• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر05:کہانی
  • سبق کا نام: چالاک گلہری

خلاصہ سبق:

اس سبق ایک کوے اور چالاک گلہری کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک کوا جس نے کہی سے یہ سن رکھا تھا کہ اخروٹ کا گودا بہت لذیذ ہوتا ہے مگر اس نے کبھی اخروٹ کھایا نہ تھا۔

ایک روز وہ ایک خشک میووں کی دوکان کے سامنے بیٹھا تھا۔جہاں سے گاہک بادام، کاجو، انجیر اور پستہ جیسے میوے خرید رہے تھے۔ ایک گاہگ نے جب اخروٹ مانگے تو کوے کے کان کھڑے ہوئے اس نے کہا اچھا تو یہ اخروٹ ہوتے ہیں۔ کوا اچانک اخروٹ والے برتن پر چھپٹا اور ایک اخروٹ لے کر اڑ گیا۔

Advertisement

کوا ایک درخت پر بیٹھ کر اخروٹ کو توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اخروٹ توڑنے کے لیے پہلے کوے نے چونچ سے کوشش کی جب نہ توڑ پایا تو اس نے اسے پانی میں بھگویا کہ ہوسکتا ہے نرم ہونے پر یہ جلدی ٹوٹ جائے مگر اس طرح بھی اخروٹ نہ ٹوٹا۔ اخروٹ نہ ٹوٹنے سے کوا خاصا مایوس ہو چکا تھا۔

ایک گلہری نے کوے کو پریشان دیکھا تو اس کے پاس آ کر وجہ دریافت کی۔ کوے نے تمام معاملہ گلہری کو بتایا تو گلہری نے کوے کو اخروٹ توڑنے کی ترکیب بتائی۔ گلہری نے کوے کو ترکیب بتائی کہ خوب اونچا اڑ کرکسی اونچی جگہ پر جاکر زور سے اخروٹ کو نیچے پھینکو جس سے پتھر سے ٹکرانے سے اخروٹ ٹوٹ جائے گا۔

کوے نے گلہری کی بات پر عمل کیا اور بلندی سے اخروٹ کو نیچے پھینکا۔ اخروٹ نیچے گرتے ہی ٹوٹ گیا۔ کوا جلدی سے نیچے کی طرف آنے لگا۔ جیسے ہی کوا نیچے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہاں اخروٹ کے چھلکے تو موجود تھے مگر اس کا گودا اور گلہری کا نام و نشان بھی نہ تھا۔

سوچیے اور بتایئے:

کوے کو اخروٹ کہاں سے ملا؟

کوے کو خشک میووں کی دوکان سے اخروٹ ملا۔

کوا مایوس کیوں ہو گیا تھا؟

اخروٹ نہ ٹوٹنے کی وجہ سے کوا مایوس ہو گیا تھا۔

اخروٹ توڑنے کے لیے کوے نے کیا ترکیب سوچی؟

اخروٹ توڑنے کے لیے پہلے کوے نے چونچ سے کوشش کی جب نہ توڑ پایا تو اس نے اسے پانی میں بھگویا کہ ہوسکتا ہے نرم ہونے پر یہ جلدی ٹوٹ جائے مگر اس طرح بھی اخروٹ نہ ٹوٹا۔

گلہری نے اخروٹ توڑنے کی کیا ترکیب بتائی؟

گلہری نے کوے کو ترکیب بتائی کہ خوب اونچا اڑ کرکسی اونچی جگہ پر جاکر زور سے اخروٹ کو نیچے پھینکو جس سے پتھر سے ٹکرانے سے اخروٹ ٹوٹ جائے گا۔

آخر میں اخروٹ کس کے ہاتھ لگا ؟

آخر میں اخروٹ گلہری کے ہاتھ لگا۔

اس کہانی میں کن کن میووں کے نام آئے ہیں؟

اس کہانی میں اخروٹ ، بادام، کاجو، انجیر اور پستہ جیسے میووں کے نام آئے ہیں۔

اس سبق میں آپ نے بہت سے محاورے پڑھے ہیں۔ محاورہ ایسے الفاظ ہوتے ہیں جو اپنے اصل معنی کے بجاۓ دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

نیچے دیے ہوئے محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

جوں کا توں رہنااس مرتبہ محنت کرنے کے باوجود علی کا نتیجہ جوں کو توں رہا۔
منہ میں پانی بھر آنالذیذ کھانے دیکھ کر میرے منھ میں پانی بھر آیا۔
خوشی سے اچھل پڑنا امتحان میں اول پوزیشن آنے پر علی خوشی سے اچھل پڑا۔
تاک میں ہونا بچے ہمیشہ کھیل کود کے موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔
کان کھڑے ہونااخروٹ کا نام سن کر کوے کے کان کھڑے ہوئے۔

نیچے لکھے ہوئے جملے پڑھیے:

  • آج ایک لذیذ پھل کھانے کو ملے گا۔
  • کوااپنی لمبی چونچ سے اخروٹ توڑنے لگا۔

ان جملوں میں لذیذ اور لمبی سے پھل اور چونچ کی خصوصیت ظاہر ہوتی ہے ۔ جو لفظ کسی چیز کی خصوصیت بتاۓ اسے صفت کہتے ہیں۔

سبق سے ایسے چار جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں صفت ہو۔

  • اخروٹ بڑا مزے دار پھل ہوتا ہے۔
  • اس کا سفید گودا باہر نکل آیا۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

مزے داربدمزہ
اونچانیچا
نرمسخت
بے وقوف عقل مند
آسانمشکل