تعارف

بینی نارائن لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام لکھشمی نرائن تھا۔ آپ نے لاہور میں ہی تعلیم  حاصل کی۔ بینی نارائن جہاں فورٹ ولیم کالج کے ایک اہم لکھنے والے تھے لیکن ان کی  اہمیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ بینی نارائن نے مذہب اسلام قبول کرلیا تھا اور مشہور مولوی سید احمد صاحب بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ادبی مورخوں نے اپنی تاریخوں میں ان کا ذکر تو کیا ہے لیکن جس طرح ایک اعلیٰ پائے کے مصنف کا جائزہ لینا چاہیے اس طرح ان کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ان کی ادبی تصانیف کو نہیں دیکھا ہے۔ اور ان تصانیف کو نہ دیکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان تصانیف کو اب تک شائع ہونا نصیب نہیں ہوا ہے۔

ان کے قلمی نسخے انگلستان میں محفوظ ہیں جن تک رسائی حاصل کرنا بہت مشکل امر ہے۔ بینی نرائن بنیادی طور پر نثر نگار تھے لیکن انہوں نے شاعری بھی کی ہے۔ قارئیں سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری نے اس زمانے میں خاطر خواہ مقام پیدا  نہیں کیا تھا۔ بینی نارائن جہاں مہاراجہ لکھشمی نرائن کے فرزند اور کھیم نرائن کے بھائی تھے۔ آپ عالم آدمی تھے۔ لاہور کے درمیان میں رہتے تھے۔

مشکلات


انہوں نے ایک کتاب تصنیف کی جس میں اچھے شعراء اکثر انتخاب اشعار شعراء اردو گو کا جن کے اس کو بہم آئے لکھے ہیں۔ اس کتاب کے دیباچے میں مصنف نے اس کتاب کا بیان کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں خوشی اور آرام سے رہتے تھے جب تک کہ ان کی قسمت نے ان سے رشک کھا کر ان کی خوش حالی کو مبدل کیا۔ پھر وہ مجبور ہو کر کلکتہ چلے گئے وہاں بھی ان کی قسمت بد نے ان کی پیروی کی۔ وہ وہاں بھی بےروزگاری اور تنگ دستی کا شکار رہے۔ پھر کچھ شعراء نے ان کے حال پر رحم کھا کر ان کو آرام دیا اور ان کی ملاقات روبک صاحب سے کروائی جنہوں نے انھیں اپنی خدمت میں لیا اور ان کی تنگ دستی کو بخشش و عزت سے دور کیا۔

ادبی تعارف

اس زمانے کے تذکرہ نگاروں نے اپنے تذکروں میں بینی نارائن کا ذکر نہیں کیا ہے۔ صرف کریم الدین ایک ایسے تذکرہ نگار ہیں جنہوں نے اپنے تذکرے طبقات شعرائے ھند میں بینی نارائن جہاں کا ذکر کیا ہے اور کسی قدر تفصیل سے ان کے حالات لکھے ہیں۔ اردو کی ادبی تاریخوں میں ان کا ذکر ملتا ہے لیکن کسی نے بھی ان کے حالات کی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

تصانیف

آپ نے کُل دو کتابیں تصنیف کی ہیں :
”چار گلشن“ ایک عشقیہ داستان ہے جس میں شاہ کیواں اور فرخندہ کی محبت کا ذکر ہے۔ یہ کسی داستان کا ترجمہ نہیں بلکہ اُن کی اپنی طبع ذاد ہے۔ ”دیوان جہاں“ اردو شعرا کا تذکرہ ہے۔ یہ تذکرہ بینی نرائن جہاں نے کپتان روبک کی فرمائش پر مرتب کیا۔

حرفِ آخر

ان کی تاریخ وفات کا کہیں بھی پتہ نہیں چلا۔ البتہ کرسان ای تاسی کے بیان کی بنا پر کہا جاسکتا ہے ان کی وفات ۱۲۴۵ء کے بعد ہوئی ہوگی۔

Advertisements