Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو” برائے نویں جماعت

تعارف صنف(نظم):

اردو اصناف شاعری میں نظم ایک اہم صنف ہے۔ اردو زبان کے ابتدائی دور میں حضرت امیر خسرو نے اس صنف میں وقیع اضافہ کیا۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ نے بھی اس صنف سخن کے احیاء میں اپنا حصہ ادا کیا۔ نظیر اکبرآباد میں صنف کے اہم شاعر ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے موسم ، میوے ، تہوار اور موسموں وغیرہ کا اپنی نظموں میں احاطہ کیا ہے۔

Advertisement

نظم کے معنی موتی پرونے کے ہیں۔ جس طرح موتیوں کو پُرو کر ہار بنایا جاتا ہے اسی طرح اشعار کو جمع کرکے نظم بنائی جاتی ہے۔ نظم کے لفظی معنی انتظام، ترتیب یا آرائش کے ہیں۔ وسیع معنوں میں نظم سے مراد تمام شاعری لی جاتی ہے جبکہ اصلاحی معنوں میں غزل کے علاوہ تمام شاعری کو نظم کہتے ہیں۔ قصیدہ ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ بھی نظم میں شامل ہیں۔

Advertisement

نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا ہے جس کے اردگرد ساری نظم کا تانا بانا بنا جاتا ہے۔ خیال کے تدریجی ارتقا کو بھی نظم کی خصوصیت کہا جاتا ہے۔طویل نظموں میں یہ ارتقا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ نظم میں ہیت اور موضوعات کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی موضوع پر نظمیں لکھی جاسکتی ہیں۔ نظم کی بنیادی طور پر چار قسمیں ہیں (۱) پابند نظم (۲) آزاد نظم (۳) معری نظم (۴) نثری نظم۔

Advertisement

پابند نظم:

پابند نظم درحقیقت ہیئت کی پابند ہے۔جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب کی مقررہ اصولوں میں پابندی کی جاتی ہے۔ پابند نظم اگرچار مصرعوں میں لکھی جائے تو اس کو مربع نظم کہتے ہیں اور اگر پانچ مصرعوں میں لکھی جائے تو اس کو مخمس اور اگر چھ مصرعوں میں ایک بند لکھا جائے تو اس کو مسدس کہتے ہیں۔ ۴ ، ۵ ، ۶ مصرعوں کی پابندی کی وجہ سے اس کو پابند نظم کہتے ہیں۔

معرا نظم:

ایسی نظم جس کے تمام مصرعے برابر ہوں مگر ان میں قافیے کی پابندی نہ ہو اس کو نظم معرا کہتے ہیں۔کچھ لوگوں نے اسے نظم عاری بھی کہا ہے۔

Advertisement

آزاد نظم:

ایسی نظم جس میں نہ تو قافیے کی پابندی ہو اور نہ تمام مصرعوں کے ارکان برابر ہوں۔یعنی جس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہوں آزاد نظم کہلاتی ہے۔

نثری نظم:

نثری نظم چھوٹی بڑی نثری سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔اس میں ردیف،قافیے اور وزن کی پابندی نہیں ہوتی۔آج کل نثری نظم کا رواج دنیا کی تمام زبانوں میں پایا جاتا ہے۔

Advertisement

تعارف مصنف:

آپ کا پورا نام ولی محمد تھا جبکہ نظیر تخلص کرتے تھے۔ان کا۔دور1740ء سے1830ء تک بنتا ہے۔ اوائل عمر میں ہی آگرہ چلے گئے۔متھرا میں معلمی کے فرائض سر انجام دیے اور اپنی ساری زندگی آگرہ میں گزاری۔آپ نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن نظم نگاری آپ کی پہچان بنی۔

آپ کا مشاہدہ وسیع تھا اور زندگی کے تقریباً ہرپہلو کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ہندوستان کے رسم و رواج،میلوں ٹھیلوں اور تفریحات پر نظیر نے جتنی نظمیں لکھیں شاید ہی کسی اور شاعر نے کہی ہوں گی۔ ان کو زبان و بیان پر قدرت حاصل تھی۔زبان انتہائی صاف سہل اور سادہ ہونے کی وجہ سے ہی ان کو عوامی شاعر کا درجہ حاصل ہے۔

Advertisement

نظم بنجارہ نامہ کی تشریح:

ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا
کیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گوئی میں پلا سر بھارا
کیا گیہوں چاءگول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس نظم میں شاعرانسان کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ تم اپنے اندر کے لالچ و حرص کو چھوڑ دو اور مزید کی تلا ش میں شہر شہر مت پھرو۔موت دن رات اپنا نقارا بجا کر تمھارے پیچھے ہے۔ اس کے سامنے کوئی انسان، بیل،بھینس کی تمیز نہیں ہے اور نہ موت کے سامنے ان چیزوں کی کوئی حیثیت باقی رہ جانی ہے۔نہ ہی کسی قسم کا اناج گندم،چاول مٹر وغیرہ تب کسی کام آئے گا۔یہ سارے ٹھاٹ بھاٹ یہیں اس دنیا میں یوں کے یوں ہی پڑے رہ جائیں گے اور تمھیں یہاں سے لاد کے لے جایا جائے گا۔

گر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے
اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے
کیا داکھ منقی ٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اگر تو توں وہ انسان ہے جس کے پاس لاکھوں کا سامان ہے تو تمھاری کھیپ بھی خاصی بھاری ہوگی اس کے بعد تم سے بھی بڑا ایک بیوپاری تیار ہو گا۔اس وقت شکر،نصری سانبھر کسی چیز کی کوئی اوقات نہ ہوگی نہ ہی میٹھے کھاری کی کوئی اہمیت ہوگی۔ نہ ہی ڈاکھ ،منقی،سونٹھ سپاری میں کوئی فرق رہے گا۔ یہ سب ٹھاٹ یہیں پڑے کا پڑا رہ جائے گا جب اس بنجارے کو لاد کر لے جایا جائے گا۔

Advertisement
جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری رہ جاوے گی
اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی
یہ کھیپ جو تو نے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جب کبھی چلتے چلتے رستے میں ہی تیری موت آجائے گی تو یہ تمھاری زمین دولت سب یہی دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔اس وقت تیری مٹی کی قبر پر کوئی بدھیا گھاس چرنے بھی نہ آئے گی۔تمھارے بعد تمھاری چھوڑی سب دولت کو حصوں میں بانٹ لیا جائے گا۔اس کے بعد تمھارا بیٹا،بیٹی،بیوی یا کوئی رشتے دار بھی تمھارے پاس نہ بھٹکے گا۔یہ سب ٹھاٹ یہی پڑا رہ جائے گا اور تم آگے پہنچ جاؤ گے۔

نہ آوے گا تیرے یہ لعل و زمرد سیم و زر
جب پونجی باٹ میں بکھرے گی ہر آن بنے گی جان اوپر
نوبت نقارے بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر
کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھتر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس وقت قیمتی ہیرے زیوارات کچھ بھی تمھارے کام نہ آسکے گا۔تمھاری اصل جمع پونجی تمہارے اعمال ہوں گے ان کو جب ترازو میں تولا جائے گا تب تمھاری جان پر بنے گی۔ تب دنیاوی شان و شوکت،فوجیں یہاں کے تخت و تاج سب بے معنی ہوگا اور سب یہیں کا یہیں دھرا رہ جاوے گا بس تمھیں یہاں سے خالی ہاتھ لے جایا جائے گا۔

Advertisement
کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان گونوں بھاری بھاری کے
جب موت کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کے
کیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے انسان تم اپنے دل پر اتنے بھاری بوجھ لیے کیوں پھرتے ہو۔ جب موت آجاتی ہے تب بڑے سے بڑا بیوپاری بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ اس کے زیور،گوٹے کناری والے خوبصورت لباس،گھوڑے اور زین سے ملبوس اعلی نسل ہاتھی سب بے معنی ہوں گے اور سب کچھ یہیں چھوڑ چھاڑ کر جانا ہو گا۔

کیا سخت مکاں بنواتا ہے خم تیرے تن کا ہے پولا
تو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولا
کیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولا
گڑھ کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اس بند میں شاعر حضرت انسان کو کہتا ہے کہ دنیا میں تم بہتر سے بہتر اور پکا مکان بنوانے کے چکر میں رہتے ہو۔جب کہ تمھارا اپنا جسم بہت جلد ڈھل جانے والا ہے۔یہاں تم اونچے اونچے محل نما بنگلے بناتے ہو وہاں تمھاری قبر منھ کھولے تمھاری منتظر ہے۔جس کے آگے بڑی خندقیں،قلعے،شیشہ کی دیواریں گڑھ کوٹ وغیرہ سب غیر اہم اور بے معنی ہیں۔

Advertisement
جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا
کوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک تنکا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

نظم کے آخری بند میں شاعر کہتا ہے کہ جب موت اپنی چابک کو گھما کر بیل کی طرح ہمارے جسم کو ہانک کر لے جائے گی تو کوئی اس وقت تمہاری دھن دولت سمیٹنے میں لگ جائے گا اور کوئی تمھیں۔اس کے بعد ایک جنگل نما جگہ پر تمھیں قبر میں اتارا جائے گا جہاں تم بس قبر کی مٹی کو کھاؤ گے۔اس جگہ پر پھر تمھارے پاس اپنے تو دور ایک تنکا بھی آکر نہ جھانکے گا۔یہ سب دنیا میں یوں ہی ٹھاٹھ پڑا ہوا رہ جائے گا۔

سوالوں کے جواب لکھیں:

سوال نمبر01:اس نظم میں بنجارا کسے کہا گیا ہے اور کیوں؟

اس نظم میں بنجارا انسان کو کہا گیا ہے اور انسان اس دنیا میں ایک عارضی مسافر کی طرح قیام کیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اس کو بنجارا کہا گیا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02: نظم کے پہلے بند میں شاعر کس چیز کو چھوڑنے کا کہہ رہا ہے اور کیوں؟

نظم کے پہلے بند میں شاعر زیادہ سے زیادہ پانے کے لالچ کو چھوڑنے کا کہہ رہا ہے۔

سوال نمبر03: ‘سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا،جب لاد چلے گا بنجارا’ یہ مصرع بار بار کیوں دہرایا گیا ہے؟

کلام میں اثر اور دنیا کے حوالے سے کہی گئی بات میں معنویت پیدا کرنے کے لیے شاعر ہر بند کے آخر میں یہ بات دہراتا ہے کہ یہ سب دولت اور ٹھاٹ باٹ یہی دنیا میں دھرا رہ جائے گا اور بنجارے کو یہاں سے لاد کر اگلی منزل تک پہنچا دیا جائے گا۔

Advertisement

سوال نمبر04:نظم (بنجارہ نامہ) کا خلاصہ لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی اس عارضی دنیا میں انسان کی زندگی کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ دنیا جس کی لالچ اور آگے بڑھنے کی حرص انسان کے دل میں گھر کیے ہوئے ہے یہ سب یہی دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔انسان بس اپنا آپ لے کر یہاں اس دنیا سے جائے گا باقی سب ادھر رہ جائے گا۔اس کی موت کے بعد لوگ اس کی دولت سمیٹنے کی طرف آجائیں گے اور اسے ایک مٹی کی قبر میں اتار دیا جائے گا جہاں وہ محض مٹی ہی پھانکے گا۔وہ اس کے ساتھ اس کے اعمال ہی صرف اس کے کام آئیں گے باقی دنیاوی دولت،مال،جاہ و جلال سب کچھ دنیا میں رہے گا اور اس میں سے کچھ بھی اس کے کام نہیں آئے گا۔دنیا میں تم بہتر سے بہتر اور پکا مکان بنوانے کے چکر میں رہنے والا انسان وہ ہے کہ جس کا اپنا جسم بہت جلد ڈھل جانے والا ہے۔یہاں وہ اونچے اونچے محل نما بنگلے بناتے ہے وہاں اس کی قبر منھ کھولے اس کی منتظر ہے۔جس کے آگے بڑی خندقیں،قلعے،شیشہ کی دیواریں گڑھ کوٹ وغیرہ سب غیر اہم اور بے معنی ہیں۔یہ سب مال دولت ساز و سامان دنیا میں رہیں گے۔

Advertisement

Advertisement