Advertisement
  • کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر19:نظم
  • شاعر کا نام: فیض احمد فیض
  • نظم کا نام: بول

تعارف مصنف:

فیض سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوۓ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم چرچ مشن اسکول، سیالکوٹ سے حاصل کی۔ انگریزی سے ایم ۔اے کرنے کے بعد امرتسر کے ایک کالج میں لیکچرر مقرر ہوۓ۔ بعد میں انھوں نے فوج میں ملازمت کی۔ پھر انگریزی صحافت میں سرگرم رہے۔ 

انھیں راولپنڈی سازش کیس میں شریک ہونے کی جرم میں کئی سال تک قید و بند کی سزا بھی بھگتنی پڑی۔ فیض کا انتقال لا ہور میں ہوا۔ فیض غزل اور نظم دونوں میں ممتاز ہیں۔ انھوں نے غزل کی کلاسیکی روایت سے استفادہ کیا اور اسے انقلابی فکر سے ہم آہنگ کر کے ایک بالکل نئی کیفیت پیدا کی۔

فیض اہم ترین ترقی پسند شاعر تھے۔ انھوں نے جلا وطنی کی زندگی بھی گزاری لیکن وہ حق وانصاف کے لیے برابر آواز اٹھاتے رہے۔ ان کی شاعری میں دردمندی ، دل آویزی اور تاثیر ہے۔مختلف زبانوں میں ان کے کلام۔کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ان کے مجموعے”نقش فریادی”،”دست صبا”،”زنداں نامہ”،”دست تہہ سنگ”،”سر وادی سینا” "شام شہر یاراں” اور "میرے دل میرے مسافر” شامل ہیں۔ان کا کلیات "نسخہ ہائے وفا” کے نام سے شائع ہوا۔

Advertisement

نظم بول کی تشریح:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

یہ شعر ‘فیض احمد فیض‘ کی نظم ‘بول’ سے لیا گیا ہے۔ شاعر اس شعر میں آزادی رائے اور آزادی خیال پر زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمھیں بولنے کا حق ہے کہ بولو کیونکہ یہ زبان ابھی تمھاری ہے اور تمھارے لبوں پر کوئی قفل موجود نہیں ہیں۔ تمھارے ہونٹ اور زبان بولنے کی آزادی رکھتے ہیں۔

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ بولنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ تمھارا جسم بھی اب تک سیدھا ہے اور تمھاری جان بھی پوری طرح آزاد ہے۔تمھارے جسم اور تمھاری جان پر محض تمھاری ملکیت ہے۔

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ لوہار کی دوکان میں لوہا سرخ دہک رہ ہے اور وہاں آگے کے شعلے بھی سرخ و تیز ہیں۔ایسے ہی تم بھی اپنے الفاظ کو اپنے خیالات کی بھٹی میں پکا کر تیار کرو۔

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ کہ زباں پر لگے تالے آہستہ آہستہ کھلنے لگے۔لوگوں کے جبڑے حرکت میں آئے۔ حق اور سچ کی طاقت کو دبانے کے لیے جو طاقتیں سرگرم تھیں۔ان کا دامن کسی آہنی زنجیر کی طرح پھیل کر سب کو جکڑے ہوئے تھا۔

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے

شاعر کہتا ہے کہ اس وقت جو تھوڑا بہت وقت بھی تمھارے پاس موجود ہے اس کا بہترین استعمال کرتے ہوئے بولو کہ تمھارے لب پوری طرح آزاد ہیں۔اس سے پہلے کہ تمھارے جسم اور جان دونوں کی موت واقع ہو جائے تم اپنے بولنے کی آزادی کا حق استعمال کرو۔حق کے لیے آواز بلند کرو۔

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ سچ کو دبانے کے لیے بہت سے لوگ جدو جہد کرتے ہیں لیکن سچ کبھی دبتا نہیں ہے۔وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔اسی طرح اب بھی حق و سچ اور انصاف کی جیت ہونا ہے۔ سچ اب بھی زندہ ہےاس کے لیے بس حق بات بولنے کی ضرورت ہے۔ تو اب وقت تمھارے ہاتھ میں ہے تمھیں جو کچھ کہنا ہے کہہ چکو۔

سوالوں کے جواب لکھیے:-

وہ کون سے حالات ہیں جن کے خلاف انسان کا بولنا ضروری ہے؟

انسان کا حق،سچ اور انصاف کے حق میں جبکہ جھوٹ، بے انصافی، بددیانتی وغیرہ کے خلاف بولنا ضروری ہے۔

بولنافوری طور پر کیوں ضروری ہے؟ اور اسے کیوں نہیں ٹالا جاسکتا ؟

فوری طور پر بولنا اس لیے ضروری ہے کہ بعد میں حق کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور اگر سچ کے خلاف آواز اٹھانے میں دیر کی جائے تو لوگ اس سچ کو جھوٹ بنانے اور اسے دبانے کی ہر ممکن کوشش میں لگ جاتے ہیں۔

تمام مخالفتوں کے باوجود ایک چیز بولنے والے کے حق میں ابھی باقی ہے، وہ کیا ہے؟

تمام مخالفتوں کے باوجود جو چیز ابھی بولنے والے کے حق میں باقی ہے وہ اس کے لبوں اور اظہارِ رائے اور خیال کی آزادی ہے۔

عملی کام:

نظم ”بول“ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس نظم میں فیض احمد فیض نے آزادی رائے اور خیال کے اظہار کی اہمیت کو باور کرایا ہے۔ اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر انسان کو بولنے کا حق ہے کیونکہ یہ زبان ابھی اسی کی ہے اور اس لبوں پر کوئی قفل موجود نہیں ہیں۔ اس کے ہونٹ اور زبان بولنے کی آزادی رکھتے شاعر لوگوں کو ان کے دل و دماغ اور جسم کی موت واقع ہونے سے پہلے آزادی خیال کا اظہار کرنے کا کہتا ہے کیونکہ سچ کو دبانے کے لیے بہت سے لوگ جدو جہد کرتے ہیں لیکن سچ کبھی دبتا نہیں ہے۔وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔اسی طرح اب بھی حق و سچ اور انصاف کی جیت ہونا ہے۔ سچ اب بھی زندہ ہےاس کے لیے بس حق بات بولنے کی ضرورت ہے۔ تو اب وقت تمھارے ہاتھ میں ہے تمھیں جو کچھ کہنا ہے کہہ چکو۔