Advertisement

تعارف

اردو ادب کے ممتاز ناول و افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی بلونت سنگھ جون کے مہینے میں ۱۹۲۱ میں گجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ اور جالندھر سے حاصل کی بعد ازیں یہیں سے بی اے کی ڈگڑی بھی حاصل لی۔

Advertisement

ادبی سفر

بلونت سنگھ ۱۹۴۸ سے جنوری ۱۹۵۰ تک پبلی کیشن ڈویژن کے رسالے آج کل بساط عالم اور نونہال کے ادارتی عملے میں رہے۔ مگر والد کی موت کے بعد انھوں نے ملازمت سے استعفٰی دیا اور الہ آباد چلے گئے اور اپنے والد کے قائم کردہ ہوٹل کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ بلونت سنگھ کے بارے میں عام طور پر چند باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک تو ان کا کینوس بہت مختصر ہے۔ ان کے زیادہ تر افسانے اور ناول صرف پنجاب کی سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی ہی عکاسی کی ہے خصوصاً اس غیر ترقی یافتہ اور غیر تقسیم شدہ پنجاب کی جس میں محنت کش عوام اور ان کا خون چوسنے والے ساہوکار بستے تھے۔ جہاں تعلیم کا فقدان تھا۔ جہاں جرائم اور ڈاکہ زنی کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے تھے۔ جہاں طاقت وری کی حکومت ہوتی اور جن کی زندگی کا نصب العین لوٹنا کھسوٹنا، عیش کرنا اور عورتوں کو ہوس کا نشانہ بنانا ہوتا۔

Advertisement

جہاں عورت کی معنویت مرد کے بستر کی زینت بننا اور بچے پیدا کرنے تک محدود ہوتی۔ پتہ نہیں یہ باتیں ان کی تنقید میں کہی جاتی ہیں یا تعریف میں لیکن کوئی بھی ناول و افسانہ نگار اس وسیع و عریض دنیا کو نہ تو اپنا کینوس بنا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے قلم کا میدان۔ افسانہ چونکہ بیانیہ صنف سخن ہے اور اس میں عام طور پر کسی واقعہ سے ہی جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے لامحالہ ان کا کینوس بھی اسی جائے وقوع میں محدود ہوتا ہے۔ حالانکہ انھوں نے اپنی زندگی کا  بہت کم عرصہ پنجاب میں گزارا، وہ زیادہ تر پنجاب سے باہر رہے۔ لیکن جس طرح کی واقعہ نگاری ، منظر کشی ، جزئیات نگاری اور پنجاب کی پگڈنڈیوں اور کھیتوں کا تذکرہ بلونت سنگھ نے کیا ہے شاید ان لوگوں کے لیے بھی ممکن نہ ہو جن کی ساری زندگی پنجاب میں گزری ہے۔ ان کی واقعہ نگاری اور جزئیات نگاری پر بعض اوقات حیرت ہوتی ہے۔

Advertisement

افسانہ کالی تتری

ان کا مشہور افسانہ "کالی تتری” جس کے انداز اور چند لفظوں اور جملوں کے ذریعے حد سے زیادہ ڈرامائی انداز میں کہانی کو ختم کرنے کا فن بھی انہیں اپنے عہد کے افسانہ نگاروں سے ممتاز بناتا ہے۔ کسی بھی افسانے کو پڑھتے وقت قاری کو کبھی یہ اندازہ نہ ہو سکے گا کہ کہانی کا انجام کیا ہوگا۔ وہ کہانی میں موجود تجسس سے کہانی کو اول تا آخر پڑھنے پر مجبور ہو جائے گا۔

بلونت سنگھ کو ان کی زندگی میں ایک رومان نگار سمجھا گیا۔ حالاں کہ یہ بات جتنی صحیح ہے اتنی غلط بھی ہے۔ بلونت سنگھ کی زندگی کے خاکے سے جو الگ شائع کیا جا رہا ہے ، اندازہ ہو گا کہ بلونت سنگھ انتہائی خوددار اور اپنی کھال میں مست رہنے والے شخص تھے۔

Advertisement

اعزازات

بلونت سنگھ کو اترپردیش سرکار ادبی ایوارڈ، پٹیالہ گورنمٹ ادبی ایوارڈ،
پنجاب سرکار ثرومنی ساہیتہ کا ایوارڈ  حاصل ہوا۔

تصانیف

  • ان کی مشہور تصانیف میں
  • رات چور اور چاند،
  • ایک معمولی لڑکی،
  • پہلا پتھر،
  • چک پیراں کا جسا،
  • راوی بیاس،
  • سنہرا دیس،
  • ہندوستان ہمارا،
  • سونا آسمان،
  • آگ کی کلیاں ،
  • باسی پھول قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

مشہور اردو افسانہ نگار بلونت سنگھ 27 مئی 1986ء کو الہ آباد، بھارت میں وفات پا گئے۔بلونت سنگھ نے ۹۹ سال عمر پائی اور بیشتر عمر کے حصے میں ادب کی خدمت کرتے رہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement