• سبق : ماما عظمت
  • مصنف : ڈپٹی نذیر احمد
  • ماخوذ : مراۃ العروس

تعارفِ سبق

سبق ” ماما عظمت “ کے مصنف کا نام ”ڈپٹی نذیر احمد“ ہے۔ آپ اردو ادب کے پہلے ناول نگار ہیں۔ یہ سبق اردو ادب کے پہلے ناول ”مراۃ العروس“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

تعارفِ مصنف

شمس العلماء، خان بہادر مولانا نذیر احمد ضلع بجنور ہندوستان میں ۱۸۳۱ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، پھر تعلیم کا شوق آپ کو دلی لے آیا۔ یہاں آپ مولوی عبدالخالق کے حلقہ درس میں داخل ہوئے۔ دلی کالج سے آپ نے ادب، عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی اور آپ نے اپنی ذاتی محنت اور کوشش سے انگریزی کی تعلیم بھی حاصل کی۔

آپ نے ملازمت کا آغاز ضلع گجرات پنجاب سے مدرس کی حیثیت سے کیا۔ بعد میں ترقی کرکے انسپیکٹر مدارس ہوگئے، پھر تحصیلدار اور بعد ازاں افسر بندوبست ہوئے۔ اس کے بعد ریاست حیدرآباد چلے گئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے دلی میں آکر باقی زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ساتھ ناول لکھے جن ”مراۃالعروس، بنات النعش، توبۃالنصوح، ابن الوقت“ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کا انتقال ۱۹۱۲ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

اس سبق میں مصنف نے ماما عظمت کی کہانی بیان کی ہے جو مولوی صاحب کے گھر ملازمہ تھی اور اب مولوی صاحب لاہور سے آئے تھے تو وہ دکانداروں کا قرض اتار رہے تھے۔ مولوی صاحب پر لوگوں کا اتنا قرض چڑھنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ماما عظمت ان کے گھر کے نام سے راشن لاتی اور دوسرے گھروں میں بیچ دیتی تھی۔

ماما عظمت ایک چالاک اور مکار عورت تھی۔ اس کہانی میں اسکا کردار بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ ماما عظمت جس گھر میں کام کرتی تھی اسی گھر کا نقصان کرتی تھی۔ اس گھر کے نام سے سامان لا کر ہمسائیوں کو بیچ دیتی تھی۔ اور اسی گھر کے خرچے سے اپنی بیٹی کا گھر بھی چلا رہی تھی۔
پھرجب حساب کرتے وقت اس کی بےایمانی سب کے سامنے آئی تو وہ کہتی رہی کہ یہ سامان تو میں دوسرے گھر کے واسطے لے گئی تھی لیکن یہ دکاندار کی غلطی ہے کہ اس نے یہ حساب تمھارے حساب میں شامل کردیا ہے۔

ایک روز تو جو حساب ہوا سو ہوا، اب اگلے روز بزاز اور ہزاری مل کا حساب ہونا تھا۔ ماما رات کو بزاز کے پاس گئی اور ماما نے بزاز کو کہا کہ میں نے اپنے لیے تمھاری دکان سے مولوی صاحب کے نام سے بہت کچھ خریدا ہے اور اسے اپنی سولہ روپے کی چوڑیاں دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ایک روپیہ اس کا گھس گھسا کر کم ہوگیا ہوگا، یہ پندرہ روپے کی چوڑیاں رکھو اور باقی جو تین چار روپے بچیں میں دینے کو موجود ہوں گی۔ وہاں سے وہ بزاری مل کے پاس جاتی ہے اور بتاتی ہے کہ چار ماہ پہلے ہزاری مل کے سو روپے مولوی صاحب نے اسے دیے تھے جو اس سے خرچ ہوگئے ہیں اور اپنی بیٹی کے زیورات اسے دے کر اسے بھی ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اگلے روز وہ لوگ مولوی صاحب کے گھر آئے تو ماما بیچ بیچ میں بولنے لگی، بزاز اور ہزاری مل اس کی باتوں سے تنگ آگئے اور اس کا راز سب کے سامنے فاش کردیا۔ مولوی صاحب نے تو اپنے حصے کا قرض دکانداروں کو دے دیا اور ماما کے حصے کا حساب ماما نے اپنا گھر گروی رکھ کر دیا۔

ماما عظمت کے سبق سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لالچ بری بلا ہے اور اگر ہم کسی کا برا کریں گے تو ہمارے ساتھ بھی برا ہوگا اور کوئی ہماری عزت نہیں کرے گا۔

سوال 1 : مولوی صاحب پر لوگوں کا اتنا قرض چڑھنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

جواب : مولوی صاحب پر لوگوں کا اتنا قرض چڑھنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ماما عظمت ان کے گھر کے نام سے راشن لاتی اور دوسرے گھروں میں بیچ دیتی تھی۔

سوال 2 : ماما عظمت کیسی عورت تھی۔ اس کہانی میں اسکا کیا کردار بیان کیا گیا ہے؟

جواب : ماما عظمت ایک چالاک اور مکار عورت تھی۔ اس کہانی میں اسکا کردار بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ ماما عظمت جس گھر میں کام کرتی تھی اسی گھر کا نقصان کرتی تھی۔ اس گھر کے نام سے سامان لا کر ہمسائیوں کو بیچ دیتی تھی۔ اور اسی گھر کے خرچے سے اپنی بیٹی کا گھر بھی چلا رہی تھی۔

سوال 3: وہ اپنی بے ایمانی کو چھپانے کے لیے کیا بہانے تراشتی رہتی؟

جواب : جب اس کی بےایمانی سب کے سامنے آئی تو وہ کہتی رہی کہ یہ سامان تو میں دوسرے گھر کے واسطے لے گئی تھی لیکن یہ دکاندار کی غلطی ہے کہ اس نے یہ حساب تمھارے حساب میں شامل کردیا ہے۔

سوال 4 : اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بزاز اور ہزاری مل کو کس طرح ہموار کرنے کی کوشش کی؟

جواب : ماما نے بزاز کو کہا کہ میں نے اپنے لیے تمھاری دکان سے مولوی صاحب کے نام سے بہت کچھ خریدا ہے اور اسے اپنی سولہ روپے کی چوڑیاں دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ایک روپیہ اس کا گھس گھسا کر کم ہوگیا ہوگا، یہ پندرہ روپے کی چوڑیاں رکھو اور باقی جو تین چار روپے بچیں میں دینے کو موجود ہوں گی۔ وہاں سے وہ بزاری مل کے پاس جاتی ہے اور بتاتی ہے کہ چار ماہ پہلے ہزاری مل کے سو روپے مولوی صاحب نے اسے دیے تھے جو اس سے خرچ ہوگئے ہیں اور اپنی بیٹی کے زیورات اسے دے کر اسے بھی ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

سوال 5 : ماما عظمت کے سبق سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواب : ماما عظمت کے سبق سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لالچ بری بلا ہے اور اگر ہم کسی کا برا کریں گے تو ہمارے ساتھ بھی برا ہوگا اور کوئی ہماری عزت نہیں کرے گا۔

سوال ۲ : ماما عظمت کو پڑھ کر ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری کی کیا خوبیاں ہمارے سامنے آتی ہیں؟

جوب : ماما عظمت کو پڑھ کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد معاشرے کا بہت باریکی سے مشاہدہ کر کے معاشرے کے کرداروں کو اپنے ناولز میں متعارف کرواتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ڈپٹی صاحب کو گھریلو اشیاء کے بارے میں بھی کافی معلومات ہے اور وہ روانی سے اپنے جملے ادا کرتے ہیں۔ ان کے کردار کافی مضبوط ہوتے ہیں اور ہر کردار کی مناسبت سے ہی وہ اس کردار کی زبان کا چناؤ بھی کرتے ہیں۔

سوال ۳ : ذیل کے الفاظ اور محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

محاورےجملے
لینا دیناہمیں لینا دینا کرتے وقت کسی قسم کی خیانت نہیں کرنی چاہیے۔
علی الحساباگر ہم علی الحساب پیسے لٹاتے رہیں گے تو کبھی بھی ترقی نہیں کرسکیں گے۔
جی جل جاناعلی کے امتحانوں میں کم نمبر دیکھ کر اس کے والدین کا جی جل گیا۔
خاک میں ملاناہمیں کسی کی عزت کو خاک میں نہیں ملانا چاہیے۔
گھر پورا کرناہمیں کسی کی رقم سے اپنا گھر پورا نہیں کرنا چاہیے۔
پھٹکلہمیں اپنے پھٹکل کاموں کے لیے بڑوں کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔

سوال ۴ : اپنے چھوٹے بھائی کو خط لکھیے جس میں بے ایمانی اور بددیانتی کے نقصانات بیان کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی تلقین کیجیے۔

پیارے بھائی،
خوش رہو!
تم کیسے ہو اور باقی سب گھر والے کیسے ہیں؟ کافی دنوں سے تمھارا کوئی خط نہیں ملا تو سوچا آج تمھیں میں ہی خط لکھ دوں۔ پیارے بھائی آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر جانب بددیانتی کی ہوا چل رہی ہے۔ بڑے بڑے عہدوں پر موجود لوگوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے دکانداروں تک جب، جسے، جہاں موقع ملتا ہے وہ بددیانتی کرلیتا ہے۔
دکان والے سامان کم تولتے ہیں تو عہدےدار پیسے لے کر غیر قانونی کاموں کو کرنے کی بھی اجازت دے دیتے ہیں۔ طلبہ بھی ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کرتے اور نقل کر کے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔ پیارے بھائی یہ سب غلط ہے اور ہمیں نہ صرف اس کا دنیا میں نقصان ہوگا بلکہ ہماری آخرت بھی خراب ہوگی۔ اگر تم نقل کر کے امتحان پاس کرو گے تو تمھیں دراصل کچھ بھی نہیں آتا ہوگا اور تم کامیاب نہیں ہوسکو گے۔ اس لیے ہمیشہ ایمانداری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارنا تو اللہ پاک تمھیں سرخرو کریں گے اور تمھاری آخرت بھی بہتر ہوگی۔
مجھے امید ہے تم میری بات سمجھ گئے ہوگے۔ اس خط کا جواب ضرور لکھنا، تمھارے خط کا مجھے انتظار رہے گا۔
فقط تمھارا بھائی
ا – ب – ج

سوال ۵ : آپ ذیل جملوں میں روز مرہ کی غلطیاں درست کیجیے:

ان دنوں میں بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ میاں اپنے پر قرض چڑھانے سے کیا فائدہ۔ ہر معاملے کی نیچ اونچ دیکھ لیا کرو۔

جواب
” ان دنوں بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ میاں اپنے اوپر قرض چڑھانے سے کیا فائدہ۔ ہر معاملے کی اونچ نیچ دیکھ لیا کرو۔ “