Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

پورا نام شبیر حسن خاں جبکہ جوش تخلص کرتے تھے۔بشیر احمد خاں کے بیٹے اور بشیر محمد خاں گویا کے پوتے تھے۔ 1898ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ابتداء میں عزیز لکھنوی سے اصلاح لی۔شاعری کے ساتھ نثر میں بھی قدرت حاصل تھی۔دار الترجمہ جامعہ عثمانیہ میں ملازم ہوئے۔فلمی گیتوں کے سلسلے میں پونا اور ممبئی میں مقیم رہے۔آزادی ہند کے حکومت ہند کے رسالہ "آج کل” کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ شاعری کا آغاز غزل سے کیا لیکن شہرت نظم گو شاعر کی حیثیت سے ملی۔

Advertisement

جوش فطری،رومانوی اورسیاسی نظمیں لکھنے پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔وہ قوم پرستی،قومی یکجہتی،حب وطن اور آزادی رائے کے حامی تھے۔انھیں الفاظ کے استعمال پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ ‘روح ادب’،’سرود و خروش’ ،’نقش و نگار’،’رامش و رنگ’،’شعلہ و شبنم’ ،’حرف و حکایت’، ‘سموم و صبا’،”جنون حکمت”،”فکر و نشاط”،” سنبل و سلاسل”,”سیف وسبو”،”شاعر کی راتیں”،”آیات و نغمات” وغیرہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ جوش کو شاعر فطرت، شاعر شباب اور شاعر انقلاب کہا گیا ہے۔ان کی نظمیں جوش و جذبے سے پر ہیں۔

نظم بدلی کا چاند کی تشریح:

خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا
مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا

یہ شعر جوش ملیح آبادی کی نظم سے لیا گیا ہے۔اس نظم میں شاعر نے بادل میں چھپے چاند کے ذریعے انسانی محنت و کوشش کا فلسفہ پیش کیا ہے۔اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ سورج کے ڈوبتے ہی اندھیرا چھا گیا یہ اندھیرا ظلمت کا نشاں بن کر لہرا رہا تھا۔ایسے میں چاندی کے ورق کی طرح بادلوں میں سے چاند نے اپنی جھلک دکھلا ئی۔

Advertisement
وہ سانولے پن پر میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلی
تھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا

چاند نے جب بادلوں کی اوٹ سے اپنی جھلک دکھائی تو اس سے میدان بھی خوبصورت ہو کر روشن ہو گئے۔چاند بادل کی اوڑ سے ذرا سا نکلا اور اس نے اپنی شکل دکھلائی۔

لو ڈوب گیا پھر وہ بادل میں،بادل میں وہ خط سے دوڑ گئے
لو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ظلمت کا قدم تھرانے لگا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک بار اپنی جھلک دکھانے کے بعد پھر سے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔چاند کے چھپ جانے سے دوبارہ سے ظلمت کی گہری تاریکی چھا گئی۔

بادل میں چھپا تو کھول دیے بادل میں دریچے ہیرے کے
گردوں پہ جو آیا تو گردوں دریا کی طرح لہرانے لگا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ چاند جب دنیا کی نظر سے چھپ کر بادل کی اوٹ میں گیا تو اس نے بادل کو یوں روشن کردیا کہ جیسے بادلوں کے دریچوں میں ہیرے جگمگا اٹھے ہوں۔جب اس کی روشنی گردوں پر پڑی تو وہ بھی اس کی روشنی کے نور میں نہا اٹھا۔

Advertisement
سمٹی جو گھٹا تاریکی میں چاندی کے سفینے لے کے چلا
سنکی جو ہوا تو بادل کے گرداب میں غوطے کھانے لگا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آسمان پر جو گہری کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی جب وہ چھٹی تو اس تاریکی میں بھی روشنی چھا گئ اور چاند روشن راستے بناتے ہوئے چلنے لگا۔دوبارہ سے جب یہ ہوا ذرا سا چلی تو پھر سے یہ روشن چاند بادلوں کے اندر غوطے کھانے لگا یعنی اس کی آڑ میں جانے اور نکلنے لگا۔

غرفوں سے جو جھانکا گردوں کے امواج کی نبضیں تیز ہوئیں
حلقوں میں جو دوڑا بادل کے کہسار کا سر چکرانے لگا

شاعر کہتا ہے کہ یوں ہی یہ چاند جھروکوں سے جھانکا تو بادلوں کا جو گردوں چلا آرہا تھا اس کی ںبض تیز ہو نے لگی۔ جیسے ہی یہ چاند مختلف حلقوں میں دائروں کی صورت میں دوڑ دھوپ کرنے لگا تو بادلوں کے بڑے بڑے پہاڑوں کا سر چکرا کر رہ گیا۔

Advertisement
پردہ جو اٹھایا بادل کا دریا پہ تبسم دوڑ گیا
چلمن جو گرائی بدلی کی میدان کا دل گھبرانے لگا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ روشن چاند سے جب بادل کا پردہ ہٹایا گیا تو ایسے میں دریا بھی مسکرانے لگا۔مگر جوں ہی اس چاند پر پھر سے بادل کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے نے اپنا سایہ کیا تو اس کے سایہ سے میدان کا دل بھی گھبرانے لگا۔

ابھرا تو تجلی دوڑ گئی ڈوبا تو فلک بے نور ہوا
الجھا تو سیاہی دوڑا دی سلجھا تو ضیا برسانے لگے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب یہ روشن چاند ابھرا تو ہر جانب اس کی وجہ سے ایک روشنی سی پھیل گئی مگر جوں ہی یہ ڈوبا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے سارا آسمان بے ںور ہوگیا ہو۔جب یہ چاند بادلوں کی ڈور میں الجھا تو اس کی وجہ سے ہر جانب سیاہی دوڑ گئی مگر جب اس نے خود کو بادلوں کی الجھن سے سلجھا کے نکال لیا اس کی وجہ سے ہر جانب روشنی اور نور برسنے لگا۔

Advertisement
کیا کاوش نور و ظلمت ہے کیا قید ہے کیا آزادی ہے
انساں کی تڑپتی فطرت کا مفہوم سمجھ میں آنے لگا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ روشنی، اندھیرا ،قید آزادی وغیرہ سب انسان کی کوشش اور جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ تڑپ انسان کی فطرت کا خاصا ہے جو کبھی اسے قید میں رہ کر ستاتی ہے تو کبھی آزادی کے لیے ہمکاتی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01: اس نظم میں "بدلی کا چاند” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اس نظم میں ‘بدلی کا چاند ‘ سے شاعر کی مراد فطرت انسان ہے کہ جیسے ڈوبتے اور ابھرتے چاند سے مختلف احساسات جنم لیتے ہیں ویسے ہی انسان کی فطرت بھی نیکی ،بدی،خوشی،غمی،برائی،اچھائی کامیابی،ناکامی کا امتزاج ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02:اس نظم میں شاعر نے زندگی کا کیا فلسفہ بیان کیا ہے؟

اس نظم میں شاعر نے زندگی کے خیر وشر اور کوشش و جدوجہد کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔

سوال نمبر03:اس نظم سے آپ اپنے تین پسندیدہ شعر لکھیے۔

ابھرا تو تجلی دوڑ گئی ڈوبا تو فلک بے نور ہوا
الجھا تو سیاہی دوڑا دی سلجھا تو ضیا برسانے لگے
لو ڈوب گیا پھر وہ بادل میں،بادل میں وہ خط سے دوڑ گئے
لو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ظلمت کا قدم تھرانے لگا
خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا
مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا

Advertisement
Advertisement

Advertisement