب و تواں سے مزین ہوں اورجن کے معجز نما اثر سے معاشرتی زندگی میں صحت و سلامتی، نفاست و پاکیزگی اورامن و آشتی کی فضا پیدا ہو۔

انسانی زندگی میں خواب کا خیال سے معاملہ بھی عجب گل کھلاتا ہے۔ان کے کچھ خواب تو زندگی کے حقائق کی شیرازہ بندی کی ایک صورت سامنے لاتے ہیں اور کچھ خواب ایسے بھی ہیں جن سے عملی زندگی میں ہر شخص کا واسطہ پڑتا ہے۔وہ خوابوں کے وسیلے سے لاشعورکی حرکت و حرارت کو ایک منفرد جہت عطا کر کے فکر و نظر کو مہمیز کرنے کی سعی میں اپنی خداداد صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔در اصل وہ خوابوں کے رسیا نہیں بلکہ وہ لوگوں پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر یہ دیکھیں کہ اور بھی دکھ ہیں، دنیا میں خوابوں کے سوا۔خوابوں کے رسیا لوگوں کو یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ زندگی جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں کے مانند ہے۔پیہم محنت اور جگر کاوی کے بغیر کسی جوہر کے کھلنے کی توقع رکھنا سرابوں میں بھٹکنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کار جہاں اس قدر دراز ہے کہ انسان اس میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔یہ کاروان ہستی اس قدر تیز گام ہے کہ اس کے ساتھ سر گرم سفر رہنا جان جوکھوں کا مرحلہ ہے ۔اس راہ میں سکون اور قیام بے محل ہے۔اظہار احمد گلزار نے اپنی شاعری اور افسانوں میں یہی باور کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرابوں کی دنیا سے نکل کر حرکت و عمل کو زندگی کا جزو خاص بنانا چاہیے۔اظہار احمد گلزار کا کہنا ہے کہ زندگی جبر مسلسل کا نام ہے۔زندگی میں پڑاؤ نام کی کوئی چیز نہیں۔ان کا یقین مصمم ہے کہ حضرت علامہ اقبال نے سچ کہا تھا۔

چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کچل گئے ہیں
جُنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
چلنے والے نِکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں

اظہار احمد گلزار نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اظہار و بیان کے لیے اپنی نعتیہ شاعری کو محض عقیدت و محبت کا آئینہ دار نہیں بنایا ہے بل کہ آپ کے کلام میں شعری و فنی محاسن کی تہہ داریت ہے جو کہ بڑی پُر کشش اور دل آویز ہے۔ آپ کے شعروں میں داخلیت کا حسن اور خارجیت کا پھیلاؤ دونوں موجود ہیں۔لفظیات میں تنوع اور بلا کی گہرائی و گیرائی ہے، آپ کا سلیقۂ بیان عمدہ اور دل نشین ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ عقیدت و محبت کے ساتھ شعریت اور فنی محاسن کی سطح پر بھی آپ کے کلام میں ایک سچی اور باکمال شاعری کی جو خوب صورت پرچھائیاں ابھرتی ہیں وہ متاثر کن اور بصیرت نواز ہیں۔ اظہار احمد گلزار کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎

ہاشمی عربی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم
شافع محشر خلق مجسم صلی اللہ علیہ وسلم
باعث رونق فصل بہاراں صلی اللہ علیہ وسلم
آپ کے لب کا ایک تبسم صلی اللہ علیہ وسلم
دشمن کا بھی دل پگھلا دے صلی اللہ علیہ وسلم
کیسا ہے انداز تکلم صلی اللہ علیہ وسلم
شان نرالی سب نبیوں سے صلی اللہ علیہ وسلم
ہادی اکمل شاہ معظم صلی اللہ علیہ وسلم
میری خالی جھولی بھر دو صلی اللہ علیہ وسلم
آپ سے بڑھ کر کون ہے منعم صلی اللہ علیہ وسلم

تیری الفت کے نغمے گا رہا ہوں
صلے میں دین و دنیا پا رہا ہوں
میرے آقا بھلا اور کیا مانگوں
تمھارا ہی دیا تو کھا رہا ہوں
کہا اظہار نے اٹھ کر یہ محفل سے
نہ روکو! میں مدینے جا رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے ارفع ہے تیری شان رسول عربی
تم پہ قربان میری جان رسول عربی
تیرا کونین میں ہے سب سے گھرانہ اونچا
جس کا جبریل ہے دربان رسول عربی
تیری الفت کا نہیں جس میں ابلتا چشمہ
وہ ہے دل خالی از ایمان رسول عربی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ساحر نہیں تھا نہ تھا کوئی کاہن
وہ اپنے زمانے کا تھا مرد آہن
ترقی کا نیا ایک راہ بنایا
عرب کے بدوؤں کو شاہ بنایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دنیا کے حسن کا شاہکار آپ ہیں
لاریب ! فخر سیرت و کردار آپ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاہتے ہو گر سنوارنا اپنے نصیب کو
رکھ عزیز دل سے خدا کے حبیب کو
ہر مرض کی دعا ہے مدینے کے مطب میں
گر نبض تم دکھاؤ گے مدنی طبیب
ملتا ہے صفت کرنے کا ہر ایک کو ثواب
شاعر کو، نعت خوان کو، نثری ادیب کو
مانگو خدا سے دے کے محمد کا واسطہ
پاؤ گے مہربان تم رب مجیب کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اظہار احمد گلزار کی ایک پہچان بطور افسانہ نگاری بھی ہے ۔۔ان کے افسانے ہمارے روزمرہ کی زندگی سے کشید کیے ہوئے ہیں۔ جس میں ہمارے ارد گرد کا ماحول جیتا جاگتا ، چلتا پھرتا ، سانس لیتا اور روتا مسکراتا واضح دکھائی دیتا ہے۔اظہار احمد گلزار کے افسانوں میں سماجی وجدان کی فضا پائی جاتی ہے۔وہ مشکل پسندی سے زیادہ سہل اور سادہ اسلوب کو پسند کرتے ہیں۔ان کے افسانوں میں انسانی اقدار میں تنزل سے بیزاری اور قتل وغارت گری سے تنفر،سیاسی چال بازیوں کے خلاف احتجاج اور نیچر سے محبت کی کہانیاں ملتی ہیں۔اظہار احمد گلزار کے افسانوں میں تہذیب کی انحطاط پذیری ،اخلاقی قدروں کی گراوٹ ، ریاکاری جیسے اہم موضوعات پائے جاتے ہیں اور ان موضوعات کے اظہار کے لیے ایک احتجاجی و انحرافی اسلوب کو متعارف کروانے کی کوشش نظر آتی ہے۔انھوں نے تمثیلی ،استعاراتی اور بیانیہ افسانوں کے ذریعہ اپنے اسلوب کو جاودانی عطا کی ہے۔

اظہار احمد گلزار نے افسانے کے متعلق قارئین کے رجحان کے بارے میں کہا کہ افسانہ کم نہیں چھپ رہا بلکہ اسے پڑھا کم جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو آگے بڑھانا ہو گا کہ ادیب چھپے اور پڑھا جائے ۔۔ادب عشق کا سودا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کا افسانہ کہاں کھڑا ہے اور دوسرا آج ہمارے انسانی رشتے بھی تبدیل ہو رہے ہیں، ہمارے انسانی رشتوں کے رویے بھی بدلے ہیں۔کیا ہمارا افسانہ ہمارے موجودہ معاشرے اور حالات کو فوکس کر رہا ہے۔اس دور میں جدید افسانے کی درست سمت تاحال متعین نہیں ہو سکی۔

اظہار احمد گلزار کے افسانوں کے بارے میں سید تنویر بخاری کا کہنا ہے ” کہ اظہار کے افسانے دل بہلانے کے بجائے دل کو سوچوں کے گرداب میں پھنسا دینے والے ہیں۔انھوں نے اپنے افسانوں میں ہمارے سماج کے اردگرد چلتے پھرتے ،جیتے جاگتے،لڑتے خوش گپیاں لگاتے ،گوشت پوست کے انسان دکھائے ہیں ۔۔فرشتوں کو اظہار نے اپنے افسانوں کے کردار نہیں بنایا۔””
الیاس گھمن کے نزدیک اظہار احمد گلزار نے افسانہ نگاری میں اپنی ایک منفرد جگہ بنا لی ہے ۔۔ان کے افسانے جدید افسانے کے ماتھے کا جھومر ہیں۔””

بلا شبہ آنے والے دور میں ہمیں اظہار احمد گلزار سے تمام اصناف سخن میں بہت ساری توقعات ہیں۔ادب کی ہر صنف میں وہ ضرور اپنے ہونے کا ثبوت دیں گے۔

Advertisements