خلیفہ مامون رشید

  • شریف وہ ہے جو بڑوں کو دبا لے اور چھوٹوں سے خود دبے۔
  • عقلوں کی لڑائی دیکھنے سے دنیا میں کوئی تماشا عمدہ نہیں۔
  • دلیل سے غالب ہونا میں بنسبت زور سے غالب ہونے کے زیادہ پسند کرتا ہوں۔
  • آدمی تین قسم کے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کی ہر وقت ضرورت ہے، بعض دوا کی مانند ہیں کہ خاص وقتوں میں ان کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض تو ایسے ہیں کہ بیماری کی طرح کسی بھی حال میں پسندیدہ نہیں۔
  • جوانوں کی کاہلی سپاہی کی بزدلی ہے۔
  • سب سے عمدہ مجلس وہ ہے جس میں لوگوں کے حالات سے واقفیت ہو۔
  • شریف کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے سے برتر لوگوں کے ظلم تو برداشت کرے لیکن اپنے سے کم تر لوگوں پر ظلم نہ کرے۔
  • میں عفودرگزر کو اتنا محبوب رکھتا ہوں کہ اگر مجرموں کو اس کا پتہ چل جائے تو ان کے دلوں سے خوف جاتا رہے اور بجائے خوف کے ان کے دل خوشی سے بھر جائیں۔
  • مال جمع کرنا آسان، لیکن اس کی نگہداشت کرنا دشوار ہے۔
  • گناہ اس قدر کم کر کہ ان کی عقوبت کی تاب لا سکے۔
  • جب تجھ پر غصہ غالب پائے تو خاموشی اختیار کر۔
  • کمینوں کے جواب کے واسطے حلم ایک لشکر ہے۔
  • خوشامدی شخص برائیوں اور بھلائیوں دونوں کو پسندیدہ بتلائے گا۔
  • اپنے تھوڑے کو دوسروں کے زیادہ سے بہتر جان۔
  • اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنا اپنی طرف سے لوگوں کا خیال خراب کرنا ہے۔
  • کونسا امر جمیل ہے۔ کم کہنا اور زیادہ کرنا۔



Close